مودی کی رخصتی
09 May 2019 2019-05-09

بھارت کا انتخابی عمل تقریبا مکمل ہونے کوہے۔ پانچ مرحلے گزر چکے اگر پولنگ کے عمل کا جائزہ لیں تو وزیر اعظم مودی کے لیے مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔معاملہ تو اس وقت واضح ہو گیا تھا جب گیارہ اپریل کو پہلا فیز مکمل ہوا۔ سال دو ہزار چودہ کے انتخاب میں مودی نے ہر طبقے کو متاثر کرنے والے نعرے چھوڑے۔نوجوانوں سے کہا کہ ان کے لیے کروڑوں نوکریوں کے منہ کھولے کھڑی ہوں گی۔کسانوں کے لیے بھی کافی کچھ تھا۔خواتین کے لیے بھی اس میں بڑی نمائندگی تھی ۔ کچھ نہیں تھا صرف مسلمانوں کے لئے نہیں تھا۔ انتخاب کا عمل شروع ہوا تو مسلم دشمن مودی کے لیے اس انتخاب میں کافی مشکلات تھیں ۔ جب بھارت کی سب سے بڑی ریاست یو پی جس کی لوک سبھا میں اسی سیٹں ہیں۔یہاں سماج وادی پارٹی،بہوجن سماج پارٹی،بی جے پی اور مسلمان یو پی میں بڑی سیاسی قوتوں کے طور پر موجودہ الیکشن میں ابھرے ہیں۔ لوک سبھا کے سولہویں انتخاب میںمودی لہر میں اتنا پیسہ چلا کہ ہر جماعت مودی لہر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔۔ مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اتنی پارلیمانی قوت کے حاصل کر لی تھیں۔ حکومت بنانے کے لیے اسے اپنے اتحادیوں کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی۔انتخاب جیتنے کے لئے سرمایا کاروں کا ایسا جھرلو چلا یہ سمجھ نہ آسکا کس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ا بی جے پی کے پلیٹ فارم سے ایک بھی مسلمان کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ خاص طور پر یو پی میں بیس فی صد آبادی رکھنے کے باوجود مسلمانوں کو کسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہونے کا موقع اس لیے نہ مل سکا کہ مسلم امید وار آپس میں لڑ پڑے۔وزیر اعظم مودی کے لیے مشکلات کا طوفان امڈتا ہوا آرہا ہے۔ حالیہ لوک سبھا الیکشن میں پورے ہندوستان میں ایک سو سے زیادہ نشستوں سے پیچھے رہیں گے، ان کونوجنوبی ریاستوں میں زبردست شکست ہونے جارہی ہے جہنوں نے ان کو بھارت کا وزیر اعظم بنایا تھا۔ جن میں اتر پردیش سب سے آگے تھا۔۔ خاص طور پر حکمران جماعت کو ہماچل پردیش،ہریانہ،پنجاب،دہلی، مدھیہ پردیش اور راجستان زبردست خسارے میں ہیں۔ مگر سب سے زیادہ پریشانی مودی کو اتر پردیش سے ہی ہے۔ اس صوبے میں پانچ مراحل گزر چکے ہیں،اس کے سا تھ ہی حکمران جماعت کی جانب سے الزامات اور دنگے کی سیاست شروع ہو گئی ہے۔ 12 مئی کو چھٹے مراحل میں یو پی میں ایک سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ چھٹے مرحلے میں بہار، بنگال، ہریانہ، اور دہلی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک کے بعد ایک کارڈ مودی سرکار کا مسترد ہو رہا ہے۔ پلوامہ سے کہانی شروع ہوئی بالا کوٹ تک پہنچی اپوزیشن نے سوالات اٹھائے تو ان کو غداری کی تہمت سہنا پڑی۔ جیسے جیسے مراحل گزرتے گئے ہوا اکھڑتی گئی۔ کانگرس ایک بار پھر بڑی قوت بن کر ابھری ہے۔ حکومت کی شکست کے دعوے ہو رہے ہیں اب بتایا جا رہا ہے کہ مودی مایا وتی سے مل کر حکومت بنائیں گے۔مگر مسلمانوں کی سیٹیں زیادہ ملنے کے امکانات ہیں۔ مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی پابندی لگی اب تو مودی سرکار نے سمجھ لیا کہ ان کے علاوہ کوئی دہشت گردوں کو قابو نہیں کر سکتا۔ یہ نعرہ بھی ہوا ہو گیا ہے امریکہ کے مسلسل مطالبے پر چین اقوام متحدہ کی کمیٹی کی جانب سے مسعود اظہر پر پابندی سے متعلق رکاوٹ سے پیچھے ہٹ گیا۔ہندوستان 2016 سے مسعود اظہر کا نام پابندی کی اس فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اس مطالبے نے اس وقت زور پکڑا، جب رواں سال 14 فروری کو ضلع پلواما میں ہندوستان کی سی آر پی ایف پر حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی ۔ہندوستان کی درخواست پر فرانس، امریکہ اور برطانیہ نے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد پیشکر دی تاہم 13 مارچ کو چین نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کے خلاف قرارداد کو ٹیکنکل اعتراضات لگا کر روک دیا تھا۔ چین کی مخالفت پر امریکہ مسعود اظہر کا معاملہ واپس یو این کمیٹی میں لے آیا، جہاں ایک صبر آزما سفارتی تگ و دو کے بعد اس کو بالآخر دہشت گرد قرار دیا گیا۔ہندوستان میں انتخابات کی گہما گہمی کے بیچ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ یقینا وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے اہم ہے۔ چونکہ مودی نے دیگر ایشوز کو پس پشت ڈال کر دہشت گردی تک ہی مرکوز کر دیا ہے، دلچسپ بات یہ ہے مودی کی لہر اس بار جم نہیں رہی۔ اور تو اور بھارت کی چار سیاست دان خواتین نے انتخابی مہم میں ٹف وقت دیا ہے۔ ۔ ان چار خواتین میں تین خود لوک سبھا کے انتخاب میں حصہ نہیں لے رہیں۔ ممتا بننر جی جو اس وقت بنگال کی وزیر اعلی ہیں۔وہ مودی کی سیاست کی زبردست ناقد ہیں مودی کی حکمرانی پر تابڑ توڑ حملے کر رہی ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ وزیر اعظم ہوسکتی ہیں مگر وہ وزیر اعظم بننے سے زیادہ بے جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے میں دلچسپی رکھتیں ہیں۔۔اس سے پہلے وہ بنگال میں کیمونسٹ پارٹی کو اقتدار سے ہی نہیں سیاست سے ہی باہر کر چکی ہیں۔ وہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو بھارت کی سلامتی اور سیکولر ازم کے لیے خطرہ قرار دے چکی ہیں۔ بلکہ انہیں ہٹلر کہہ رہیں ہیں۔ دوسری خاتون مایا وتی ہیں۔ جو سماج وادی پارٹی کی سربراہ اور دلت کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں وہ یو پی کی سب سے زیادہ بار وزیر اعلی اور راجیہ سھبا اور لوک سبھا کی ممبر رہی ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ تیسرے اتحاد کی جانب سے وزیر اعظم کی امید وار ہو سکتیں ہیں۔ مگر انہوں نے لوک سبھا کا ابتخاب ہی نہیں لڑا ا ب وہ کنگ میکر ہیں۔بے جے پی کوشکست دینے کے لیے وہ جارحانہ حملے کررہی ہیں۔2014کے لوک سبھا انتخاب میں ان کی جماعت کو عبرت ناک شکست ہوئی تھی۔ اس کے باوجود ان کی جماعت نے دو کروڑ سے زیادہ ووٹ لیے تھے۔اس بارانہوں نے اتر پردیش سے کامیابی حاصل کرنے کے لیے ملائم سنگھ یادو کی جماعت سے طویل سیاسی دشمنی ختم کرتے ہوئے مل کر الیکشن لڑ رہی ہیں۔اگر یوپی سے بی جے پی ہارتی ہے تو اس کا کریڈیٹ مایا وتی کو جا ئے گا۔ بھارت کے سیاسی افق پرابھرتی ہوئی نہرو خاندان کی نمائندگی کے ہوئے پرینکا گاندھی سیاست میں آگئی ہیں۔انہوں نے اپنے دھمیے انداز میں ہر جگہ مودی کو ناکام ثابت کیا۔ ان کے آنے سے کانگرس متحرک اور مضبوط ہوئی ہے۔ان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ مودی کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گی مگر ان کو پارٹی میںا نتخاب میں تیاری کے ساتھ میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے اپنے بھائی سے مل کر بھر پور مہم چلائی ان کا ٹارگٹ مودی ہی رہے۔ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی بھی مو دی اور کشمیر کے حوالے سے مودی کی بی ناقدبن کر ابھری ہیں۔ مگر مودی خود کو اب بھی چوکیدار سمجھتے ہیں۔


ای پیپر