لندن سے پرے
09 May 2019 2019-05-09

خیر چھوڑیں۔ وہ سامنے دیکھیں دور ایک بادبانی کشتی پانی میں ہلکورے کھا رہی ہے۔ فضا میں بگلے بے فکری سے اڑانیں بھر رہے ہیں۔ کسی بگلے کو ہلکی پھلکی بھوک ستاتی ہے تو وہ سیدھا سمندر میں ڈبکی لگاتا اور جو چونچ میں سمائے اسے مال مفت کی طرح اڑانے لگ جاتا ہے۔ ابھی سمندر سے ملاقات شروع ہی ہوئی تو سیاہ گھٹائیں امڈ آئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے چھاجوں مینہ برسنے لگا اور سر چھپانے کے لیے چھت ڈھونڈنے واپس دوڑ پڑے۔ وہ سامنے سیاحوں کے لیے بیٹھنے کی جگہیں بنی ہیں، وہیں چلتے ہیں۔ واقعی برطانیہ میں موسم کا موسم قابل بھروسہ نہیں۔ پھر سے ورک، ویدر، ویمن کے تین ڈبلیوز یاد آگئے۔

باہر تیز بارش ہو رہی ہے۔ اندر سیاحوں کو لبھانے کے لیے ویڈیو گیمز لگی ہیں۔ کیسینو بھی ہے۔ لوگوں کو پیسہ لگاتے دیکھ کر اسلام آباد کے مشہور صحافی شعیب بھٹہ کی کہی بات یاد آئی۔ بھائی!دیکھنے والے کو کچھ نہیں ملے گا، لگانے والے کو ملے گا۔ پیسہ لگاؤ، مال کماؤ۔ ہم ٹھہرے، جوا کسی کا نہ ہوا ،کے نعرے سن کر زندگی گزارنے والے۔ اس لیے منہ موڑ کر اکرم چودھری کے ساتھ اس شاپنگ ایریا میں گھومنے نکل پڑے۔ بارش رک چکی ہے۔ سورج پھر سے چمکنے لگا ہے۔چہرے کو سہلاتی سمندری ہوا میں خنکی کم ہے۔موسم پل پل بدل رہا ہے۔سمندر کے اوپر لمبی پٹی میں کھانے پینے کے اسٹال سجے ہیں۔ مختلف جھولے بھی ہیں۔ دکانوں کے دونوں طرف کرسیاں پڑی ہیں۔ جہاں بیٹھ سیاح سمندر کو دور تک تکے جا رہے ہیں۔ بظاہر پانی سے لبالب بھرا پیالہ، جس میں اک جہاں آباد ہے۔ انسانی دل وذہن بھی تو سمندر جیسے ہیں۔ زبان بولے ناں اور آنکھوں کا پیمانہ نہ چھلکے تو اک جہاں پوشیدہ رہتا ہے۔

تیز دھوپ دیکھ کر اکرم چودھری نے نعرہ لگایا۔ ایک گھنٹہ موسم ایسے ہی رہے گا پھر شاورنگ، بوندا باندی شروع ہو جائے گی۔ اس لیے آوارہ گردی ختم، باربی کیو شروع کیا جائے۔ چودھری کا حکم ٹالتے تو سب خسارے میں رہتے۔ واپس گاڑیوں کا رخ کیا تاکہ سامان ساحل تک پہنچایا جائے۔ ابھی سامان کی پکڑ دھکڑ شروع ہی کی تھی کہ پانچ شوخ و چنچل لڑکیوں کا ایک ٹولہ آن دھمکا۔ ایک کے ہاتھ میں کاغذ تھا اس نے وہ دکھا کر بتایا ہم نے کچھ ٹاسک پورے کرنے ہیں۔ان میں سے اپنے جیسے پانچ کے گروپ کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانا بھی ہے۔ اب بھلا کس ظالم کو اعتراض ہوتا۔ ہم پانچ، وہ پانچ، ملا جلا کر دس کی گروپ سیلفی کھینچی گئی۔ شوخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ مشترکہ قہقہہ لگا۔ ان کا ایک اور ٹاسک پورا ہوا۔وہ بھی خوش، ہم بھی خوش، وہ اپنی راہ، ہم اپنی راہ۔

کرسیاں اور کھانے پینے کا سامان سب نے دونوں ہاتھوں میں تھام رکھا ہے اور پتھروں پر سنبھل سنبھل کر پاؤں رکھتے ہوئے سمندر سے تھوڑی دوری پر کرسیاں لگا لیں۔ ساحل پر دور دور تک اکا دکا لوگ گھوم پھر رہے ہیں۔ بظاہر اس ویرانے میں ہم پانچ من چلے کرسیاں جمائے بیٹھے ہیں۔ لندن میں دو ہوٹل چلانے کا تجربہ رکھنے والے نے سگھڑ پنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگیٹھی سنبھال لی ہے۔ سب کو حکم دیا گیا ہے۔ باربی کیو بنانا سراسر ان کی ذمہ داری ہے۔ لہذا کوئی بیچ میں نہ آئے۔ یہ سن چودھری اختر نے بھی کرسی پکڑ لی لیکن چپ نہ ہوئے، رک رک کر مشورے دینے سے باز نہ آئے۔ انگیٹھی میں کوئلے دہکنے لگے۔ اکرم چودھری نے اسے ہوا دکھائی تو نے جملہ کسا۔ چودھری آگ لگا کر بھڑکانا بھی جانتا ہے۔ قہقہہ لگا لیکن وہ اکرم چودھری ہی نہیں جو چپ رہ جائے۔ جواب دیا لگی آگ کو بھڑکا تو سب لیتے ہیں۔اصل کام تو آگ لگانا ہے۔ سیخوں میں تکے چڑھاتے ہوئے اکرم چودھری ان کی خوبیاں بھی بیان کرتا رہا اور دعوی کیا کہ کھابوں کے شہر لاہور سے لندن تک آپ سب نے ایسے رسیلے تکے نہیں کھائے ہوں گے۔ پورا ایک دن پہلے سے مصالحوں میں رچے بسے تکے بتا رہے ہیں۔ چودھری کی بات پر کھانے سے پہلے اعتبار کر لو، یہی سچ ہے۔ ایسی باتوں سے سب کی بھوک مزید چمک اٹھی۔ اس دوران ایک بوتل سے دہی پودینے کی چٹنی اعظم چودھری اور مجھے کھانے کو دی گئی۔ دعوی وہی ایسا ذائقہ پہلے کھایا ہو تو بتاؤ؟ دل سے آواز آئی، بالکل نہیں۔ تکے آگ پر پک رہے ہیں اور موسم ایک بار کروٹ بدل رہا ہے۔ میں چپ چاپ اٹھا اور سمندر کے پاس چلا آیا۔ اردگرد خاموشی ہے، بس سمندر بول رہا ہے۔ لہریں ساحل سے سر پٹخ کر واپس جارہی ہیں۔ قریب کا پانی سفید ہے اور دور کا قدرے سیاہی مائل۔ پانی تو نزدیک دور ایک جیسا ہی ہے، بس یہ نظر دھوکا کھا رہی ہے۔ جیسے ہم آپ کی اکثر کھا جاتی ہے۔ اس کے لیے سمندر، صحرا ضروری نہیں۔ انسانوں کے جنگل میں تو کچھ لوگوں چشمے کا گمان ہوتا ہے، قریب جانے پر وہ سراب نکلتے ہیں۔آتی جاتی لہروں کو دیکھ کر دل مچلا۔ ٹھنڈ یے تو کیا ہوا، انہیں چھوا جائے۔ ہاتھ نہ سہی، انگلیاں ہی ڈبو لی جائیں۔ پاؤں یں جوگر سہی، لہروں کو لپٹنے تو دیا جائے۔ لہروں کہاں تک آ رہی ہیں۔ کچھ اس کا دھیان کیا اور دوتین قدم آگے بڑھ آیا۔ جیسے ہی آگے آیا، پہلے سے ایک بڑی لہر آئی اور سارے جوگر بھگو گئی۔ شریر سمندر کا مذاق ٹھہرا، ہماری روح تک سردی کی لہر دوڑ گئی۔ ہم الٹے قدموں بھاگے تو لہروں کا شور سمندر کا قہقہہ بن کر گونجنے لگا۔ شریر کہیں کا۔

ہمیں واپس آتا دیکھ کر چاروں چودھریوں نے سوالیہ انداز میں تکنے لگے۔ سمندر کی کارستانی بتائی تو جواب میں نصیحتوں کے بجائے فکرمندی ملی تو اچھا لگا۔ واقعی دوست ہوں تو ایسے۔ مشکل میں مشورے نہ دیں ساتھ دیں۔ جلدی سے گیلے جوگر اتارے اور اضافی لائے گئے پلاسٹک کے سینڈل پہن لیے۔ سردی بڑھتی جارہی ہے۔ اتنے میں اکرم چودھری نے سب کو گرما گرم تکوں سے بھری ایک ایک سیخ تھمائی اور حکم صادر کیا۔ پلیٹ کا استعمال ممنوع ہے۔ باربی کیو کو عزت دو اور سیدھا سیخ سے اتار کر کھاؤ۔ موسم اور بھوک کے ماروں نے کچھ کہے بغیر ہاتھ تکے اتارنے کے لیے بڑھا دیا۔ واقعی جیسا کہا تھا چودھری نے، تکے ویسا ہی نرم اور رسیلا پایا۔ بوٹی منہ میں رکھتے ہی گھل سی گئی۔ سب کے منہ سے واہ، واہ، کیا بات ہے، کمال کردیا چودھری، واقعی ایسے تکے کبھی نہیں کھائے ،کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔اکرم چودھری بھی تعریف سن کر تکوں کی ذاتی ترکیب کے گن گانے لگا۔ اعظم چودھری انہیں نیا کام چھوڑ کر تیسری بار ہوٹل بنانے اور چلانے کے لیے اصرار کرنے لگے۔ یہ تک کہا یہ تکے لے کر لاہور آجاؤ، سب کی تکا بوٹی کر دوگے۔ اس قصیدہ گوئی میں گرما گرم تکے معدے میں اترتے جا رہے ہیں۔ دل لگتی کہوں، واقعی یہ ایسے تکے ہیں جو نہ کھائے وہ پچھتائے اور ہم جیسا ایک بار کھالے وہ دوبارہ نہ ملنے تک پچھتائے۔

چکن بوٹی کے سیخوں پر مٹن چانپیں چڑھائی جارہی ہے۔ انگھیٹی دہک رہی ہے اور موسم یخ ہوتا جارہا ہے۔ شاورنگ ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔ مبین چودھری اور اعظم چودھری ایک ایک گاڑی تک چلے گئے ہیں۔ پیچھے ہم تین بچے ہیں۔ دو چودھری ایک آدمی۔ چانپیں پکنے میں دیر ہے۔ میں موسم کی پروا کیے بغیر دوبارہ سمندر کے پہلو می آگیا۔ کئی درجن بگلے کنارے پر قطار بنائے بیٹھے ہیں۔ لگتا ہے دن بھر کی تھکان اتار رہے ہیں۔ سوکھے راوی دریا کے شہر لاہور سے آئے اجنبی کے لیے یہ منفرد نظارہ تھا۔ دور کھڑے ہوکر موبائل فون کر کیمرہ نکالا اور تصاویر لینے لگا۔ اس دوران احساس ہوا میرے قریب آنے بگلے گھبرائے نہیں۔ اس پر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا میں اور قریب چلا آیا۔ ساحل،اس پرقطار بنائے بیٹھے بگلے، لہریں، سمندر، بادل، بارش، کیمرے سے کلک کی آواز آئی اور یہ منظر ہمیشہ کے لیے ٹھہر سا گیا۔ سوچا ان بے پروا اور نڈر بگلوں کے ایک سیلفی بھی بنائی جائے۔ سیلفی موڈ آن کیا۔ بٹن پریس کرنے سے پہلے بیٹری آف کی آواز آئی اور موبائل فون آف ہوگیا۔ جانتا تھا یہ بیٹری کا مسئلہ نہیں، اصل میں ظالم موسم کو ہماری دل لگی ایک آنکھ نہیں بھائی۔اس نے بیٹری کو جامد کردیا۔دھت تیرے کی۔

رقیب روسیاہ بنے سیاہ بادلوں کو گھورتے ہم واپس دوستوں کی مچان پر آگئے۔ اعظم چودھری نے جملہ اچھالا۔ ظہیر! بار بار سمندر کے پاس جاتے ہو، کچھ لینا دینا تو نہیں؟ کہا، کیا بتاؤ! سمندر بولتا ہے، اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اگلا جملہ آنے سے پہلے ہی مبین چودھری نے دور سمندر کنارے چہل قدمی کرتے ایک شخص کی طرف توجہ دلائی۔ وہ دیکھو! تیرے جیسا ایک اور سیلانی۔ بات قہقہے میں اڑگئی۔ مٹن چانپیں تیار ہو چکیں۔سیخیں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ ٹھنڈا ٹھار موسم اور گرما گرم چانپیں۔ بالکل ویسی نرم ملائم، پہلے کھائی تکہ بوٹی جیسی۔ بس پھر وہی ماحول دہرایا گیا۔

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

اکرم' تکہ چانپ ' کے سب اسیر ہوئے

کھانے پینے کا یہ دور واہ واہ کے ساتھ جیسے ہی اختتام کو پہنچا۔ چودھری اختر نے آواز لگائی۔ ابھی تو آم باری شریکوں کو بتانے کے لیے۔ پاکستان والو! آپ ابھی انتظار کرو۔ ہم تو مینگو پارٹی کر بھی چکے۔آم ٹھنڈے کرنے کے لیے برف کی ضرورت پڑتی جب گرمی ہوتی۔ ساحل پہ تو سرد ہوا کا راج ہے۔ ایک کے بعد دوسرا، تیسرا آم چوس چوس کر کھایا گیا۔ یاددہانی کے لیے تصویر بھی بنائی۔پھر وہی ہوا۔ آم کی بوتل کی طرح جب مزا آنے لگا، آم کی ٹوکری خالی ہو گئی۔

اردگرد برائٹن سٹی کی عمارتوں پر جگمگاتی روشنیوں نے احساس دلایا۔ دن کب کا ڈھل چکا۔ شاماں پے گئیاں نیں۔ گھڑی دیکھ کر پتہ چلا۔ شام نہیں رات ڈھل رہی ہے۔ واقعی خوشی کے پل وقت کو پر لگا دیتے ہیں۔ جلدی جلدی سامان سمیٹا۔ کچرا ایک بیگ میں ڈال کر کوڑے دان تک پہنچایا۔ گاڑیوں میں بیٹھنے لگے کہ چودھری اختر نے یاد دلایا۔ گھر سے جو زردہ بنوا کر لایا تھا وہ کھانا تو ابھی باقی ہے۔ بھرے پیٹ ہونے کے باوجود زردے نے اپنے مزیدار ہونے کا احساس دلایا۔ 12 گھنٹے تک باہر رہنے کے باوجود کسی کے چہرے پر تھکن کا نام ونشان نہ تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت سامنے ہے۔ ہمیں واپس لندن جانا ہے۔ ہم کیا سب کو ہی لو ٹ جانا ہے۔ بس اتنا ہے۔یار زندہ صحبت باقی۔ (ختم شد)


ای پیپر