معاشرتی تجسّس
09 May 2019 2019-05-09

جب بھی چائے میں کوئی مکھیّ گر جائے تو کسی بھی ذی شعور شخص کے ذہن میں یہ چند بنیادی سوالات ضرور جنم لیتے ہیں:

ا۔کیا مکھی ّنے چائے کو (Hot Water Pool)یا گرم سوئمنگ پول تصور کرتے ہوئے چھلانگ لگائی ؟

۲۔ کیا مکھی ّکی کوئی قیمتی چیز چائے میں گری مثلاً ہا ر وغیرہ اور مکھی ّنے اُس کی تلاش میں چھلانگ لگائی؟

۳۔کیا مکھی ّنے کسی انٹر نیشنل مکھی ّمقابلہ تیراکی کی پریکٹس کے لیے چائے کے گرم گرم پیالے کو منتخب کیا ؟

یا پھر مکھی نے باعث تجسّس ، یا صرف چائے کو چکھنے کے لیے منہ آگے کیا اور اپنے ہی زور میں گر کر ناگزیر وجوہات کی بنا پر باہر نہ نکل پائی ؟

(تمام مکھیوّں / مکھوّں سے معذرت)

یہ بات تو طے ہے کہ اگر مکھی ّنے باعث تجسّس (نادانستہ طور پر ) چائے کے پیالے کے بارے میں ریسرچ کرنے یا کھوج لگانے کی کوشش کی تو یقینا اُس کو اس تجسّس کا وہ نتیجہ حاصل نہ ہوا جس کی غالباً اُسے خواہش تھی۔

تجسّس انسانی فطرت کا ایک لازمی عنصر ہے اور آج کی دنیا میں ، بلکہ شائید قدیم وقت سے ، جتنی بھی ریسرچ ہو رہی ہے اُس کی وجہ کوئی نہ کوئی ایسا شخص رہا ہے جس کو سوال ، خیال ، سوالوں کے نہ ملنے والے جوابات ، دن ، دوپہر، رات یا اور کسی بھی مناسب وقت پر سونے نہیں دیتے (یا قیلولہ کرتے ہوئے یکدم اُٹھا دیتے ہیں)۔ تجسّس کے لفظی معنی دریافت کرنے کی خواہش کے ہیں۔ عام طور پر تجسّس کی حس کم عمری سے ہی بیدار ہو جاتی ہے۔ معصومیت سے رینگتے ہوئے بچوّں کے پیچھے بھاگتے ہوئے گھر والے جو ان کو دن میں متعدد بار سیڑھیوں کے قریب سے یا سوئچوں میں انگلی ڈالنے کی کوشش سے دور رکھنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں اس ’’ تجسّس ‘‘کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔

ہم نے بھی کم عمری میں اپنے اندر تجسس کو بیدار ہوئے محسوس کیا اور :۔

امتحان کے دوران دوسرے کا پرچہ دیکھنے کا تجسّس ہوا ۔

بجلی کی ننگی تار کو بغیر ربر کی چپل پہنے ہاتھ لگانے کا بھی تجسّس ہوا ۔

نوٹ:۔کرنٹ کھانے کے بعد طبیعت بھی سیٹ ہوئی اور تجسّس میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی )۔

گرم استری کو ہاتھ لگانے یا سب سے قیمتی سوٹ جلانے کے بعد استری کے گرم ہونے یا نہ ہونے کا ’’ تجسّس ‘‘ سبھی ان بنیادی تجربات و مشاہدات کا حصہ ہیں ۔ گرم دودھ یا سوپ سے زبان جلانا اُسی تجربہ کی ایک اور قسم تھی جو کہ ہم نے بڑی کامیابی سے آزمائی اور کسی کسی وقت آج بھی اُس کی یاد ’’ذہنی خیالات ‘‘سے نہیں بلکہ ’’جلی ہو ئی زبان ‘‘سے تازہ جاتی ہے۔ لیکن شائید تجسّس کی یہ دنیا یہاں تک ہی محدود نہیں اور گو کہ ریسرچ کا اہم حصہ مگر اس کا ایک اور قسم کا استعمال بھی اکثر دیکھنے میں آیا ہے۔ ذرا بتائیے گا کہ یہ جملے آپ نے کہیں پہلے سنے ہیں اور آپ کو جانے پہنچانے لگتے ہیں؟:

بڑی شاپنگ کر رہی ہے آج کل یہ ساتھ والی پیسے کہاں سے آرہے ہیں؟

’’ذرا پتہ تو کرویہ سامنے والے جاتے کدھر ہیں روز شام کوــ‘‘؟

’’یا ر تم نہ Watsappپر shareکرتی ہو یا facebookپر میری پوسٹ کو لائق (like)کرتی ہو۔ کیا چکر ہے ‘‘؟

’’سب لوگ توClock-wiseواک کر رہے ہیں تو آپAnti-clock wiseکیوں اواک کر رہی ہیں پارک میں؟ ‘‘(یہ معصومانہ مگر سچا سوال ہے اور ایک خاتون نے دوسری سے چند دن پہلے ہی پوچھا ہے جبکہ پارک میں ایسی کوئی پابندی نہیں)۔

سوچنے کی بات ہے کہ ہماری پاس دوسروں کی کھوج لگانے کیلئے کتنا وقت ہے ؟ کوئی اچھا لگ رہا ہے تو کیسے ، اور برا لگ رہا ہے تو کیوں ؟اور لوگ اپنی نجی زندگیوں میں کس طرح مصروف عمل ہیں اگر ہم جان بھی لیں تو شائید ہمارے لیے (ماسوائے ایک مصالحہ دار گپ کے ) بہت زیادہ فائدہ مند نہ ہو۔

سوچنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ آج کل کی مصروف زندگیوں میںاگر دن کے24گھنٹوں کا اعادہ کرنے کی کوشش کریں تومعاشی یا تعلیمی سرگرمیاں(6سے 8گھنٹے ) +نیند (8گھنٹے)+ گھر والوں کو وقت دینا( سار بھی دے دیں تو تھوڑا ہے ) کے بعد اگر کچھ وقت پھر بھی بچ جائے تو اُسے بہتر انداز سے صرف کرنے کے لیے کوئی صحت مند مشغلہ، یا کھیل یا کتاب بینی سے اپنی ذہنی و جسمانی نشوونما پر دھیان ، توجہ اور خیال شائید ہمارے لیے زیادہ سود مند ہو۔ کسی دوسرے کی کھوج میں لگے رہنا، یا اُس کے بارے میں غیر ضروری طور پر تجسّس رکھنا دنیا کے کئی ممالک ا ورمعاشروں میں جرم کا درجہ اختیار کر چکا ہے ۔ اُسی طرح کسی کے عیب جاننے کی کوشش یا بلاوجہ و جواز کسی کی جاسوسی کرنا، دینی اور دنیاوی، غرض کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔

ایک جدید ریسرچ کے مطابق تجسس کی پانچ بنیادی اقسام ہیں۔

ا۔ Joyous Explorationیا’’ مسرّت بھری تلاش ‘‘اس قسم کی تجسّس میں سیکھنے کے عمل سے خوشی محسوس ہوتی ہے۔

۲۔ Deprivation Sensitivityیا ’’حسّا سیت معزولی ‘‘جس میں تشویش کا عنصر کثرت سے پایا جاتا ہے اور نہ جانتے سے کچھ کمی رہتی ہے۔

۳۔ Stress Toleranceیا ’’ذہنی دبائو کی برداشت ‘‘، جس میں انسان ہر قسم کے ذہنی دبائو کے لیے تیار رہتا ہے ، خاص طور پر وہ دبائو جو کسی چیز کو جاننے کے بعد جنم لیتا ہے۔

۴۔ Social Curiouityیا ’’ معاشرتی تجسس ‘‘۔یہ قابل غور ہے اور کہیں کہیں ہمارے معاشر ے میں بھی سر اُٹھاتا نظر آتا ہے۔ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ کیا سوچ رہے ہیںاور اس مقصد کے لیے ان باتوں کی کھوج اسی زمرے میں آتا ہے۔

۵۔ Thrill Seekingیا ’’جوش کا طلبگار‘‘۔ وہ لوگ جو معاشی، جسمانی یا معاشرتی خطرات صرف اس لیے مول لے لیتے ہیں تاکہ اُنہیں ایک منفرد تجربہ کا موقع ملے۔ Bunjee Jumpingجس میں رسی سے بندھ کر انتہائی بلندی سے چھلانگ لگائی جاتی ہے ۔ اسی قسم کی مثال ہے یاد رہے کہ Bunjee Jumpingاگر آپ کو کسی فلمی گانے میں ’’لک نوں ہلا‘‘ سے ملتا جلتا محسوس ہوتواُس کی وجہ صرف یہ ہے کہ Bunjee Jumpingمیں ’’پنجابی کے لک ‘‘اور ’’انگریزی کے luck‘‘(قسمت )دونوں کی ہی بڑی اہمیت اور ضرورت ہوتی ہے۔

سو قارئین دوسروں کے لیے پریشان ہونا تو ایک انتہائی نیک عمل ہے اور قابل تعریف و ستائش بھی۔ لیکن دوسروں کی بلاوجہ کھوج لگانا، سو لگانا یا عیب تلاش کرنا کسی اعتبار سے بھی مناسب نہیں۔ کبھی کبھار کیا بلکہ شائید بسا اوقات یہ عین ممکن ہے کہ یہ بات اُس شخص کے علم میں آجائے اور انجانے میں اُس کی دل آزاری ہو جائے۔

تونے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا

میں ہی تو ایک راز تھا سینئہ کائنات میں!

(علامّہ اقبال ؒ)


ای پیپر