چندا ۔او چندا۔۔
09 May 2019 2019-05-09

دوستو، اس بار بھی رمضان المبارک کی شروعات چاند کے تنازع سے ہوئی، خیبرپختونخوا سمیت کئی علاقوں میں ایک دن پہلے ہی روزہ رکھ لیا گیا جب کہ باقی لوگوں نے منگل کے روز پہلا روزہ رکھا۔۔ سمجھ نہیں آتا کہ چاند پر اتنے پھڈے کیوں ہوتے ہیں۔۔مسجداور مدرسے والے ـ’’چندہ‘‘ اور نوجوان لڑکوں کی ’’ چندا ‘‘ پر تو اکثر پھڈے، جھگڑے اور سرپھٹول دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں لیکن ہر سال رمضان کا آغاز ہی اس بحث سے ہوتا ہے کہ چاند نظر آگیا، چاند نظر نہیں آیا۔۔

ہمارے پیارے دوست نے ہمیں واٹس ایپ کیا، جس میں چاند کے تنازع کے حوالے سے بہت خوب صورت مگر فکر انگیز تحریر تھی۔۔وہ لکھتے ہیں کہ۔۔گوادرمیں چاند دکھائی دے تو پورے ملک میں روزے کا اعلان ہوتا ہے۔ یعنی گوادرسے دو ہزار تین سو چھ کلومیٹر دور گلگت کے مسلمان بھی یہ شہادت تسلیم کرتے ہیں جہاں چاند نظر نہیں آیاہوتا۔ یہاں اصول یہ طے ہواکہ ہرعلاقے میں چاند نظر آنے کی ضرورت نہیں بلکہ کسی ایک مقام سے چاند کی شرعی شہادت لازم ہے۔تو پھر مکہ، مدینہ، بیت المقدس، استنبول اور کابل کے چاند کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا؟کیا زمین پرمصنوعی لکیروں سے اللہ کے احکامات بھی بدل جاتے ہیں؟اگر کل یہ تمام شہر ایک اسلامی مملکت کا حصہ بن جائیں تو کیا پھر بھی ان شہروں میں رمضان کا چاند نظر آنے پر ہمارے ہاں روزہ نہیں ہو گا؟دنیا میں لکیریں بدلتی رہیں اور بدلتی رہیں گی۔ کیا دین کے اصول بھی لکیروں کیساتھ بدلتے رہیں گے؟کیااللہ کے احکامات تصوراتی لکیروں کے تابع ہیں؟کیا یہ کوئی کھیل تماشا ہے کہ لکیریں بدلیں تو اللہ کے احکامات کا دائرہ کار بھی بدل جائے؟ہرگز نہیں۔امت ایک ہے تو اس کا چاند بھی ایک ہے۔ایک اور نکتہ۔۔۔اگر لائیو ٹرانسمیشن میں مکہ، مدینہ النبی، استنبول یا کابل سے رمضان المبارک کا چاند دکھایاجا رہا ہو اور پوری امت نظارہ کررہی ہو تو اگلے دن ایک مسلمان کو کیا کرنا چاہئے؟

باباجی نے روزوں کے حوالے سے بہت دلچسپ بات بتائی۔۔فرماتے ہیں۔۔گاڑیاں جب خریدی جاتی ہیں تو اسے بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے گاڑی کے حوالے سے کچھ احتیاطیں بھی بتائی جاتی ہیں مثال کے طور پر کہاجاتا ہے کہ ۔۔ گاڑی کا انجن آئل پانچ ہزار کلومیٹر کے بعد بدلا جائے ، دس ہزار کے بعد فلٹر بدلا جائے۔ بیس ہزار کے بعد ٹیوننگ کرائی جائے ،وغیرہ وغیرہ۔۔۔ گاڑی خریدنے والا کوئی بھی انسان یہ نہیں پوچھتا کہ ایسا کیوں کیا جائے؟؟ کیوں کہ ہمیں پتہ ہے کہ گاڑی بنانے والے بہتر جانتے ہیں کہ اسے کس طرح ’’ مین ٹین‘‘رکھنا ہے ۔اسی طرح وہ مالک جو ہمارا خالق یعنی ہمیں بنانے والا ہے،کیا یہ بات نہیں جانتا کہ گیارہ ماہ بعد ہمیں ٹیوننگ کی ضرورت ہوگی، یہ ہمارے ہی فائدے کے لئے ہے، بصورت دیگر ہماری ’’اسموتھ رننگ‘‘ میں خلل واقع ہو سکتا ھے،کسی کو یہ کہہ کر روزے سے مت روکیے کہ ۔۔ صحت دیکھو اپنی، پہلے ہی کتنے کمزور ہو۔۔روزہ رکھ لیا تو کام کیسے کروگے ۔۔پڑھا نہیں جائے گا روزہ رکھ کر،وغیرہ وغیرہ۔۔خالق پر بھروسہ رکھیں، وہ خوب جانتا ہے کہ انسانی مشین کیسے چلے گی۔۔

لیجنڈ مزاح نگارمشتاق یوسفی اپنی کتاب چراغ تلے میں رمضان المبارک کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ۔۔’’اس زمانے میں ایئر کنڈیشننگ عام نہیں تھی۔ صرف ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز ایئر کنڈیشنڈ ہوتے تھے لیکن اس سے مستفید ہونے کے لئے پہلے بے ہوش ہونا ضروری تھا البتہ سنیما ہال میں یہ شرط نہیں تھی۔ لہٰذا رمضان کے مہینے میں کوئی فلم قضا نہیں ہوتی تھی۔ اس عمل کو روزہ بہلانا کہتے تھے۔ ضمیر جعفری کہتے تھے آپ لوگ فلم کو چسنی کی طرح استعمال کرتے ہیں، جب کہ محمّد جعفری فرماتے تھے کہ ایسے ویسے سین کے بعد اگر تین مرتبہ قرات سے لاحول پڑھ لی جائے تو معافی و مغفرت کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ وہ بڑا غفور الرحیم ہے۔‘‘ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔روزہ ایک آزمائش اور امتحان ہے جس میں بہت سی سختیاں ہیں اور ان میں سے بہت سی سختیاں طبی حوالے سے بھی ہیں۔ جیسے نماز ایک عبادت ہے، یوگا کی مشق نہیں ہے کہ اس سے گھٹنوں کے مرض ٹھیک ہو جائیں اسی طرح روزہ بھی ایک عبادت ہے، بیماریوں کی دوا نہیں ہے۔خان صاحب نے روزے کے دوران جب اپنے محلے کی مسجد کے امام صاحب سے مسئلہ دریافت کیا کہ۔۔مولی صیب،کیا جنت میں نسوار ملے گا؟؟ ۔۔مولوی صاحب نے اپنی ریش مبارک پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا۔۔ہاں ضرور، لیکن اسے تھوکنے کے لئے جہنم میں جاناپڑے گا۔۔

اب ایک دلچسپ قصہ بھی سنتے جائیے۔۔کسان اپنے گدھے کو اپنے گھر کے سامنے باندھنے کیلئے ہمسائے سے رسی مانگنے گیا تو ہمسائے نے انکار کرتے ہوئے کہا۔۔ رسی تو نہیں ہے میرے پاس، مگر ایک بات بتاؤں، جا کر عمل کرو تو رسی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہمسائے نے کہا، اپنے گدھے کے پاس جا کر بالکل ایسی حرکتیں کرو جیسے رسی کو گردن میں ڈال کر کستے اور پھر کھونٹی کے ساتھ باندھتے ہیں، دیکھنا گدھا بغیر کوئی حرکت کیئے ویسے ہی کھونٹے کے پاس کھڑا رہے گا۔۔کسان نے واپس آکر گدھے کے پاس جا کر ہمسائے کی نصیحت پر عمل کیا اور گھر میں جا کر سو گیا دوسری صبح باہر جا کر دیکھا تو گدھا ویسے کا ویسا کھونٹے کے پاس بیٹھا ہے۔۔کسان نے گدھے کو ہانک کر کام پر لے جانا چاہا تو نئی افتاد آن پڑی کہ گدھا اپنی جگہ سے ہلنے کو تیارنہ ہوا۔کھینچنے، زور لگانے اور ڈنڈے برسانے سے بھی کام نہیں بنا تو ہمسائے سے جا کر کہا۔ ۔بھئی تیری نصیحت باندھ دینے تک تو ٹھیک تھی مگر اب میرا گدھا کام سے تو جاتا رہا ہے، اب کیا کروں؟ہمسائے نے پوچھا۔۔ آج کام پر جانے سے پہلے کیا تو نے پہلے اس کی گردن سے رسی کھولی تھی؟ کسان نے حیرت سے کہا۔۔ کونسی رسی؟ میں نے تو بس رسی باندھنے کی اداکاری کی تھی، اصل رسی تھوڑا باندھی تھی؟ہمسائے نے کہا۔۔ ہاں تیرے نقطہ نظر سے تو رسی نہیں ہے، مگر گدھے کے حساب سے تو رسی بندھی ہوئی ہے ناں۔۔کسان نے واپس جا کر گدھے کی گردن سے اور بعد میں کھونٹے سے رسی کھولنے کی اداکاری کی، اس بار گدھا بغیر کسی مزاحمت کے مالک کا کہنا مانتے ہوئے کام پر چلا گیا۔گدھے کے اس رویئے پر ہنسنے کی ضروت نہیں ہے، ہم خود کئی بار اپنے رسم و رواج۔ عادات، تقلید اور سیاست کے غلام ہوتے ہیں، خاص طور پر کئی وہمی اعتقادات کے غلام۔ ہمیں بھی کئی بار اس بات کی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ اْن خفیہ اور غیر مرئی رسیوں کو تلاش کریں جو ہماری گردن کو اپنے شکنجے میں جکڑے ہمیں آگے بڑھنے سے روکے رہتی ہیں۔


ای پیپر