”نظام الدین؟ “
09 May 2019 2019-05-09

ہمالیہ سے اونچی اور سمندروں سے گہری دوستی والے اگر چاہتے تو کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ پاکستان کی محبت میں درجنوں قربانیاں روزانہ کی بنیاد پر دینے والے کشمیریوں کو بھارتی ظلم و استبداد سے آزاد کرانا کیسے اور کیونکر ناممکن تھا۔

اقوام متحدہ میں یہ واحد تنازع ہے جو طویل ترین انتظار و انتشار کے باوجود بھی ابھی تک ”لاینحل“ بنایا ہوا ہے، چین کے بارے میں اگر بے لاگ اور بغیر لگی لپٹی کے بات کریں تو زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین تجارتی، معاشی اور اقتصادی لحاظ سے ”عالمی تجارتی شیخ“ بنا ہوا ہے قارئین شیخ ان مسلمانوں کو کہتے ہیں جو ہندوﺅں سے مسلمان ہوئے ہوتے ہیں اور ان میں سے بیشتر کا تعلق تجارت سے ہوتا ہے۔

چونکہ چین کی بھارت کے ساتھ خصوصاً آئی ٹی کے شعبے میں اربوں کی تجارت ہے تو وہ کسی بھی صورت میں بھارت کو ناراض نہیں کر سکتا۔

ہمیں توخدا کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ جس نے جغرافیائی طور پر پاکستان کو اس جگہ پر بنایا ہے کہ گرم پانیوں تک پہنچنے کی دیگر ممالک کی تڑپ اور منافع کی چمک ان کی آنکھوں کو چندھیائے ہوئے ہے۔

لہٰذا پاکستان کے ساتھ استواری تعلقات، چین روس کی کسی حد تک اور ازبکستان آذربائیجان وغیرہ کی مجبوری ہے اور خاص طور پر بھارتی بندرگاہ چہار بہار کے باوجود بھی سی پیک کے حوالے سے اور اپنا مال عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے پاکستان واحد سستا راستہ ہے۔

گوجیسا کہ میں پہلے بھی کہتا رہتا ہوں کہ سی پیک کے فوائد کے ساتھ ساتھ اتنی قباحتیں ہیںکہ جو یکے بعد دیگرے اپنے رونمائی پر مجبور ہو جائیں گی اور ہمارے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

آج کل چینی لوگوں کا یہاں خصوصاً مسیحی خاندانوں میں شادیوں کا جو رواج چل پڑا ہے اسے روکنے اور اس کی پیش بندی کس کی ذمہ داری ہے چین کی یا پاکستان کی؟ ان سطور کے لکھنے کا محض ایک ہی مقصد اور مدعا ہے کہ جو حکومت مسئلہ کشمیر کے لئے کچھ نہیں کر سکتی پہلے ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جن کے لئے میں پورا کالم لکھ چکا ہو۔

مگر شاید تقاضائے عمر“ یا کابینہ کے باقی ارکان سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنا وقت وزیراعظم کی تعریف، ان کے بیانات اور تقریروں کی تشریح اور تفصیل بتانے پر صرف کرنے تک مختص کر دیا ہے، اس کے علاوہ گاہے بگاہے بوقت ضرورت وہ کبھی اسد عمر کی، اور کبھی فیصل واوڈا کے بارے میں لب کشائی کرتے ہیں اور پھر داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کی وضاحت پر انہوں نے اپنے کندھوں پر شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کرنے کے لئے ڈال دی ہے۔ اب ان سے ہم کیسے کہیں کہ حیدر آباد دکن، جو کہ پوری ملت ریاست مسلمانوں کی ہے اور کشمیر والی بھارتی پالیسی کے تحت اب انڈیا حیدر آباد دکن میں بھی اپنی ہندو آبادی کو سازش کے تحت مسلسل اور پوری طاقت اور منصوبے کے تحت بسا رہا ہے تاکہ مستقبل قریب یا بعید میں پاکستان اس ریاست پر بھی اپنا دعویٰ نہ کردے۔

مگر ہماری ستر سال سے سوئی قیادت، کو کون جگا کر کہے کہ برصغیر پاک و ہند کی امیر ترین مسلمان ریاست حیدرآباد کو پاکستان میں شامل کرانے کے لئے کسے نے سعی ہی نہیں کی عوام کے آگے سرخرو ہونے کے لئے اور نہ ہی روز محشر اپنے خالق و مالک کے آگے، جوابدہی کی خاطر کیا بھارتی مطالبہ اور اسکا ہماری وزارت خارجہ تک پہنچ کے یہ کہنا کہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانا اور سندھ میں بدین کی سرحد میں ہندوﺅں کی آبادکاری، اور تھر تک اندرونی معاملات میں دخل اندازی اپنا معمول بنا کر ہم سے جواب طلبی کرنا مناسب ہے۔

مگر ہم میں اتنی جرا¿ت مسلمانی نہیں کہ ہم اپنے مسلمانوں کے حق میں ہی انسانی بنیادی حقوق کی حق تلفی کے لئے بھی کوئی آواز بلند کر سکیں، کبھی عمران خان کے مودی کو فون کرنے کے چرچے ہوتے ہیں، اور کبھی مودی سے ملاقات کی تصویریں، سوشل میڈیا پر چل پڑتی ہیں، پہلے میں شیخ حضرات کی بات پوری کر لوں قارئین بات زیادہ لمبی نہ ہو جائے میں کینٹ سے پہلے شادمان میں رہتا تھا ہمارے گھر سے تیسرا گھر جن صاحب کا تھا وہ وفاق میں ایڈیشنل سیکرٹری تھے اور اسلام آباد میں مقیم تھے، ان کے باقی گھر والے لاہور ہی میں رہتے تھے وہ ریٹائر ہو کر جب لاہور آئے تو کچھ دنوں کے بعد میں نے دیکھا کہ ان کے گھر کے باہر Name Plateپر ان کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب وہ راﺅ امین کے بجائے شیخ امین ہو گئے ہیں۔

چونکہ میری ان سے ملاقات نہیں تھی میں نے ان کے بیٹے سے پوچھا کہ خیر تو ہے آپ نے اپنی ذات تبدیل کر لی ہے، اور شیخ بن گئے ہیں ان کے بیٹے نے جواب دیا کہ ابا جان نے سوچا ہے کہ انہیں جو پنشن کے پیسے اور Provident Fund کے جو پیسے ملنے ہیں ان سے وہ شاہ عالمی میں الیکٹرونکس کا کاروبار شروع کریں گے اور میں بھی ان کے ساتھ وہیں کام کروں گا میں نے پوچھا بھائی صاحب آپ کاروبار ضرور کریں لیکن ذات تو نہ بدلیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے ابا جان کہتے ہیں اگر اپنی ساکھ بہتر بنانی ہے اور لوگوں پر اپنا اعتماد بنانا ہے تو شیخ لکھنا ازحد ضروری ہے بغیر پیسوں کے بھی لوگ شیخ کہلوا کر لاکھوں کا کام کر لیتے ہیں، قارئین کرام اب آئیے مقصد تحریر کی طرف

حضرت نظام الدین اولیاءکی بات کرنا ابھی دور کی بات ہے پہلے حضرت فضیل ابن عیاضؒ کا ارشاد سنئے، فرماتے ہیں کہ کسی بندے کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ جس چیز کو اللہ نے فرض کیا ہے ادا نہ کر لے، اور جس چیز کو اللہ نے حرام کیا ہے اس سے بچے، اور پھر خدا سے ڈرے کیونکہ اس کے بغیرنہ ایمان مکمل ہوتا ہے اور نہ اسکا کوئی عمل مقبول ہوتا ہے۔ عمران خان بھی تو کہتے ہیں کہ میں صرف خدا کو جوابدہ ہوں.... اب مہنگائی کے مارے عوام کے بارے میں خدا جانے یا وزیر اعظم جانے۔

قارئین ایک بزرگ آخر عمر میں مفلوج ہو گئے ایک دن نماز کے وقت انکے قریب کوئی نہ تھا کہ وضو کراتا آپ نے اللہ سے دعا کی الٰہی مجھ کو اس قدر قدرت عطا فرما کہ میں وضو کر سکوں، وضو کے بعد تیرا حکم میرے سر آنکھوں پر، اس کے بعد وہ فوراً ٹھیک ہو گئے، جب وہ حسب منشاءوضو کرچکے اور اپنے بستر پر آئے تو پھر مفلوج ہو گئے، اور ایسا بابا فریدؒ کے مرید کے ساتھ کئی بار دن میں ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے کوئی وظیفہ، کوئی معاہدہ، کوئی ضابطہ نہیں سوائے اخلاص، صدق، اور انکساری و عاجزی کے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ غرور تکبر، نخوت کو بالکل پسند نہیں فرماتا۔ قارئین اب آپ اس پیمانے پر آپ اپنے آپ کو پرکھ لیں اور حکمرانوں کو بھی جن کے ذمے عوام کی دہلیز پر اشیاءخورونوش پہنچاتا ہے۔ جبکہ ریاست مدینہ کے حکمران اپنے کاندھوں پر راشن کی بوریاں بھر بھر کے ساری رات نماز فجر سے پہلے تک پہنچاتے رہتے ہیں!!


ای پیپر