بدقسمت لاہور !
09 May 2019 2019-05-09

پاکستان کے دشمن ایک بارپھر سرگرم عمل ہوگئے ہیں، پنجاب بہت عرصے سے دہشت گردی سے محفوظ تھا مگر گزشتہ روز ایک بار پھر لاہور کو نشانہ بنایا گیا ہے، کوئی کہہ رہا تھا” دہشت گردوں نے رمضان کے تقدس کا خیال بھی نہیں کیا “ ،.... جو انسانیت کے تقدس کا خیال نہیں کرتے رمضان ان کے لیے کیا اہمیت رکھتے ہیں؟۔ داتا دربار کے قریب ایک خودکش حملہ آور ایلیٹ فورس کی گاڑی سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں ابھی تک کی معلومات کے مطابق آٹھ سے زائد افراد شہید ہوگئے جن میں ایلیٹ فورس کے اہل کار بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ پچیس تیس افراد شدید زخمی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو اس میو ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے جو کارکردگی کے لحاظ سے دن بدن پیچھے چلا جارہا ہے۔ ویسے تو تقریباً سارے ہسپتالوں کی کارکردگی نئی حکومت کے قیام کے بعد بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ہوتی چلی جارہی ہے، مگر میوہسپتال جسے ایشیا کا سب سے بڑا ہسپتال قرار دیا جاتا ہے کارکردگی کے لحاظ سے کچھ زیادہ ہی پیچھے چلا گیا ہے۔ ” کارکردگی“ کے لحاظ سے یوں محسوس ہوتا ہے اس ہسپتال کے ”ایم ایس“ کا اضافی عہدہ بھی وزیر اعلیٰ بزدار نے اپنے پاس ہی رکھا ہوا ہے۔ بہت سال قبل میں ایک انتہائی ایماندار ڈی ایس پی آصف جاوید مرحوم کی عیادت کے لیے میوہسپتال گیا تھا، وہ جگر کے عارضے میں مبتلا تھے وہ ایک جنرل وارڈ میں زیرعلاج تھے۔ میں نے ان کے لیے پرائیویٹ کمرے کا اہتمام کرنا چاہا انہوں نے سختی سے منع کردیا، انہوں نے فرمایا”یہاں جنرل وارڈ میں مریضوں کے ساتھ ایسا سلوک ہی کیا جاتا ہے جیسے پرائیویٹ کمروں میں کیا جاتا ہے، مجھے یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی، میں کچھ دیر وہاں رُکا، اس دوران میں خود بھی اس احساس میں مبتلا ہوگیا کہ اس جنرل وارڈ کے مریضوں کے علاج معالجے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ڈاکٹرز سے لے کر پیرامیڈیکل سٹاف سب اپنا کام پوری دیانتداری سے کررہے ہیں، اب اگلے روز داتا دربار کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہونے والے مریضوں کے لیے میں خون دینے گیا تو مجھے اس ہسپتال کی حالت دیکھ کر دکھ ہوا، میں تقریباً دوگھنٹے وہاں موجود رہا، ان دو گھنٹوں میں مجھے اس ہسپتال کی کارکردگی کے حوالے سے وہ ٹھنڈی ہوا نہیں آئی جو کسی زمانے میں ڈاکٹر زاہد پرویز ایسے محنتی، اہل اور انتھک میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں آتی تھی۔ وہ اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ اب کہاں ہیں ؟ حکومت ان کی اہلیت اور تجربے سے کوئی فائدہ اٹھا رہی ہے یا نہیں؟ میرا بس چلے میں قانون میں یہ ترمیم کردوں ایسے اہل لوگ خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو اس وقت تک ریٹائرڈ نہیں ہوں گے جب تک وہ کام کرنے کی ہمت اور طاقت رکھتے ہیں، ہمارے ہاں ریٹائرمنٹ کے لیے ساٹھ برس کی حدمقرر کی گئی ہے، کچھ لوگ ساٹھ برس میں بھی اتنا کام کرتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے وہ پچیس چھبیس برس کے نوجوان ہیں۔ اور ان کے مقابلے میں پچیس چھبیس برس کے بے شمار نوجوان اتنے مست اور کاہل ہوتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے وہ ساٹھ ستر برس کے بوڑھے ہیں، ....بہرحال داتا دربار کے نزدیک ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہونے والوں کو میوہسپتال لے جایا گیا، اللہ کرے وہاں ان کا صحیح علاج ہو۔ انتظامیہ اور وزیر شذیر دعوے تو بہت کررہے ہیں، مگر دعوﺅں اورعملی کام میں بڑا فرق ہوتا ہے، پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی نوماہ کی کارکردگی اتنی مایوس کن ہے کہ ہمیں ان کی انتخابی شکست پر جو افسوس ہوا تھا بہت حدتک اب کم ہوگیا ہے، ظاہر ہے انہوں نے الیکشن جیت کر بھی ایسی ہی بری کارکردگی کا مظاہرہ کرنا تھا جو وہ الیکشن ہارکر کررہی ہیں، ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں، پنجاب کی وزیر صحت خود بھی ”ڈاکٹر“ ہیں، کارکردگی کے اعتبار سے یوں محسوس ہوتا ہے وہ خود بھی ہڑتال پر ہیں، .... جہاں تک ”وزیر اعلیٰ پنجاب“ کا تعلق ہے وہ بے چارہ اپنی اصلاح کرنے کے قابل نہیں کسی ادارے یا شعبے کی اصلاح کی اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ وہ جب تک وزیراعلیٰ ہے پنجاب کا ہر شعبہ ایسے ہی تنزلی کا شکار رہے گا اور بدقسمتی یا المیہ یہ

ہے اس کاذمہ دار اسے نہیں وزیراعظم عمران خان کو ٹھہرایا جائے گا، .... نئے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز ایک انتہائی سنجیدہ اور محنتی پولیس افسر ہیں، وہ جب سے دوبارہ آئی جی بنے چھٹی کا روز بھی عموماً دفتر میں گزارتے ہیں۔ لاہور میں اپنے جیسے ایک محنتی پولیس افسر اشفاق خان کو انہوں نے ڈی آئی جی آپریشن تعینات کیا، مذکورہ بالا پولیس افسران اپنے فرائض کو باقاعدہ طورپر فرائض سمجھ کر ادا کرتے ہیں، مگر افسوس ان کے کچھ ماتحت افسران اپنے فرائض کی ادائیگی کو اپنے لیے باقاعدہ ”اذیت“ سمجھتے ہیں۔ یہ وہ ظالم اور نکمے افسران ہیں جو یہ سمجھتے ہیں اپنے فرائض انہوں نے نیک نیتی سے ادا کرلیے اُن کی تنخواہوں سے شاید اس کی کٹوتی ہو جائے گی، یا اس بنیاد پر ان کی شاید ترقی رُک جائے گی۔ نون لیگ کے پسندیدہ افسر سی سی پی او لاہور بی اے ناصر کی موجودگی میں لاہور کبھی امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔ پچھلے چند ماہ میں لاہور میں جرائم کی شرح خطرناک حدتک بڑھنے کی ایک بڑی وجہ سی سی پی او لاہورکی پولیس کے معاملات میں عدم دلچسپی بھی ہے، سونے پہ سہاگہ یہ چند روز پہلے جس پولیس افسر اسماعیل کھڑک کو بطور ایس ایس پی آپریشن لاہور تعینات کیا گیا اس کے سامنے کوئی دورسے چھینک مارے وہ سوگز پرے جاگرتا ہے۔ وہ بے چارہ جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کے لیے اشفاق احمد خان جسے فعال اور محنتی پولیس افسر کا معاون یا مددگار ہونے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہے۔ جس شخص کو زیادہ سے زیادہ ” گنتی محرر“ ہونا چاہیے اسے ایس ایس پی آپریشن لاہور شاید یہ سوچ کر تعینات کردیا گیا ہوگا کہ اتنے بڑے لاہور میں جرائم پیشہ افراد کو آسانیاں فراہم کرنے میں سی سی پی اولاہور کا کوئی ایک آدھ ”ہم وزن“ معاون خصوصی بھی ہونا چاہیے، ایسے بے برکت پولیس افسران کی وجہ سے ہی محکمہ پولیس پنجاب عزت و وقار کے پہلے زینے پر چڑھنے کے قابل بھی نہیں ہورہا۔ ....بہرحال ہم داتا دربار کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس سانحے میں عام افراد کے ساتھ ساتھ ایلیٹ فورس کے جن جوانوں کی شہادتیں ہوئے، اس جانی نقصان کا ازالہ کسی صورت میں بھی نہیں ہوسکتا، ہم اس حوالے سے شہیدوں کی فیملیز کو اپنی فیملی سے زیادہ اہمیت دینے والے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں، اللہ ان کےلئے آسانیاں پیدا فرمائے !!


ای پیپر