ایک ناکام واردات
09 مئی 2018

چور دروازے کی تلاش تو بھارت کو تھی۔سہولت کار کا کردار بنگلہ دیش کی خوں آشام مہان منتری حسینہ واجد نے ادا کیا۔جس سے ثابت ہوا کہ مودی جی اور شریمتی جی حسینہ واجد ایک ہی سکے کے دو رْخ ہیں۔مودی جی نے بھارت دھرتی کی زمین ہندوقوں کے علاوہ تمام اقلیتوں پر تنگ کر رکھی ہے۔ جبکہ خلیج بنگال کے ساحلوں پر حکمران حسینہ واجد نے اپنے سیاسی مخالفین بالخصوص سابق پاکستانیوں کا جینا اجیرن کر رکھا ہے۔ دونوں حکمران سفارتی سطح پر بھی مل کر کھیلتے ہیں۔اور ہر موقع پر ایک دوسرے کے کام بھی آتے ہیں۔مودی جی کو ہر بین الاقوامی،علاقائی معاملے پر بھونپو میسر آیا ہوا ہے۔ اس کے عوض حسینہ واجد کو اپنے اقتدار کی مدت میں اضافہ کیلئے گلو کوز ملتا ہے۔ مالی مدد بھی حاصل ہوتی ہے۔ باہمی تعاون سے گلشن کا کاروبار پھل پھول رہا ہے۔بھارت اور بنگلہ دیش کی ملی بھگت سے مشترکہ وارداتوں کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔فی الحال دونوں ناکام نامراد ہی رہے۔نشانہ ان مشترکہ وارداتوں کا اکثر پاکستان ہی رہتا ہے۔البتہ سری لنکا،نیپال،بھوٹان،برما ایسا کوئی تر نوالہ مل جائے تو منہ کا ذائقہ بدلنے کیلئے کاروائی سے باز نہیں آتے۔ایسی ہی ایک ناکام واردات بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہوئی جس کو ناکام بنا دیا گیا۔
اسلامی ممالک کی تنظیم اور آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ڈھاکہ میں ہوا۔ڈھاکہ جو کبھی مشرقی پاکستان کا انتظامی ہیڈکوارٹر تھا۔او آئی سی میں 54 اسلامی ممالک رکن ہیں۔یہ تنظیم فعال ہے یا غیر فعال۔ یہ الگ بات ہے۔بہر حال عالم اسلام کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ بھارت کی نظر یں ایک عرصہ طویل سے اس تنظیم پر ہے۔کیو نکہ اس تنظیم کی طرف سے کبھی کبھار اس کو گرم ہواکا جھونکا آتا ہے۔ او آئی سی کے اجلاس میں کبھی تو ایسے ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے متعلق قرارداد پاس ہو جاتی ہے۔کبھی اس کا رابطہ گروپ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے میدا ن میں آجاتا ہے۔کبھی بھارت کا شریک مجرم اسرائیل اوآئی سی کے ہاتھوں شرمندگی اٹھاتا ہے۔ جب بھی اہل فلسطین پر ستم کی کوئی نئی دیوار گرتی ہے او آئی سی اسرائیل کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر اس معاملہ کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ اگر چہ ان سفارتی کوششوں کاکوئی فائدہ نہ مظلوم کشمیریوں کو ہوا ہے۔ نہ اہل فلسطین پر توڑے گئے مظالم میں کوئی کمی آئی ہے۔اس کے باوجود ہر حال بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ بیدار ضرور ہوتی ہے۔بھارت کو یہ بھی گوارہ نہیں۔اس کی کوشش ہے کہ اسرائیل اور بھارت کے مظالم سے دنیا نگاہیں پھیر لے۔وہ اپنی وارداتیں جاری رکھیں۔لہٰذا اس کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کسی طریقے سے داخلہ ضروری ہے۔ بھارتی سفارتکار عشروں سے چپکے چپکے ان دونوں بین الاقوامی پلیٹ فارم پر قابض ہونے کیلئے کوشاں ہیں۔فی الحال یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔حال ہی میں بین الاقوامی سطح پر دو بڑی سفارتی سر گرمیاں ہوئیں۔اسرائیل نے یروسلم کو اپنا دارالحکومت ڈکلیئرکیا۔امریکہ نے فوری طور پر اس کو تسلیم کیا۔باقی مہذب دنیا نے اس معاملے پر اسرائیل کا ساتھ نہ دیا۔او آئی سی نے اس کو ٹیک اپ کیا۔او آئی سی ترکی اور پاکستان کے ذریعے دارالحکومت کی تبدیلی کو جنرل اسمبلی میں لے گئی۔ جہاں امریکہ اس کے بغل بچے اسرائیل کو بد ترین شکست ہوئی۔129 ممالک نے اس معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔امریکہ اتنا تلملایا کہ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ ایسے بین الاقوامی ادارے کی مخالفت شروع کر دی۔صدر ٹرمپ نے تو یہ تک بیان دیدیا کہ اقوام متحدہ ہمارے پیسے سے چلتا ہے۔ لہٰذا مرضی بھی ہماری چلے گی۔ اس شکست کے بعد سے اسرائیل اور بھارت کو بین الاقوامی فورموں پر ممبر شپ دلوانے کیلئے کوششوں میں پھر تیزی آئی۔حال ہی میں اقوام متحدہ کی اصلاحاتی کمیٹی میں نئی تجویز پیش ہوئی۔نئی شرلی یہ چھوڑ ی گئی کہ سکیورٹی کونسل کے نان ویٹو مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ بھارت کو نان ویٹو مستقل ممبر بنا دیا جائے۔ برازیل سمیت بعض دیگر ممالک کا نام بھی آیا۔پاکستان اس واردات کے مضمرات کو جنونی سمجھتا ہے۔لہٰذا پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔اور بھارت کے سکیورٹی کونسل میں داخلے کی مخالفت کر کے اس کو شش کو ناکام بنایا۔ان کو معلوم تھا کہ نان ویٹو رکنیت کچھ عرصہ بعد ویٹو پاور میں بدل جائے گی۔ اور پاکستان ہر سفارتی محاذ پر شکست کھا جائے گا۔ بھارت کی رکنیت کیلئے امریکہ،جرمنی،جاپان ایسے ممالک نے بھی سر توڑ لابنگ کی۔بہر حال یہ کوشش ایک مرتبہ پھر ناکام ہوئی۔ اس دوران او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کیا گیا۔ مکار بھارتیوں کو ایک نیا راستہ سوجھا۔کسی مسلم ملک کے ذریعے او آئی سی میں داخلے کی کوشش کی جائے۔آئیڈیا تو برا نہ تھا طریقہ کار نہایت باریک تھا۔ کیونکہ واردات بھی نئی نہیں بلکہ پرانی ہے۔ ڈیڑھ عشرے پہلے سابق بھارتی وزیر اعظم واجپائی نے او آئی سی ممالک کو خط لکھا۔یہ خط اس زمانے کے سیکرٹری جنرل او آئی سی کو ایڈریس کیا گیا۔ ایک انوکھی او رنرالی منطق نکالی گئی۔مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ بھارت میں 20 کروڑ مسلمان بستے ہیں۔لہٰذا مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بھارت کو او آئی سی میں بطور مبصر ممبر شپ دی جائے۔اس تجویز نے باقاعدہ طور پر تھر تھلی مچا دی کچھ بھارت نواز مسلمان ممالک نے اس تجویز کو شرف قبولیت بخشا۔بھارت خاموش ہوا۔لیکن اندر کھاتے نقب زنی کی کوشش جاری رکھی۔اوآئی سی کے حالیہ اجلاس میں ایک اور نیا طریقہ نکالا گیا بھارت کی ممبر شپ کی تجویز کسی مسلمان ملک کے ذریعے لائی جائے۔اس کیلئے انتخاب بنگلا دیش کا ہوا۔بنگلہ دیش نے آنکھیں بند کر کے تجویز پیش کر دی۔چونکہ تنظیم کا ایجنڈا ایسی کسی قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔لہٰذا بنگلہ دیشی وزیر خارجہ عبدالحسن علی نے یہ تجویز پرائیویٹ ممبر کے طور پر پیش کر دی۔نتیجہ کیا نکلا؟ رکن ممالک نے تجویز متفقہ طور پر اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دی۔الٹا اجلاس نے فلسطین،روہینگیا مسلمانوں کی حالت زار اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مذمتی قرار داد منظور کرلی۔ بھارت کی ایک اور واردات پکڑی گئی۔
بھارت میں مسلمان ہی جبر تشدد کا شکا رنہیں۔مسلما ن،سکھ،عیسائی،کیمونسٹ تمام اقلیتیں حتیٰ کہ دلت بھی اکثریت کی بربریت کا نشانہ ہیں۔عبادت گاہیں محفوظ ہیں نہ عائلی زندگی کلچر محفوظ ہیں نہ تہذیب و تمدن۔پھر بھی عالمی طاقتوں کا انوکھا لاڈلا عالمی فورمز پر نمائندگی کے سپنے دیکھتا ہے۔ اور سمجھتا ہے کہ وہ ایک دن سپر طاقت بن کر بالا دستی کی خواہش پوری کرے گا۔ناممکن۔حنوز دلی دورست۔


ای پیپر