جج جرنیل جتنی عزت کا مطالبہ
09 مئی 2018 2018-05-09

وزیر اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ ججوں جرنیلوں کی طرح سیاست دانوں کی بھی عزت ہونی چاہیے۔ مزید فرمایا کہ احتساب صرف سیاست دانوں کا ہوتا ہے۔ گویا وزیر اعظم صاحب سمجھتے ہیں کہ احتساب کا نہ ہونا عزت ہے۔ لہٰذا ججوں اور جرنیلوں کی طرح یہ عزت سیاست دانوں کی بھی ہونی چاہیے۔ یا پھر وہ چاہتے ہیں کہ ججوں اور جرنیلوں کا احتساب بھی ہونا چاہیے، نہ جانے سول بیورو کریسی کو وزیر اعظم کیوں نظر انداز کر گئے جو کہ تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے ذرائع کو اپنے ذاتی اثاثوں میں بدلے جا رہے ہیں۔ شاید وزیراعظم اس حقیقت کو بھول گئے ہیں سیاستدان دراصل ایک دوسرے پر الزامات لگا لگا کر ایک دوسرے کی تذلیل کر کے اپنی عزت کو ذلت میں بدلنے کا سبب بنتے ہیں۔اگر ان کی تذلیل کے پیچھے کوئی خلائی مخلوق ذمہ دار ٹھہرتی ہے تو در اصل خلائی مخلوق کے ہاتھ پر دستانہ بھی کوئی سیاستدان ہی بنتا ہی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک میں سڑکوں پر خلائی مخلوق نہیں بلکہ سیاستدان ہی تھے جنہوں نے سیاسی تحریک کو مذہبی رنگ دینے کا اہتمام کیا۔ بے گناہ بھٹو کو سزائے موت دلوا کر پھر چند سالوں بعد ہی انہی کی تصویر کے پیچھے تقریریں کرتے میں نے خود ان کو دیکھا۔ آج جناب ذوالفقار علی بھٹو کے قاتل اور بدترین مخالف اپنے سیاسی کردار کو جناب بھٹو اور ان کی بیٹی سیاسی کے کردار کو اپنی بیٹی سے مماثلت دینے کے لیے اپنے حواریوں سے بیانات دلواتے ہیں۔ چلتے لمحے میں نواز شریف بہت اہم سیاسی پوزیشن پر ہیں۔ اور ان کا کردار تاریخ رقم کر سکتا ہے۔ مگر مصیبت صرف یہ ہے کہ ان کا ماضی ہی ان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ وہ جو جس سیاسی ہتھکنڈے کی مذمت کرتے ہیں۔ وہ ہتھکنڈہ ہی ان کا ہتھیار رہا ہے۔ جو جو پیپلز پارٹی کے ساتھ اور بھٹو خاندان اور محترمہ بے نظیرکے ساتھ کیا وہ کئی گنا بڑھا کر تقدیر اور تاریخ ان کے ساتھ کر رہی ہے۔ خلائی مخلوق کہ جس کے یہ آلہ کار رہے آج سب کچھ ان کے ساتھ دہرا رہی ہے۔ جو خلائی مخلوق پیپلز پارٹی اور اس کے ساتھ اتحادی جماعتوں کے ساتھ کیا کرتی تھی بلکہ صرف پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا کرتی تھی۔ نواز شریف سیاست دان ہیں ۔ انہیں تاریخ، مکافات عمل اور اپنے ماضی کا بیک وقت سامنا ہے۔ در اصل کسی بھی دعوے کے لیے ماضی بہت اہم ہوتا ہے۔ آقا کریم ﷺ نے جب اللہ کا پیغام سنایا تو اللہ کے پیغام سے پہلے اہل مکہ سے اپنے بارے میں سوال کیا کہ آپ کی میرے متعلق کیا رائے ہے جو اب آیا کہ آپ صادق اور امین ہیں۔ پھر ایک مثال دی کہ اگر میں کہوں کہ اس چھوٹی سی ( ٹیلا نما ) پہاڑی کے پیچھے سے کوئی بڑا لشکر آپ پر حملہ کرنے والا ہے تو اہل مکہ نے کہا کہ ہم یقین کر لیں گے کیونکہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ دنیا کو قیامت تک کے لیے آقا نے یہ پیغام دیا تھا کہ اگر لوگوں کی نمائندگی کرنا ہے تو پہلے اپنے کردار کی توثیق کرانا ہو گی۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تاریخ میں حضرت عمر، حضرت حر اور دیگر بڑی بڑی ہستیاں ہو گزری ہیں جنہوں نے اپنا سماجی، سیاسی ادبی اور ہر طرح کا کردار بدلا۔ حضرت عمر، حضرت حر بہادر تھے تو تبدیل ہونے کے بعد ان کی بہادری دین اور حق کے لیے ہو گئی۔ حضرت عثمان اسلام لانے سے پہلے بھی سخی طبیعت تھے اور اسلام کے لانے کے بعد ان کی سخاوت دین کے لیے مخصوص ہو گئی۔ گویا نظریہ اور کردار کے ساتھ فطرت کا ہونا بھی بہت اہم ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے راہنماؤں کے ماضی، فطرت اور کردار ہمارے سامنے ہیں۔ حکمران تو اپنے آپ کو احتساب کو سب سے پہلے پیش کرتے ہیں۔ جس کی مثالیں دنیا بھر میں موجود ہیں اور ہمارے اسلاف تو اس سلسلہ میں ضرب المثل کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ میرے مطابق تو جتنی عزت سیاستدانوں کی ہے اتنی عزت کا جج اور جرنیل تصور بھی نہیں کر سکتے۔ سیاستدانوں کے لیے لوگ اپنی زندگیوں کے قیمتی حصے قربان کرتے ہیں۔ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر سیاست دان رول ماڈل بنیں تو کوئی جج جرنیل اور بیوروکریٹ عزت کے معاملے میں ان کا عشر عشیر بھی نہیں۔دراصل عزت عہدوں نہیں بلکہ کردار میں ہوا کرتی ہے۔ جناب نواب زادہ نصر اللہ ضیا دور میں کسی علاقہ کے کونسلر بھی نہ تھے مگر عزت و پزیرائی کا یہ عالم تھا کہ سیاسی اتحادوں کی تشکیل اور رہنمائی کرتے رہے۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جیسی عزت کون پائے گا۔ اُن کے بر عکس ضیاء الحق کا کوئی نام لینے کو تیار نہیں۔عدلیہ انتظامیہ، بیوروکریسی کوئی بھی ادارہ لے لیں اس میں کسی عہدے میں اختیارات اور اہمیت تو ایک جیسی ہو گی لیکن عزت و پزیرائی اور توقیر ایک جیسی نہیں ہوتی۔ عزت کردار کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر محض جج ہونا عزت ہوتی تو جسٹس رستم خان کیانی، جسٹس کارنیلس، جسٹس علی اکبر قریشی، اگر اٹارنی جنرل کا عہدہ ہی عزت رکھتا تو محض مسٹر عرفان قادر، اگر بیورو کریٹ ہونا ہی عزت ہوتا شہاب الدین اور سید طاہر شہباز ہی یاد نہ رکھے گئے ہوتے۔ اگر طب ہی عزت کا سبب ہوتی تو مسیحائے لاہور ماہر امراض قلب جناب ڈاکٹر شہر یار شیخ، آرائی سی ( راولپنڈی ) بریگیڈیئر ڈاکٹر قیصر خان ، پی آئی سی لاہور کے ڈاکٹر شکیل قادر، کاروباری خواتین میں عائشہ کاشف ایگزیکٹو سیلز ڈائریکٹر بحریہ ٹاؤن راولپنڈی ۔
کسٹم کے جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ ستارہ امتیاز، جناب محمد صادق، محترمہ طیبہ معید کیانی ہی عزت و دیانتداری کا استعارہ نہ جانی جاتیں۔ اگر جرنیل ہونا ہی عزت ہوتی تو جرنیل ضیا اور جنرل مشرف عزت کی بجائے عبرت نہ بن جاتے۔
اگر صحافی ہونا ہی عزت ٹھہرتا تو وطن عزیز میں آغا شورش کاشمیری ، جناب وارث میر، صلاح الدین شہید اور منو بھائی کے بعد گنتی رک نہ جاتی۔
در اصل عزت اور اقتدار میں بہت فرق ہے۔ اقتدار عزت نہیں اگر کردار ہو تو عزت کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ جناب رسول بخش پلیجو، جانباز مرزا، حبیب جالب، گوجرانوالہ کے خلیفہ امام الدین بقا کبھی کسی طور بھی اقتدار میں نہ رہے۔ مگر ہمیشہ باعزت رہے۔ در اصل نا دیدہ قوتوں نے، نہ نظر آنے والے رائج نظام نے ہمارے ہاں سیاستدانوں کی کردار سازی ہی نہیں ہونے دی۔ ایوب کے ایبڈو، ضیا کے احتساب، نواز شریف کے احتساب الرحمن، مشرف کے نیب اور بعد ازاں جوڈیشل ایکٹوازم کے ذریعے معاملات کو ہینڈل کرنے میں کبھی قومی اتحاد، آئی جی آئی، ق لیگ، ایم کیو ایم، مذہبی سیاسی جماعتیں اور فرقے بظاہر سیاستدانوں پر ہی مشتمل تھے جب اقتدار کی خاطر سیاست دان اپنے کردار کی قربانی دیں گے تو پھر عزت کی بھیک ہی مانگنا پڑتی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ’’ہمیں اقتدار چاہیے مگر ہر قیمت پر نہیں‘‘ مگر دوسری جانب ان کے مخالفین ہر قیمت پر اقتدار میں آتے رہے۔ آج وطن عزیز میں سیاستدان جس افراتفری اور ہر قیمت پر اقتدار کی خاطر تڑپ رہے ہیں۔ کیا وہ عزت کے مستحق بھی ٹھہر سکتے ہیں۔ وطن عزیز کی معاشرت میں نظام ہی ایسا رائج کیا گیا کہ ایک جگہ عزت پانے کے لیے سو جگہ بے عزت ہونا پڑتا ہے۔ عزت کردار میں ہے جج ، جرنیل ، بیوروکریٹ ہونے سے ہوتی تو عزت داروں کی گنتی ہزاروں میں ہوتی۔ یہ گنتی ہر شعبہ میں چند ناموں کے بعد سوچ میں نہ پڑ جاتی۔ جناب وزیر اعظم صاحب اگر سیاست دان کا دامن صاف ہو تو اس کی آنے والی نسلیں بھی عزت سے نوازی جاتی ہیں۔ جبکہ جج جرنیل بیوروکریٹ تو ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ماضی کے قبرستانوں میں سے ایک قبر بن جایا کرتا ہے۔ آپ راہنما ہیں کردار سازی کا ماحول دیں۔ اور جن سے سیاست دانوں کی عزت کا مطالبہ کر رہے ہیں ان سے سیاست دانوں اور وطن عزیز کی معاشرت کے دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی کردار سازی کا مطالبہ کریں۔ عزت شعبوں اداروں اور عہدوں میں نہیں کردار میں ہوا کرتی ہے۔


ای پیپر