کان کنوں کی حالت زار
09 مئی 2018

23 کان کن کوئلے کی دوکانوں میں حادثے کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار گئے۔ کوئلے کی وہ کانیں جہاں درجنوں محنت کش اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لئے تمام خطرات سے کھیلتے روزانہ ان کانوں میں اترتے ، زمین کا سینہ چیر کر گھنٹوں کوئلہ نکالتے تا کہ شام تک چند سو روپے کما سکیں۔ اپنے بچوں اور خاندان والوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کر سکیں۔ 5 مئی کی صبح بھی وہ محنت کش اسی مقصد کے لئے کوئٹہ کے قریب واقع کوئلے کی دوکانوں میں اترے مگر وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ کوئلے کی یہ کانیں ان کا مدفن بننے والی ہیں۔ ایک کان میں میتھین گیس بھرنے سے دھماکہ ہوا اور16 کان کن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جبکہ 9 کان کن زخمی ہو گئے۔ جب یہ حادثہ ہوا تو اس وقت کان میں 30 کان کن موجود تھے۔ یہ حادثہ ماروا کے علاقے میں پیش آیا جو کہ کوئٹہ سے 45 کلو میٹر دور واقع ہے جبکہ اسی دن سورنج کے علاقے میں کوئلے کی ایک کان بیٹھنے سے 7 کان کن ہلاک ہو گئے۔
حکمرانوں کے لئے سب سے آسان کام یہ ہے کہ ان ہلاکتوں کو حادثہ قرار دیں۔ زندگی کی بازی ہارنے والے غریب محنت کشوں پر ترس کھاتے ہوئے چند لاکھ روپے ان کے بے بس ، مجبور اور غم زدہ خاندانوں کو دے کر بری الذمہ ہو جائیں۔ چند دنوں کے بعد حکمران اور محنت کش اس حادثے اور ہلاکتوں کو بھول جائیں گے اور معمول کے مطابق کام جاری رہے گا۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور 2011ء کے کان حادثے میں 45 کان کنوں کی ہلاکت کے بعد کانوں میں حالات کار اور تحفظ کے لئے بہتر اقدامات کئے جاتے تو 5 مئی کے حادثات پیش نہ آتے اور 23 کان کن اپنی جانوں سے نہ جاتے۔ بلوچستان کی حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے کی 2500 کے قریب کانوں میں 20 ہزار سے زائد محنت کش کام کرتے ہیں۔ یہ کانیں صوبے کے دور دراز علاقوں میں واقع ہیں جہاں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ کانوں میں حادثات روزمرہ کا معمول ہیں۔ کان کنوں کی فیڈریشن کے مطابق ہر سال 200 سے زائد کان کن کام کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
پاکستان میں ویسے تو نجی شعبے میں کام کرنے والے محنت کشوں کی مجموعی صورت حال بہت بری ہے۔ لیبر قوانین محض قانون کی کتابوں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔ عملی طور پر لیبر قوانین کا نفاد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی صورت حال کام کی جگہوں پر صحت اور تحفظ کے قوانین کے حوالے سے ہے۔ پاکستانی حکومتیں صرف رسمی طور پر لیبر قوانین اور پالیسیوں کا اعلان کرتی ہیں۔ کم از کم تنخواہ کا اعلان بھی کرتی ہیں مگر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی حکومتیں ان قوانین اور اعلانات پر عملدر آمد کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں۔ یہی صورت حال ان سرکاری اداروں کی ہے جو کہ محنت کشوں کے حقوق کے نام پر بنائے گئے۔ ان اداروں کا کام لیبر قوانین پر عملدر آمد کروانا ہے مگر وہ صنعتکاروں ، سرمایہ داروں اور حکومتی مفادات کے محافظ بن چکے ہیں۔ ان اداروں کی ناک کے نیچے محنت کشوں کا بدترین استحصال جاری ہے۔لیبر قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں مگر یہ ادارے خاموش تماشائی بن کر سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
اگر پاکستانی محنت کشوں کی بحیثیت مجموعی حالت خراب ہے تو کان کنوں کی حالت انتہائی مخدوش اور بدترین ہے۔ ہزاروں کان کنوں کو غیر انسانی حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ کانوں میں صحت اور تحفظ کے لئے بہتر اور جدید انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف کان کن حادثات کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں بلکہ کام کے دوران مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر اذیت ناک زندگی گزارتے ہیں۔ جو لوگ سالوں کانوں میں کام کرتے ہیں وہ اگر حادثات کا شکار ہونے سے بچ جائیں تو ٹی بی ، دما اور سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں ہے کہ وہ خطرناک اور غیر انسانی ماحول اور حالات میں کام کرتے ہیں بلکہ وہ کانوں کے قریب ہی اسی طرح کے غیر انسانی حالات اور ماحول میں رہتے بھی ہیں۔ ان کے رہنے کی جگہیں تمام بنیادی انسانی ضروریات اور سہولیات سے محروم ہوتی ہیں۔ ویسے تو پاکستان کے محنت کشوں کی اکثریت برے حالات میں زندگی گزار رہی ہے مگر کان کنوں کے حالات تو انتہائی دگرگوں ہیں۔ ان کے لئے زندگی مسلسل اذیت اور تکلیف سے بھری ہوئی ہے۔
ایک طرف کان کن اذیت سے بھری زندگی گزار رہے ہیں تو دوسری طرف کانوں کے مالک اور ٹھیکیدار کروڑوں روپے کا منافع کما رہے ہیں۔ ان کی دولت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مگر کان کنوں کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ باقی تمام شعبوں کی طرح کانوں میں بھی ٹھیکیداری نظام عروج پر ہے۔ بلوچستان کے کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی غالب اکثریت کا تعلق کے پی کے کے علاقے شانگلہ سے ہے۔ پاکستان کے امیر ترین سیاستدان اور کے پی کے میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ اس حلقے سے ان کے بھائی عباد اللہ ممبر قومی اسمبلی ہیں۔ 5 مئی کو کانوں کے حادثے میں ہلاک ہونے والے 23 محنت کشوں کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ شانگلہ کے لوگ غربت، بھوک اور معاشی بدحالی کی وجہ سے بلوچستان کی کانوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں ، پیاروں اور گھروں سے سینکڑوں کلو میٹر دور انتہائی نامساعد حالات میں رہ کر روزی کماتے ہیں۔ اگر ان کے علاقے میں روزگار کے بہتر مواقع موجود ہوں تو وہ اتنی دور نامساعد حالات میں کام کرنے کیوں جائیں۔
عمران خان روزانہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے کے پی کے صوبے میں غربت کم کر دی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کہیں پر ایسا ہوا ہو مگر شانگلہ کے کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں تک غربت کی کمی کے اثرات نہیں پہنچے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) جو کہ ووٹ کی عزت کے نعرے لگا رہی ہے مگر ان کے ووٹر بدترین استحصال ، جبر اور غربت سے دوچار ہیں۔ ان کی تو زندگی کی بھی کوئی قدروقیمت معلوم نہیں ہوتی ورنہ پورے ملک میں کان کنوں کی یہ حالت ہوتی۔ کانوں کے مالکان ، ٹھیکیدار اور ذیلی ٹھیکیداروں کو تو محض اپنے منافعوں اور زیادہ سے زیادہ پیداوار سے دلچسپی ہے۔انہیں تو کم سے کم اجرت پر مزور چاہئیں جو زیادہ سے کام کر سکیں۔ انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی کہ کان کن کن حالات میں کام کرتے ہیں اور کن حالات میں رہتے ہیں۔ مگر سب سے افسوسناک رویہ حکومتی اداروں کا ہے۔ جن کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزوروں ، مظلوموں اور محنت کرنے والوں کو طاقتوروں کے ظلم، جبر اور استحصال سے بچائیں مگر انہیں بھی اس کام سے خاص دلچسپی نظر نہیں آتی۔ ریاستی اہلکاروں کے تعاون اور مدد کے بغیر اس پیمانے پر لیبر قوانین اور مزدوروں کی صحت و سلامتی کے قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ممکن نہیں ہے۔
بلوچستان میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت ہو یا پھرمسلم لیگ (ن) کی اس سے خاص فرق نہیں پڑتا۔ بلوچستان کے کان کنوں کی حالت نہیں بدلتی، ان کے استحصال اور جبر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ بلوچستان کے خانوں، قبائلی سرداروں اور امیر سیاستدانوں کی محرومی تو شاید حکومت میں آنے سے دور ہو جانی ہے مگر غربت محنت کش عوام کا احساس محرومی تو بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
کان کن بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ پاکستان کا آئین جو کہ حکمرانوں نے خود ہی بنایا ہے وہ سب شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے مگر ہزاروں کان کن اپنے آئینی، جمہوری ، معاشی اور سماجی حقوق سے محروم ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والے ووٹروں کو عزت اور حقوق دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ محنت کشوں کو بھی انسان سمجھیے اور ان کو انسانوں جیسی زندگی گزارنے کا موقع دیجیے۔


ای پیپر