وزیراعظم صاحب پہلے اپنا گھر سنبھالیں
09 مئی 2018 2018-05-09

ہنی مون پیریڈ کسی انسان کی زندگی کی حسین ترین شب وروز کا نام ہے جب چاروں طرف کی فضائیں رومانویت سے معطر ہوئی ہیں۔ اس مختصر عرصے کو زندگی کے حسین ترین لمحات کے طورپر عمر بھر یاد رکھا جاتا ہے اور یادوں کے یہ خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے لیکن اگر ہنی مون پیریڈ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ نئے نویلے جوڑوں کی زندگی میں زہر گھول دے تو اس کی کڑواہٹ بھی انسان عمر بھر نہیں بھول سکتا۔ مری جاتے ہیں تاکہ ان تاریخی لمحات کو اس رومانوی ماحول کے ساتھ منسلک کرکے دامن تخیل میں ہمیشہ زندہ رکھا جاسکے لیکن مری جسے ملکۂ کوہسار کہا جاتا ہے اس ملکۂ حسن کے فرزندوں نے مری کے حسن کی فروخت میں قیمت پر تکرار کو بنیاد بناکر نوبیاہتا جوڑوں پر حملے، مارپیٹ اور گالی گلوچ کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ان ناخوشگوار واقعات کی ویڈیوزسوشل میڈیا پر چل رہی ہیں جس کے بعد ملک گیر سطح پر مری کی سیر کا بائیکاٹ کرنے کی ایک Compaignشروع ہوچکی ہے۔ یہ ایسے وقت ہوا ہے جب موسم گرما کا سیاحتی سیزن شروع ہونے والا ہے کیونکہ سخت گرمی میں گرمیوں کی چھٹیوں میں مری کاروباری لحاظ سے سال کا بہترین ٹائم سمجھا جاتا ہے۔ ویڈیو فوٹیج میں میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس مری کی مقامی زبان میں سیاحوں کو گالیاں دی جارہی ہیں، ان کی گاڑیوں کو گھیرا جارہا ہے اور مشتعل مقامی لوگ مری کے مال روڈ پر سرعام سیاحوں کو پکڑ کر مارتے نظر آتے ہیں اور متاثرین کے ساتھ خواتین اور بچوں میں بھگدڑ اور چیخ و پکار کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان واقعات کے بعد ایک تو مری جانے کی بائیکاٹ مہم شروع کردی گئی ہے اور دوسرے کسی حکومتی ادارے نے اس کا نوٹس نہیں لیا البتہ حال ہی میں پتہ چلا ہے کہ وزارت انسانی حقوق کے کمشنر راولپنڈی کو خط لکھا گیا ہے جس میں مذکورہ واقعات کا نوٹس لینے کو کہا گیا ہے جس کی کاپیاں مری کی ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس کو بھی بھیجی گئی ہیں۔ اس واقعہ کے بہت سے پہلو توجہ طلب ہیں پولیس اور مقامی انتظامیہ کی خاموشی اور تماش بینی نے بہت سے سوال اٹھا دیئے ہیں۔ ایک ایسا سہر جسے پاکستان میں ٹورازم اور سیاحت کا مرکز سمجھا جاتا ہے وہاں سیاحوں کے ساتھ نارواسلوک اور فریقین کا خود ہی معاملات لڑجھگڑ کر طے کرنا لاقانونیت کی بدترین مثال ہے۔
اس لڑائی جھگڑے کے پیچھے قانون نافذ کرنے والے اور انتظامی اداروں کی کارکردگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ جب وزیراعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی کے حلقۂ انتخاب اور آبائی علاقے کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ وزیراعظم 5مرتبہ اس حلقے یعنی این اے 50 سے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آئے ہیں لیکن مری جیسے تاریخی تفریحی مقام کی ابتری اس کی رگ رگ سے ٹپک رہی ہے۔ شہر کے اردگرد جاری رہنے والے قدرتی چشمے خشک ہوچکے ہیں مگر متبادل طورپر پانی سپلائی کا انتظام نہیں ہے۔ دوسرا پانی کا بے دریغ استعمال وسائل کا ضیاع روکنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود سہولیات میں اضافہ نہیں ہورہا۔ پارکنگ کا مسئلہ شدت اختیار کرچکا ہے شہر سے روزانہ کی بنیاد پر کچرا اٹھانے یا صفائی کا انتظام نہیں ہے۔ لیکن جو مسئلہ اس وقت سب سے زیادہ سنگین صورت حال اختیار کرچکا ہے جس کی بناء پر مقامی افراد اور سیاحوں میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں وہ اشیاء وخدمات کی آسمان کی چھوتی قیمتیں ہیں۔ آپ اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں قیام کریں یا مری کے ایک تیسرے درجے کے گیسٹ ہاؤس میں رات گزاریں خرچہ دونوں کا برابر ہے۔ جب اہل مری چار سے پانچ گنا قیمت کا مطالبہ کرتے ہیں تو جھگڑا ہو جاتا ہے۔ دوگھنٹے گاڑی پارک کرنے پر 300سے 500روپے لیے جاتے ہیں۔ ریسٹورنٹ میں پانچ گنا قیمت وصول کرنے کے ساتھ ہاتھ سے لکھے ہوئے بل ہیں 17فیصد جی ایس ٹی ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ کھلم کھلا چور بازاری اور ڈاکہ زنی ہے بلکہ سیاحوں کے کپڑے اتارنے کے مترادف ہے۔
مری میں اکثریت عباسی خاندان کی ہے جو خود کو حضرت عباس کی اولاد کہتے ہیں۔ 7500فٹ اونچائی پر واقعہ یہ علاقہ برطانوی حکومت نے 1851ء میں آباد کیا تھا جسے ایک سینی ٹوریم کے طورپر انگریز دور میں فوجی اور ان کی فیملیز کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس وقت عام آدمی کے لیے یہ ممنوعہ علاقہ تھا۔ 1947ء میں آزادی کے وقت تک یہاں مقامی لوگوں کی تعداد 2000سے کم تھی اور یہ سب کے سب انگریزوں کے خدمت گار تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جب اسے عوام کے لیے کھولا گیا تو آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور کمرشلائزیشن شروع ہوئی۔ مقامی افرادکا ذریعہ آمدن آج بھی سیاحت ہی ہے لیکن یہ لوگ ٹوازم یا Hospitalityکے لیے قطعاً موزوں نہیں ہیں۔ ان کی زبان اور لہجہ سخت ترش اور بد اخلاقی پر مبنی ہے۔ سیاحوں سے مقامی لوگوں کی جس کھیپ کا سب سے پہلے آمنا سامنا ہوتا ہے یہ گندے کپڑوں والے وہ مڈل مین ہیں جو سڑک پر سیاحوں کو گھیر کر زبردستی ہوٹل پہنچاتے ہیں اور وہاں سے کمیشن وصول کرتے ہیں۔ ان کی شیو بڑھی ہوتی ہے اور پانی کی بچت کی وجہ سے یہ کئی کئی دن منہ نہیں دھوتے۔ یہی لوگ ہیں جو معمولی جھگڑے پر سیاحوں پر مل کر حملہ کرتے ہیں۔ اوورچارجنگ کا ایک طریقہ واردات یہ ہے کہ ہوٹل میں آج کو جو مینو بک دی جاتی ہے اسے دیکھ کر آپ کھانا آرڈر کرتے ہیں جب بل پر ریٹ زیادہ لگے ہوں اور آپ اعتراض کریں تو وہ کہتے ہیں کہ وہ پرانی مینوبک ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خریداری سے پہلے کم قیمت بتا کر یہ گاہک کو راضی کرتے ہیں بعد میں زائد وصولی پر اصرار کرتے ہیں۔ جو نہ دے اس کے ساتھ لڑائی اور مارکٹائی۔ پھر یہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی برادری کی اکثریتی بنیاد پر یہاں سے منتخب ہوجاتے ہیں کہ تین لاکھ سے زیادہ آبادی والے اس حلقہ میں عباسی خاندان کی اکثریت ہے۔ وزیراعظم نے چونکہ اپنی سیاست اور حکومت کے ساتھ ساتھ اپنی ایئر لائن اور کاروباربھی دیکھنا ہوتے ہیں اس لیے مری کے لیے ان کے پاس ٹائم بالکل نہیں ہوتا اس لیے انہوں نے حافظ عثمان کو مری کا سارا نظام سپرد کررکھا ہے۔ حافظ عثمان مری کی بابت وزیراعظم کی آنکھوں اور کانوں کا درجہ رکھتے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ زیر نظر معاملے میں وزیراعظم کے کان یعنی حافظ عثمان پر جوں نہیں رینگی۔ پولیس اور انتظامیہ بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں جبکہ سیاح لٹ رہے ہیں یا پٹ رہے ہیں۔ اگر سیاحوں کی طرف سے بائیکاٹ کامیاب ہوگیا تو یہ لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ یہ اپنے پاؤں پر خودکلہاڑی مارہے ہیں اور اگر وزیراعظم نے مداخلت نہ کی تو اگلے الیکشن میں ان کے یہاں سے دوبارہ منتخب ہونے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں لہٰذا انہیں اپنا گھر درست کرنے کی ضرورت ہے۔
مری میں عام سیاحوں کے مسائل اس لیے منظرعام پر نہیں آتے کیونکہ وی آئی پی کلچر والے سیاحوں کو ان کا سامنا نہیں کرنا پڑتا مثلاً بڑے لوگ پنجاب لاجز یا اس طرح کے گیسٹ ہاؤسز یا پی سی بھور بن میں قیام کرتے ہیں۔ نہ پارکنگ کا مسئلہ اور نہ کھانے کا اور نہ ہی اووربلنگ کالیکن اگر آپ قیام وطعام کے اخراجات کا موازنہ کریں تو زیادہ فرق نہیں ہے۔ اسی طرح اگر آپ شمالی علاقہ جات کالام سوات گلگت وغیرہ کی سیاحتی صورت حال دیکھیں تو وہ علاقے دوردراز ہونے کے باوجود سستے بھی ہیں اور مقامی آبادی کا رویہ اور میزبانی بہت شاندار ہے۔ مگر اسلام آباد سے صرف 50کلومیٹر دورمری میں لاقانونیت اور مہنگائی نے سیاحوں کا جینا محال کررکھا ہے۔ پاکستان میں سیاحت کے فروغ میں حائل رکاوٹوں میں ایک مری کی مجموعی صورت حال بھی ہے۔ حکومت کو فوری طورپر وہاں Hospitality کالج کھولنا چاہیے جہاں اہل مری کو میزبانی اور مسکراہٹ سکھانے اور نرم لہجے میں بات کرنے کی تربیت دی جائے۔ دوسرا وہاں سہولیات میں اضافہ کیا جائے اور اسلام آباد اور مری کے درمیان مزید ایسے علاقے آباد کیے جائیں جہاں سیاح قدرت کے نظاروں کو قریب سے دیکھ سکیں۔ اس سے مری والوں کی اجارہ داری بھی کم ہوگی اور سیاحوں کا رش اور پریشر بھی کم ہوگا۔ محکمہ ٹورازم کو چاہیے کہ یہاں ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس اور ریسٹورنٹ کے فرنچائز بنائیں جن کا معیار اور معاوضہ اطمینان بخش ہو۔ پنڈی اور مری میں جس سرکاری افسر کو حافظ عثمان کا فون آجائے وہ فون کی گھنٹی کے ساتھ ہی احترام سے کھڑا ہوجاتا ہے اور کھڑے ہوکر فون سنتا ہے ہمارے وزیراعظم صاحب کو چاہیے کہ حافظ عثمان کے توسط سے ہی مری میں اصلاح احوال پر کچھ نہ کچھ توجہ دیں ورنہ مری سے عباسی خلافت کا خاتمہ ہو جائے گا۔


ای پیپر