تنازع فلسطین: دو ریاستی حل کیا ہوا؟
09 مئی 2018

سب جانتے ہیں مگرسب خاموش ہیں، ان کی خاموشی کے باوجود تاریخ بول رہی ہے کہ اسرائیل نے 1967 ء میں مغربی کنارے ، غزہ پٹی اور مشرقی بیت المقدس میں قبضے میں لی گئی فلسطینی اراضی پر یہودی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی کئی دہائیوں سے جاری رکھی ہوئی ہے۔عالمی برادری مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بستیوں کی تعمیر کی سرگرمیوں کو غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ شمار کرتی ہے۔ یہ ایک معروف اور مسلمہ حقیقت ہے کہ قبلہ اول اور القدس صرف فلسطینیوں کے نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کے مراکز ہیں۔ مسجد اقصیٰ خالص مسلمانوں کا مذہبی مقام ہے اور اس کا درجہ حرمین شریفین کے بعد دنیا میں مسلمانوں کے تیسرے مقدس مقام کا ہے۔غضب تو یہ ہے کہ صہیونی ریاست بیت المقدس کا نقشہ تبدیل کرنے اور مقدس شہر کا تاریخی اسلامی سٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہو رہی ہے۔ فلسطینیوں کو بندوق کے زور پر شہر چھوڑنے پرمجبور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ وہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی مجوزہ خود مختار ریاست کے دارالحکومت کا درجہ دیتے ہیں۔ فلسطینی حکام کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل ہوا تو اس کے نتیجے میں تنازع فلسطین کا دو ریاستی حل تباہ ہوجائے گا۔
سلامتی کونسل کے14 اراکین نے دسمبر 2016ء میں ایک قرارداد میں صہیونی حکومت سے تقاضا کیا تھا کہ وہ 1967ء سے مقبوضہ سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کو فوری طور پر روک دے۔سلامتی کونسل نے ملائیشیا، وینزویلا، نیوزی لینڈ اور سینیگال کی مجوزہ قرارداد کو منظور کر لیا تھا ۔ سلامتی کونسل نے کثرت رائے سے منظور کی جانے والی قرارداد میں اسرائیل کی فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسئلہ فلسطین کے حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا تھا۔ امریکہ نے قرارداد پر ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا مگر یہ امر حیران کن ہے کہ واشنگٹن نے یہ قرارداد ویٹو بھی نہیں کی تھی۔ امریکہ نے پہلی بار 1979ء میں اسرائیلی توسیع پسندی کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کیا تھا۔ اس قرارداد کے بعد اسرائیل کے پاس2 ریاستی حل کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا ۔ یہ تأثر قوی ہوا کہ فلسطین میں یہودی آباد کاری کے فروغ کے لیے اسرائیل نے جو بھی اقدامات اٹھائے ہیں، اب اسے ان سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔مقام حیرت ہے کہ اقوام متحدہ کی کچھ قراردادوں پر روشنائی خشک ہونے سے پہلے ہی عمل درآمد ہو جاتا ہے لیکن عالمی ادارہ بتائے وہ مسئلہ فلسطین پر اپنی منظورکردہ قراردادوں پر عملدرآمد اور تنازع حل کروانے میں 70برسوں سے کیوں ناکام ہے؟ یہ درست ہے کہ سلامتی کونسل نے فلسطین میں یہودی کالونیوں کو غیرقانونی قرار دیا ہے مگر اس قرارداد پرعمل در آمد کب ہوگا۔
ماضی میں امریکا کی ڈیموکریٹک اور ری پبلکن، دونوں جماعتوں کی حکومتیں مسئلہ فلسطین کے حل اور مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لئے ’’ دو ریاستی فارمولے‘‘ کی بھرپور حمایت کرتی رہی ہیں جس کے تحت فلسطین کو اسرائیل سے علیحدہ اور آزاد ریاست قرار دینے کا مطالبہ سرفہرست ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس حل پر زور نہ دینے کا اعلان تشویش کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔اسی تناظر میں عالمی سیاسی تجزیہ نگار خبردار کر رہے ہیں کہ اسرائیل کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی غیرمعمولی نرمی کسی بڑے اور عالمگیر سانحے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا حال یہ ہے کہ 17فروری 2017ء کی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’امریکہ مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل پر اصرار نہیں کرے گا، ایسے دو ریاستی حل کا کوئی فائدہ نہیں جس سے امن نہ لایا جا سکے‘۔ اس موقع پر ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ’ ٹرمپ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان قیام امن کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں، وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں خواہ اس میں دو قومی حل شامل بھی نہ ہو اور نہ امریکہ اس معاملے پر اپنا کوئی پسندیدہ حل اسرائیل پر مسلط کرے گا‘۔ یہ امر حںیران کن ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی دورے پر تھے۔ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد یہ اسرائیلی وزیراعظم کا پہلا دورہ تھا۔ پروگرام کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات 15 فروری2017 کو وائٹ ہاؤس میں ہوئی جس میں امریکا اسرائیل تعلقات سے لے کر فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر تک کئی معاملات پرتفصیلی گفتگو ہوئی۔ بعد ازاں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نے مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فخریہ لہجے میں بتایا تھا کہ ’اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں،امریکہ اسرائیل انسانی اقدار کی حمایت کرنے والے ممالک ہیں، اقوام متحدہ کے اسرائیل کے خلاف یکطرفہ اقدامات کو رد کرتے ہیں،اقوام متحدہ اسرائیل کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ رکھتا ہے، امریکہ اسرائیل، فلسطین امن معاہدے کی حمایت کرے گا، امن معاہدے پر متعلقہ فریقین کے ساتھ کام کریں گے، امریکہ سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرے گا، فلسطین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے تک امن معاہدہ نہیں ہو سکتا‘۔ جب کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وفور مسرت میں ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’یہودیوں اور یہودی ریاست کا ٹرمپ سے بڑھ کر کوئی خیرخواہ نہیں،یقین دلاتا ہوں امریکہ کا اسرائیل سے بہتر کوئی اتحادی نہیں، امریکہ اسرائیل اتحاد مشترکہ مفادات اور اقدار پر مبنی ہے، ٹرمپ کی سربراہی میں اسلامی انتہا پسندی کی بڑھتی لہر پلٹ سکتے ہیں،فلسطینیوں کا یہودی ریاست تسلیم نہ کرنا امن نہ ہونے کی وجہ ہے، فلسطین سے امن معاہدے میں عرب ممالک کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں،یہودی آبادکاری تنازعات بڑھانے کا سبب نہیں ہے‘۔ باخبر حلقوں کے مطابق نیتن یاہو پہلے ہی اپنے سفارتی ذرائع سے وائٹ ہاؤس کو پیغام بھجواچکے تھے کہ وہ اپنے دورہ امریکہ میں فلسطین کے مسئلے پر بات چیت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ وائٹ ہاؤس کا بیان بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا جس کے ذریعے بین السطور اسرائیل کو یہ مسئلہ اس کی خواہشات کے مطابق حل کرانے یقین دہانی کرائی گئی تھی۔اندریں حالات یہ امر توجہ طلب ہے کہ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہیں اسرائیل اور فلسطین کے مابین قیامِ امن کے لیے مذاکرات کی ذمہ داری اپنے داماد جیئرڈ کشنر کو سونپ دی جبکہ اسرائیل میں امریکی سفیر کے امیدوار کی حیثیت سے ڈیوڈ فرائیڈمین کو ٹرمپ کا چہیتا تصور کیا جاتاہے جو فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کا زبردست حامی ہونے کے علاوہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر بھی سوال اٹھاتا رہتا ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ ان حالات میں مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کاقیام کیسے ممکن ہے۔


ای پیپر