آنے والے وقت سے ڈریں۔۔۔ غصہ نہ کریں۔۔۔ ؟؟
09 مئی 2018 2018-05-09

’’بھینسیں ۔۔۔ بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں‘‘۔۔۔ یہ محاورہ آپ نے سن رکھا ہو گا۔ اس حوالے سے گدھے پھر گدھوں کے بھائی ہوتے ہوں گے۔۔۔؟ ویسے اس میں پریشانی یا حیرت والی مجھے تو کوئی بات دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے ہی لُدھڑ بھی پھر لُدھڑ کے بھائی ہی قرار پائے۔۔۔ یعنی برائی برائی سے جڑی ہوتی ہے اور نیکی نیکی سے ۔۔۔
میں اکثر اکیلے میں ان محاوروں پر غور کرتا ہوں۔۔۔ غصہ آتا ہے کہ موجد پر۔۔۔ کچھ فقروں کی بارش کروں۔۔۔ پھر غور کرتا ہوں۔۔۔
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
آخر جس نے یہ محاورے ایجاد کئے یا تخلیق کر ڈالے۔۔۔ اُس کو کوئی سوجھی ہو گی یا اُس کے دماغ میں کوئی تو فلسفہ ابھرا ہو گا کہ عرق ریزی کے بعد یہ محاورہ عوام ’’کی تفریح‘‘ کے لیے مارکیٹ میں بھیجا گیا۔۔۔ اور زبان زد عام و خاص ہوا اور پبلک پراپرٹی قرار پایا جہاں چاہو استعمال کر ڈالو۔۔۔ کچھ لوگ ٹھیک محاورہ غلط جگہ پر استعمال کر جاتے ہیں جسے لوگ انجوائے کرتے ہیں۔
اچانک گزشتہ شام والا واقعہ یاد آ گیا۔۔۔ شیخ صاحب نے نئی اصطلاح ایجاد کی۔۔۔ ’’بیلی میٹر‘‘۔۔۔ ٹوبہ ۔۔۔ جھنگ۔۔۔ گوجرہ سمندری کے علاقے میں دوست کو ’’بیلی‘‘ کہتے ہیں۔۔۔ یہ خدا جانتا ہے آج کل کوئی کسی کا ’’بیلی‘‘ ہے یا نہیں ویسے ’’کاروباری بیلیوں‘‘ کے بارے میں ہم نے سن رکھا ہے کہ ’’چوروں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں‘‘۔۔۔ جلسوں سے تو لگتا ہے کہ عمران خان کے ’’بیلی‘‘ اُن کے جلسوں میں رونق بڑھا رہے ہیں اور خان سامنے مجمع دیکھ کر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی آپے سے باہر ہو رہا ہے۔ کسی کو چور کسی کو لیٹرا، کسی کو ڈاکو کہتے ہوئے خان کو پشیمانی نہیں ہوتی۔
اس محاورے پر خدارا آپ غور ہی نہ کیجئے ۔۔۔ عمل تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔ کیونکہ شیخ صاحب کی اہلیہ ہماری بھابھی صاحبہ کافی ’’بھولی‘‘ ہیں بقول اُن کے اپنے منہ سے کئی بار اپنی اس کم مائیگی کا اقرار کر چکی ہوں۔ ہمیں بہر حال اُن کے اس اقرار سے انکار تھا۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔ انہوں نے ہی واپڈا کے ایک کلاس فور ملازم کو بھی بھائی بنا لیا۔ جابر جلال جوئیہ ’’مسٹر ٹرپل جے‘‘ گلے میں سونے کی موٹی چین بڑے سلنسر والی موٹر سائیکل مگر پروفیسر یقین علی یقین کی طرح ہر وقت بے یقینی کی کیفیت میں رہنا ان کا طرہ امتیاز ہے۔ میرا دل چاہتا ہے میں ’’مسٹر ٹرپل جے‘‘ کو پروفیسر ٹرپل جے کہا کروں۔۔۔ مگر میں یہ جسارت نہیں کر سکتا۔۔۔ جسارت سے روزنامہ ’’جسارت‘‘ یاد آ گیا اور روز نامہ ’’جسارت‘‘ سے جماعت اسلامی اور پھر خیال آیا کہ واپڈا سے ریٹائرمنٹ کے بعد وقت گزاری کے لیے اگر مسٹر ٹرپل جے نے جماعت اسلامی جوائن کر لی تو پھر وہ پروفیسر ٹرپل جے ہی کہلائیں گے۔ اللہ کرے جلد وہ وقت آئے اور جلد وہ واپڈا کو چھوڑ کر جائیں۔۔۔ اور پروفیسر ٹرپل جے کہلائیں واپڈا کا بھی بھلا ہو جائے گا اور جماعت اسلامی کا بھی کہ اُنھیں ’’اچھے‘‘ ورکر درکار ہیں۔ اور کافی عرصہ سے جماعت میں کوئی نیا پروفیسر متعارف نہیں ہوا۔
مسٹر ٹرپل جے کے کارنامے سے پہلے ۔۔۔ میں نے طویل تعارف کیوں کروایا۔۔۔ اصل میں چند سال پہلے مسٹر ٹرپل جے نے ہماری بھابھی صاحبہ سے گزارش کی کہ آپ گھر میں جتنے چاہیں اے سی چلائیں۔۔۔ لاہور کو مری بنائیں۔۔۔ سَتو پئیں ۔۔۔ سو جائیں۔۔۔ خوابوں میں کھو جائیں ۔۔۔ صرف 1000 روپے کے عوض ہم بھی دوپہر میں شیخ صاحب کے ہاں چلے جاتے۔۔۔ گھر خوب اے سی چلنے کے شور سے گونج رہا ہوتا۔ ہمسائے میں بہت بل آ جانے کے ڈر سے پنکھا بھی نہ چلایا جاتا۔۔۔ یہاں معاملہ اُلٹ۔۔۔ ایک سال تک یہ سب خوب چلا۔۔۔ بھابھی صاحبہ کی رنگت میں بھی واضح فرق آ گیا۔۔۔ آج کل جو چہروں کے بدلنے کا کام بیوٹی پارلرز سر انجام دے رہے ہیں وہ کام اے۔ سی کی ٹھنڈک نے کر دیا۔ اکثر رشتہ داروں کا ’’پڑاؤ‘‘ شیخ صاحب کے ہاں رہتا اور ٹھنڈ پروگرام بھی جاری رہتا۔
’’ٹھک ٹھک‘‘۔۔۔ ’’ٹھک ٹھک‘‘۔۔۔ یا اللہ یہ اس لوڈ شیڈنگ والی خوفناک رات میں کون اٹھائی گیرہ آ دھمکا۔۔۔ ارے میاں آ رہا ہوں۔۔۔ بس بھی کر ۔۔۔ مہینے کی اٹھائیس تاریخ کو توڑ ڈالے گا گھر کا مین گیٹ ۔۔۔ ابھی ابھی بجلی کا بل بارہ ہزار روپے دے کر ’’فارغ‘‘ ہوا ہوں ۔۔۔ حساب لگا رہا ہوں ۔۔۔ اگلے تین دن گھر کا چولہا کیسے چلے گا۔
’’ٹھک ٹھک‘‘۔۔۔ ’’ٹھک ٹھک‘‘۔۔۔ میں نے بھاگتے ہوئے پہنچ کر دروازہ کھولا ۔۔۔ شیخ صاحب تھے ۔۔۔ بازو پکڑا چل دئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکر ہے میں تھا ۔۔۔ اگر ابا جی دروازہ کھولتے تو ممکن ہے شیخ صاحب اُن کا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوئے لے چلتے ۔۔۔ ’’شیخ صاحب کیا ہوا‘‘ ۔۔۔ میں نے پوچھا ۔۔۔ تو بولے ۔۔۔ ’’پوچھ کیا نہیں ہوا ۔۔۔ ’’وہ بے ہوش پڑی ہے‘‘ ۔۔۔ ’’کون‘‘ ۔۔۔ ’’میں نے کیا کہا ہے‘‘۔۔۔
میں گھبرا گیا۔۔۔ یا اللہ ۔۔۔ کہیں تھانے نہ لے جائیں ۔۔۔ واقعی بھابھی (شیخ صاحب کی بیوی) بے ہوش پڑی تھیں ۔۔۔ پاس واپڈا والوں کا نوٹس تھا ۔۔۔ ’’ہیرا پھری‘‘ کا مقدمہ ۔۔۔ ایک لاکھ تیس ہزار یکدم جمع کرانے کا حکم ۔۔۔ ’’ورنہ‘‘ ۔۔۔ یہ لفظ ’’ورنہ‘‘ ہر سرکاری خط کا ضروری حصہ ہوتا ہے اور ’’خوف‘‘ کی علامت بھی ۔۔۔
شیخ صاحب نے مسٹر ٹرپل جے کا نمبر ملا کر موبائل میرے کان کے ساتھ لگا دیا ۔۔۔ ’’بھائی ۔۔۔ بھابھی سے کہیں گھبرائیں مت میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے مری آیا ہوا ہوں۔ آپ یہ ایڈجسٹمنٹ والے ایک لاکھ تیس ہزار جمع کرا دیں ورنہ یہ میرے بھائی بند آپ کا میٹر کاٹ دیں گے کیونکہ یہ کتنے سخت لوگ ہیں یہ میں ہی جانتا ہوں کیونکہ بھینسیں، بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں۔۔۔‘‘
مسٹر ٹرپل جے آپ غلط بات کر رہے ہو ۔۔۔ ’’گدھے ۔۔۔ گدھوں کے بھائی ہوتے ہیں‘‘ ۔۔۔ میں نے غصے میں کہا اور فون بند کر کے 1122 کو فون ملانے لگا کیونکہ بھابھی صاحبہ ہوش میں نہیں آ رہی تھیں ۔۔۔ اور ’’مفت کا مال‘‘ سمجھ کر چلنے والے سارے اے سی بھی بند تھے ۔۔۔
ہراساں کر رہی ہے یاد اس کی
مجھے یہ خوف اچھا لگ رہا ہے


ای پیپر