’’ہر انسان اپنے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے‘‘
09 مئی 2018 2018-05-09

سترہ سال کی عمر اس کالج سے نکال دیا گیا ، 25 سال کی عمر میں اس کی والدہ اسے اکیلا چھوڑ کر دنیا سے چلی گئیں ، اس سے اگلے سال اس کا مس کیرج ہوا ، 27160سال کی عمر میں اس کی شادی ہوئی مگر دو سال بعد ہی اس کی شادی 29 سال کی عمر میں طلاق پر ختم ہوئی اور کم سن بیٹی کے ساتھ وہ حکومت کے پیسوں کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہی تھی ، پھر ایک دن وہ بھی آیا جب حالات سے تنگ آکر اس نے خود کشی کا فیصلہ کیا مگر پھر اس نے خود کو ایک موقع دینے کا سوچا۔ اس نے سوچا کہ اس نے ساری زندگی لوگوں کے کہنے پر ، ان کے دکھائے ہوئے راستے پر گزاری تو کیوں نہ خود کو ایک موقع دیا جائے۔ اسے لگتا تھا کہ اس کے اندر ایک لکھاری ہے ، وہ بچپن سے اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات کو دیکھ کر نوٹس کی شکل میں لکھتی رہتی تھی ، اس کے اپنے کردار تھے جن میں وہ زندہ تھی ، انہی کے ساتھ ہنس بول لیتی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک لکھاری بنے گی۔ اس نے ایک ناول لکھا مگر سب نے اس کی کتاب چھاپنے سے انکار کر دیا۔ پبلشرز کا کہنا تھا کہ اس میں تخلیقی صلاحیت کی کمی ہے ، اس کے کردار حقیقت سے دور ہیں مگر پھر وہ دن بھی آیا جب اس کا پہلا ناول شائع ہو گیا۔ 31 سال کی عمر میں ایک ناشر نے یہ رسک لیا کہ ایک نئے ناول نگار کی کتاب چھاپی جائے۔ صرف 4160سال بعد 35سال کی عمر میں اس کی 4 کتابیں شائع ہوچکی تھیں ،اسے سال کا بہترین رائٹر کا ایوارڈ دیا جا چکا تھا۔ 42 سال کی عمر میں اس کے نئے شائع ہونے والے ناول کی پہلے ہی دن دنیا بھر میں 11 ملین کتابیں فروخت ہوئیں۔ اس رائٹر کا نام جے کے رولنگ ہے اور اس کے تخلیق کئے ہوئے عالمی کردار ’’ہیری پوٹر‘‘ کی مالیت آج ایک اندازے کے مطابق 15 بلین سے بھی زائد ہے ۔
دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہر دور کے صاحب اقتدار لوگوں نے غریبوں پر حکومت کرنے کیلئے ہمیشہ یہ بولا ہے کہ ’’غریب کی غربت دور کر دی جائے‘‘۔ ہم آپ کے ملک پر قابض ہوں گے تو اپنے طرز حکومکت اور اپنے حسن سلوک سے آپ کی زندگی بدل دیں گے ، ہم اقتدار میں160آئیں گے تو آپ کے ووٹوں کی طاقت سے ملک کی تقدیر بدل دیں گے ، ہمیں صرف ایک موقع دیں لیکن آج تک غریب کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس دنیا کی 5ہزار سالہ موجودہ تاریخ میں کوئی ایک نظام ایسا نہیں آ سکا جس نے کسی بھی معاشرے سے غربت کا خاتمہ کیا ہو۔ غریب ہر دور میں موجود رہے ہیں اور ہر دور میں موجود رہیں گے ، کیونکہ غربت کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے ۔ ہر انسان الگ دماغی طاقت لے کر دنیا میں آیا ہے ۔ میرے رفیق کہا کرتے تھے ’’ ہر انسان اپنے ماحول کی پیداوار ہے ‘‘۔ ابتدا میں اس ایک جملے میں موجود کائنات سمجھنے کی میری اوقات نہیں تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر انسان کی طرح زندگی کی سرد گرم ٹھوکروں سے گول ہوتے ہوتے یہ فلسفہ سمجھ میں آیا کہ ہر انسان اسی سانچے میں ڈھل جاتا ہے جو اس کی سوچ کی پرواز ہوتی ہے ، اس کی سوچ کی پرواز اگر اپنے ماحول سے اوپر کی ہوتی ہے تو وہ اپنے ماحول سے نکل جاتا ہے ۔ اس کی مثال ایسے بھی دی جا سکتی ہے کہ ایک ہی دفتر میں سیکڑوں لوگ مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں ، کچھ افسر اعلیٰ ہوتے ہیں ، کچھ کارکن ، کچھ چائے پلانے والے ، بات سننے والے اور کچھ صفائی کرنے والے۔ یہ سب لوگ اپنے اپنے ماحول کی پیداوار ہیں ، یہ سب لوگ اپنے ذہن کی پرواز کے مطابق اڑ رہے ہیں۔ ایک سفید پوش زندگی کی پہلی گاڑی لینے پر وہی خوشی محسوس کرتا ہے جو ایک نچلے طبقے کا قسطوں پر سیونٹی موٹر مائیک نکلوا کر۔ واحد چیز جو آپ کو ترقی کے سفر پر گامزن کرتی ہے وہ ہوتی ہے160آپ کی سوچ کی پرواز۔ آپ کی سوچ کی پرواز کا تعلق آپ کے دماغ کی بنت سے ہوتا ہے ، آپ کی پرواز جتنی بلند ہے آپ اتنا ہی اونچا اڑنے کیلئے جدوجہد کرتے ہیں۔ مگر سوچ کی اونچی پرواز سے بھی معاملات حل نہیں ہوتے ، اس کے ساتھ آپ کو ایک اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جہد مسلسل ، محنت ، انتھک جدوجہد اور ضد۔ جی ہاں آپ کے اندر ضد ، کچھ حاصل کرنے کا جنون وہ دوسری چیز ہے آپ کو زندگی کی آسانیاں دلوا سکتا ہے ۔ آپ وہ حاصل کر سکتے ہیں جتنی آپ کے ذہن کی پرواز ہے ۔ بہت سی اونچی پرواز والے صرف بڑی بڑی باتیں سوچ کر مٹی میں مل چکے ہیں جو شاید محنت کرتے تو کسی مقام پر ہوتے۔
ایسی مثالیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں جو زمین سے اٹھ کر آسمان کو چھو سکے۔ مگر یہ وہی لوگ تھے جن کے ذہن کی پرواز بلند تھی اور انہوں نے ضد لگا لی کہ اب ہر حال میں اپنے مقصد کو حاصل کر کے ہی رہنا ہے ۔ اسی محنت اور جدوجہد کی ایک اور کہانی آپ کو سناتے ہیں۔ آج کے ایک کرکٹ لیجنڈکو ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملا تو اس نے ڈومیسٹک ٹیسٹ کرکٹ کے پہلے ہی روز 40 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر سب کو حیران کر دیا ، ابھی چار دن کا کھیل باقی تھا ، وہ گھر آیا اور آکر سو گیا مگر وہی رات جو اس کی زندگی کی سب سے خوشی کی رات تھی،اڑھائی بجے اس وقت غم میں بدل گئی جب اس کے والد برین ہیمبرج کی وجہ سے وفات پا گئے۔اس کی ماں صبح تک میت کے کنارے بیٹھی اسی کشمکش میں رہی کہ بیٹے کو کیسے بتائے اور کیسے وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے دن اس غم کو برداشت کرے گا۔ صبح جب وہ سو کر اٹھا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا باپ اس دنیا سے جا چکا ہے ۔ وہ غم میں دنیا سے بیگانہ ہو گیا کیونکہ یہ اس کے باپ کا ہی خواب تھا کہ وہ کرکٹر بنے۔ اس نے اپنے کوچ کو فون کر کے بتایا کہ اس کے والد دنیا میں نہیں رہے ، مگر وہ آج کا میچ کھیلے گا۔ وہ گھر میں اپنے والد کی میت چھوڑ کر کریز پر پہنچا ، چالیس کے سکور کو 90160پر پہنچایا ، آؤٹ ہوا اور واپس گھر آکر اپنے والد کی آخری رسومات ادا کیں۔ آج اسی نوجوان کو کرکٹ کی دنیا ویرات کوہلی کے نام سے جانتی ہے ۔ جب میں اس کی کہانی نہیں جانتا تھا تو اس کو کریز پر کھڑا دیکھ کر حیران ہوا کرتا تھا کہ اس کی آنکھوں میں ڈر نظر نہیں160آتا ، وہ جس طرح سب کچھ بھول کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرواتا تھا وہ میرے لئے حیران کن تھا۔ مگر اس کے اس نڈر جذبے کے پیچھے جو کہانی تھی ، وہ جدوجہد ، سوچ کی پرواز اور ضد تھی۔ وہی اسے اس مقام پر لے آکر آئی۔
سوچ کی پرواز اور اپنے ماحول کے جمود کو توڑنا ہی اپنے حالات سے نکلنے کا واحد حل ہے ، کوئی غربت ختم کرنے کا نعرہ آپ کی زندگی نہیں بدل سکتا ، کوئی مسیحا آکر آپ کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کرے گا۔ آپ ہی ہیں جو اپنی مدد کر سکتے ہیں۔


ای پیپر