صبر کا دامن
09 مئی 2018

سیاسی منظر نامہ ہرگزرتے دن کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنی سرگرمیاں تیز سے تیز کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں وہ جلسے کر رہی ہیں تو کہیں ’’نکر ملاقاتیں‘‘۔ مقصد اس کا یہی ہے کہ وہ آنے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ ان کا منشور کیا ہے۔ ابھی تک اس بارے وہ عوام کو بتانے سے قاصر ہیں۔ ہاں البتہ چند ایک چیزیں سامنے آئی ہیں۔ جو کوئی خاص کشش نہیں رکھتیں۔ کیونکہ وہ روایتی نوعیت کی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ تو زیادہ تر اپنے حوالے سے بات کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کیوں ایسا کیا گیا۔ ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ بھی لگا رہے ہیں، مگر وہ بھی ان کی ذات سے متعلق ہے۔پی پی پی نے بھی وہی روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے، مگر یہ عوام کے حافظے میں پہلے سے موجود ہے ۔ لہٰذا انہیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ اس پر عمل درآمد کر سکے۔ ایک تو وہ دور نہیں دوسرے اس کے پاس وہ قیادت نہیں جو عوام کے لیے دل میں تڑپ رکھتی ہو۔ اب تو اقتدار کے حصول تک ہی وہ مجبور نظر آتی ہے۔ رہی پی ٹی آئی اس نے جو گیارہ نکات پیش کیے ہیں ان میں معمولی سی جاذبیت ہے۔ مگر نیا اس میں کچھ نہیں۔ لہٰذا کہنا پڑتا ہے کہ سب کچھ روایتی ہے۔ اس کے باوجود سیاسی عمل آگے بڑھنا چاہیے۔ اسی میں ہی ملکی ترقی و تعمیر کا پہلو پنہاں ہے۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ سیاستدان جو سیاسی کلچر متعارف کرا رہے ہیں۔ وہ درست ہے؟
جولب و لہجہ وہ اختیار کر رہے ہیں اس سے تو عوام میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ اور وہ نفرت کے الاؤ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ جو موجودہ حالات میں کسی طور بھی ٹھیک نہیں کہ سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔
بھارت ہماری سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے نت نئے حربے اختیار کر رہا ہے۔ کبھی وہ گولہ باری کرتا ہے تو کبھی وہ کوئی الزام عائد کرتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ ہمارے کھیتوں کو ہماری زمینوں کو بنجر بنانے کے درپے ہے۔ جس کی طرف ہماری سیاسی جماعتون کی توجہ بہت کم ہے۔ ادھر وہ کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔وہ استصواب رائے کا حق چاہتے ہیں۔ مگر انہیں زندہ درگور کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو اپاہج بنا کر ان کی زندگیاں برباد کی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرنے سے مسلسل انکاری ہے اور کہے جا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس مسئلے پر سیاسی جماعتیں لب کشائی اس طرح نہیں کر رہیں جس طرح انہیں کرنا چاہیے۔ ایک جماعت ہے جو کشمیریوں کے لیے اپنا اخلاقی فرض تن دہی سے ادا کر رہی ہے۔ اسے مستقبل میں بھارتی عزائم سے کسی خیر کی توقع ہر گز نہیں لہٰذا وہ اقوام عالم کی توجہ اس جانب مبذول کرانے میں کوشاں ہے مگر اس پر بھارت اور اس کے ہم نوا چیخ رہے ہیں جبکہ یہ خالصتاً انسانی مسئلہ ہے۔
بہر حال ملکی سیاست ایک نئے رخ پر محو سفر ہے ۔ مگر اس میں جو تشدد در آیا ہے وہ تشویشناک ہے۔ لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہاں کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنوں کو ضبط و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے کی تربیت و ترغیب دیں۔ کیونکہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر ملک میں افراتفری پھیلتی ہے تو پھر احتساب پہلے انتخاب بعد میں ہو گا؟
کیونکہ عام خیال ہے کہ اگر آئندہ بھی ان میں سے ہی ‘‘عوامی نمائندے ‘‘ منتخب ہو کر ایوانون میں جاتے ہیں تو پھر کیسے بد عنوانی سے پاک نظام حکومت آ سکے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ احتسابی عمل کو مزید پھیلایا جائے اور عوام کے نمائندوں کو صحیح معنوں میں عوامی بنایا جائے۔ کیونکہ اب وطن عزیز مزید اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس کی معیشت مشکلات کا شکا ر ہے۔ قرضوں کا حجم موجودہ حکومت نے خوفناک حد تک بڑھا ریا ہے۔ اب تو لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر ہمیں بھاری قرضہ لینا پڑے گا تاکہ ملکی معاملات کو چلایا جاسکے۔ بصورت دیگر ریاستی اداروں کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات پر زد پر سکتی ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ انتخابات ہوں بد عنوانی پر قابو پا کر معاشی مسئلہ حل کیا جائے اور پھر عوام کو ان کے دوست نمائندے جو ہر طرح کے طمع لالچ اور حرص سے مبرا ہوں منتخب کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
ایک حد تک یہ بات درست بھی ہے کیونکہ روایتی سیاسی کلچر میں طویل عرصہ رہنے والی سیاسی شخصیات نئے انتخابات میں کامیاب ہو کر جب ایوانوں میں پہنچیں گی تو وہ پرانا کھیل دوبارہ شروع کر دیں گی۔ لہٰذا لازمی ہے کہ پہلے بھل صفائی ہو مگر یہ بھی ہے کہ سو فیصد دیانت دار اور حرص و ہوس نہ رکھنے والے لوگ کیسے میسر آئیں گے۔ لہٰذا انتخابات ہونے چاہییں۔ مگر قوانین جو احتساب سے متعلق ہوں ان پر سختی سے عمل ہو ۔ جیسا کہ اب ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں بہت سوں کے کان کھڑے ہو چکے ہیں۔ اب وہ سلسلہ جو آج سے ایک برس پہلے شروع تھا اس کی رفتار انتہائی سست پر گئی ہے۔ ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والے سوچ بچار میں مصروف ہیں۔ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ آخر کا ر ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی رقوم کا ایک بڑا حصہ واپس خزانہ میں آ جائے گا۔ کیونکہ یہ طے ہے کہ اب بد عنوانوں کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ معیشت کا شدید متاثر ہونا ہے۔ لہٰذاکہا جا سکتا ہے کہ آنے والے انتخابات میں ایک بالکل نئی مثبت سوچ کے حامل افراد ہی کامیاب ہو سکیں گے۔ کہ احتساب کی چھلنی میں سے گزر کر آنا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔ خیر دوبارہ آتے ہیں سیاسی سرگرمیوں کی طرف کہ تمام بڑی جھوٹی جماعتیں اپنے اپنے دائروں میں سر جوڑ کر بیٹھ چکی ہیں۔ کس کو کہاں سے کھڑا کرنا ہے اور کس کو نہیں کرنا۔ پھر کسی کو شامل کر کے اپنی سیاسی قوت میں کیسے اضافہ کرنا ہے۔ اس کے لیے بھی وہ غور و فکر کر رہی ہیں۔ مگر انہیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہو گا کہ مجموعی صورت حال قابو میں رہے یعنی غم و غصہ نقطہ کھولاؤ تک نہ جانے پائے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ابھی ہمارے سیاستدان (سارے نہیں) جذباتیت کے حصار میں ہیں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہو سکتی ہے۔ کہ ان کی تربیت نہیں ہوئی جس سے سیاست سنجیدگی کے قریب تر نہیں ہے۔ یہاں میں ’’ول ڈیورانٹ‘‘ کی رائے کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ ابتدا میں ہر شخص اپنا طبیب خود تھا اور ہر گھر میں اپنی ضرورت کی دوائیں موجود ہوتی تھیں۔ لیکن جوں جوں طبی معلامات میں اضافہ ہوتا گیا ایک عام انسان کے لیے یہ نا ممکن ہو گیا کہ وہ تمام فہرست ادویہ کو ازبر کرلے۔ لوگوں کا ایک خاص گروہ اٹھا اور اس نے اپنا وقت طب کے مطالعہ پر صرف کیا اور ماہر طبیب وجود میں آئے۔ لوگوں کو عطائیوں سے محفوظ کرنے کے لیے طب کے ماہرین کو اعلیٰ خطاب اور سندیں دی گئیں۔ اب حالات یہ ہیں کہ جب تک کسی نے یہ سند حاصل نہ کی ہو قانون اسے طبابت کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن جو لوگ ہمارے اجتماعی امراض کا علاج کرتے ہیں۔ اور کروڑوں جانوں کو جنگ اور امن میں خطرہ میں ڈالتے ہیں اور جن کے اختیار میں ہماری جائیداد اور آزادی ہے انہیں کسی مہارت یا مطالعہ کی ضرورت نہیں۔ یہ کافی ہے کہ وہ صدر کے دوست ہوں جماعت کے وفادار ہوں اور خوش اخلاق ہوں۔ گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے ہوں اور کندھوں پر ہاتھ مارتے ہوں۔ چاہے کچھ ہوں اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں‘‘۔ بہرکیف کوشش یہ ہونی چاہیے کہ سب کارکنان و عوام ہنستے مسکراتے سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہوں ۔ کبھی ایسا ہوتا تھا کیونکہ ہمارا سماجی نظام کافی بہتر تھا۔ مگر امن، خوشحالی اور یکجہتی کے لیے ہمیں ایک بار پھر متحد ہونا ہو گا۔ ہمیں صبر کا دامن تھامنا ہو گا۔


ای پیپر