تحریک انصاف کامیاب جلسے کے بعد ۔۔۔
09 مئی 2018

مینار پاکستان پر موجود تاحدِ نظر انسانوں کا ہجوم پاکستان کی زندہ تاریخ ، مستقبل کے رکھوالے اور قرارداد پاکستان پیش کرنے والوں کے حقیقی جانشینوں کا اجتماع تھا۔ یہ صرف انسانوں کا ہجوم نہیں بلکہ ایک عوامی مطالبے کا اکٹھ ہے ۔۔۔ 2 نہیں 1 پاکستان ۔چیئرمین تحریک انصاف نے آغاز میں ہی صدر سینٹرل پنجاب عبد العلیم خان اور شعیب صدیقی کو جلسے کے بہترین انتظامات پرمبارک باد دی جو پاکستان تحریک انصاف کے ہر اُس ورکر کیلئے تھی جس نے عبد العلیم خان کی ٹیم کا حصہ بن کر اس جلسے کے انتظامات میں حصہ لیا ۔میرے نزدیک تحت لاہور کے اصل وارث علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ہیں جن کی 1000 سالہ حکومت آج بھی قائم ہے ۔ہم صوفیا کے ماننے والے ہیں ۔ ہمارے بزرگوں نے صوفیا کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ،جن کادرس محبت ، بھائی چارے ، مساوات ، امن اور دکھ سکھ بانٹ کر خوبصورت معاشرے کی تشکیل تھا اور ہم ایسا ہی پاکستان بنانا چاہتے ہیں جہاں کسی سے مذہب کی بنیاد پر ، مسلک کی بنیاد پر ، غریب اور امیر کی بنیاد پر ، کمزور اور طاقت ور کی بنیاد پر فرق نہ کیا جائے ۔ یہی نیا پاکستان ہے جہاں سب سے زیادہ طاقت قانون ہو گا ۔ جہاں ہر شخص قانون کے سامنے بلا امتیاز سرِ تسلیم خم کرے گا ۔ یہ ہے نیا پاکستان جس کا وعدہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے 22 سال پہلے پاکستانی عوام سے کیا تھا۔دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوجائے یا قومی خزانہ برآمد ہو جائے تو ملک میں بھوک ، ننگ ،افلاس ، بیروزگاری جیسی لعنتیں معاشرے پر راج کرتی ہیں اور پھراُن کی کھوکھ سے جرائم جنم لے کر معاشرے کا امن تہ وبالا کردیتے ہیں ۔
میاں صاحب سے ایک سوال آج پوری قوم کر رہی ہے کہ کیا کرپشن کا مشورہ آپ کو فوج نے دیا تھا ؟ کیا منی لانڈرنگ کا چیف جسٹس نے کہا تھا ؟ کیا قومی خزانہ لوٹنے کا خط آپ کو بیوروکریسی نے لکھا تھا ؟ نہیں میاں صاحب آپ نے ہر کرپشن نہ صرف اپنی آزاد مرضی سے کی ہے بلکہ اسے اپنے بچوں کی تربیت کا حصہ بھی بنایا ہے ۔ اب سپریم کورٹ نے آپ کو نااہل قرار دیا ہے ۔نیب میں آپ زیر تفتیش ہیں اور انجام بھی آپ جانتے ہیں ۔۔۔میاں صاحب تسی رنگے ہتھوں پھڑے گئے ہو ۔۔۔ آج آپ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کے پندرہ بیس دن بعد آپ کہاں ہوں گے جبکہ پوری قوم جانتی ہے کہ آپ کو کہاں ہونا چاہیے۔ آپ کہتے ہیں میں جہاں سے کال دوں گا تم نکلنا اور آپ کے اپنے بیٹے پاکستانی ہونے سے انکاری ہیں ۔
میاں صاحب : آپ نے دو بچوں کی تعلیم میں فرق کیا ہے۔۔۔ دو بچوں کی صحت کی سہولتوں میں فرق کیا ہے۔۔۔ دو بیروزگاروں کے روزگار کے مواقعوں میں فرق کیا ہے۔۔۔میاں صاحب ! آپ نے دو ماؤں کی محبت میں فرق کیا ہے ۔۔۔ آپ نے پاکستان سے نکلنے والے ہر وسائل کی نہر کارخ جاتی امراء کی طرف موڑا ہے۔ الیکشن سے پہلے ہر وہ شخص جس نے کرپشن کی ہے وہ جیل میں ہو گا خواہ اُس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔ یہ کرپشن کی پہلی کھیپ ہے جو تحریک انصاف عوامی طاقت کے بل بوتے پر بھیج رہی ہے۔ باقی جیل میں آپ کے پاس پہنچتے رہیں گے ۔
میاں صاحب ! یہ لاہوریے ہیں یا تو یہ گھر سے نکلتے نہیں اور اگر نکل آئیں تو پھر سب کچھ تبدیل کیے بغیر گھر واپس نہیں جانتے ۔ یہی لاہور کی تاریخ ہے ۔انسانوں کے اس ہجوم کوغور سے دیکھیں جلسہ گاہ میں موجود لاکھوں اور گھروں میں بیٹھے کروڑوں انسان آپ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ وہ آپ سے گزرے 35 سالوں کا حساب
مانگ رہے ہیں۔آپ کا گمراہ کن پروپیگنڈا اب آپ کے کسی کام نہیں آئے گا ۔ ووٹ کی کوئی عزت نہیں ہوتی عزت ووٹر کی ہوتی ہے۔ اورووٹر کی عزت یہ ہے کہ اُس کے ساتھ وہ تمام وعدے پورے کیے جائیں جو آئین پاکستان میں لکھے گئے ہیں ۔ میاں فیملی کا پاکستان عوام سے جسم اور روح کا رشتہ قائم رکھنے کا حق بھی چھین چکا ہے۔
آ پ کاپاکستان کرپٹ اور طاقتور مافیا کا پاکستان ہے ۔آپ کا پاکستان کرپشن کے دفاع کا پاکستان ہے۔ آپ کا پاکستان لٹیروں اور چوروں کا پاکستان ہے ۔آپ کا پاکستان عام آدمی کا پاکستان نہیں۔ آپ کا پاکستان بہنو ں او ر بیٹیوں کیلئے محفوظ نہیں ۔آپ کا پاکستان معاشی عدمِ مساوات کا پاکستان ہے ۔آ پ کا پاکستان دو قومی نظریہ نہیں مودی کے نظریات کا پاکستان ہے ۔آپ کا پاکستان آپ کے خاندان اور اُن کے چیلوں کا پاکستان ہے ۔آپ کا پاکستان اقوامِ عالم میں دہشتگرد سمجھا جاتا ہے ۔آپ کا پاکستان آپ کی وجہ سے بدنام ہوا ہے ۔آپ کاپاکستان اوورسیز پاکستانیوں کیلئے رسوائی کا سبب ہے ۔آپ کا پاکستان اداروں کا احترام نہیں کرتا ۔آپ کا پاکستان اداروں کو بدنام کرتا ہے ۔آپ کا پاکستان فوج کے خلاف اشتہار چھپواتا ہے ۔آپ کا پاکستان عدلیہ پر حملہ کرتا ہے۔آپ کا پاکستان بیوورکریسی کو کرپشن کیلئے استعمال کرتا ہے۔آپ کا پاکستان احد چیمہ پیدا کرتا ہے ۔آپ کا پاکستان پاک بھارت سرحد کو ایک معمولی لکیر سمجھتا ہے۔ آپ کا پاکستان اداروں کے خلاف سازش کرتا ہے ۔آپ کا پاکستان صرف لوٹ مار کرنے والوں کا پاکستان ہے۔ آپ کے پاکستان میں پاکستانی عدمِ تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں۔ آپ کے پاکستان میں خواجہ سعد رفیق پیدائشی کنگال ہونے کے باوجود بغیر کوئی کام کیے اربوں کا مالک بن جاتا ہے۔ آپ کے پاکستان میں سیاستدانوں کی گاڑیوں کے آگے دھمال ڈالنے والا مشیر بن جاتا ہے ۔ آپ کے پاکستان میں صرف آپ ، آپ کا خاندان ہے اور اِس سے وابستہ لوگ ہیں یہی آ پ کے پاکستان کی کل آبادی ہے جن کو زندگی کی ہر ضرورت اور آسائش مہیا کرنا آپ کی اولین ذمہ داری ہے ۔
آج پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے امیدواروں کیلئے انٹرویوز کر رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کی 22 سالہ تاریخ میں پہلی بار صدر عبد العلیم خان کی قیادت میں سینٹرل پنجاب کے امیدواروں کے انٹرویوز ہو رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ تحریک انصاف بہترین امیدوار میدان میں اتارے گی۔ہر ضلع اور تحصیل سے آنے والے امیدوار اپنے علاقوں میں اچھی شہرت اور خاندانی سیاسی پس منظر رکھنے والے بہترین افراد ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے بعد چیئرمین تحریک انصاف نے پور ی قوم سے معافی مانگی تھی کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں غلطی ہوئی تھی لیکن اس بار عمران خان یہ غلطی کرنے کیلئے تیار نہیں اور عبد العلیم خان کی موجودگی میں اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہو چکا ہے ۔ ٹکٹ اُسی امیدوار کو ملے گا جس کے جیتنے کے امکانات روشن ہوں گے اور جو پارٹی کی طے شدہ پالیسی پر پورا اترتا ہو گا ۔ چیئرمین سیکرٹریٹ میں میلے کا سماں ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مئی کے اختتام یا جون کے پہلے ہفتے تک امیدواروں کی فائنل فہرست جاری کر دی جائے گی اور اُس کے بعد یہ امید وار گلی محلوں میں اپنی الیکشن مہم چلاتے نظر آئیں گے اور چیئرمین تحریک انصاف کا پیغام گھر گھر پہنچائیں گے ۔مجھے یہ مناظر دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ یہی تو وہ خواب تھا جو ہم نے دیکھا تھا۔ آج پاکستان تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھر چکی ہے اور وہ دن دور نہیں جب یہی تحریک پاکستان کے نوجوانوں کی نمائندہ جماعت ہو گی ۔ اس میں سے کل کی قیادت ابھرے گی جو نئے پاکستان کی محافظ بھی ہو گی اور رکھوالی بھی ۔ کسی بڑے اورخونیں انقلاب سے پہلے یہ نرم طریقے سے تبدیلی اوربہتری لانے کی آخر ی کوشش ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی کامیابی ایک بہترسے بہترین پاکستان کی طرف اہم ترین قدم ہو گا کہ اگر ہم نے بہت کچھ بچانے کی کوشش نہ کی تو شاید بچانے کیلئے کچھ بھی نہ بچے لیکن تحریک انصاف دبے پاؤں پاکستانی سماج کی سیاسی رگوں میں اتر چکی ہے ۔لاہور میں تحریک انصاف کامیاب جلسے کے بعد اب الیکشن کی تیاری میں جت چکی ہے جس کے بارے میں چیئرمین کا تاریخی جملہ ہی کافی ہے کہ ’’ انسان کے اختیار میں صرف محنت ہے فتح شکست اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘‘۔


ای پیپر