ایک پاکستان یا دو پی ٹی آئی
09 مئی 2018 2018-05-09

۱۔تبدیلی نام ہے کرۂ ارض میں نکھار پیدا کرنے کا۔ تبدیلی مظہر ہے محنت، مشقت، ثمرات، راحت و سکون اور ترقی کا۔ تبدیلی نام ہے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے منزل مقصود کی طرف رواں دواں رہنا۔ تبدیلی کے لیے توزان کا ہونا لازم ٹھہرا۔ دن کی روشنی کو رات کے اندھیرے کی چادر کا ڈھانپ لینا، زمین کے اندر مختلف اقسام کے اجناس، مختلف رنگ اور ذائقہ کے پھل، مختلف اقسام اور مختلف رنگ و بُو اور مختلف ڈیزائن کے پھول، چاند اور سورج اپنے اوقات اور مقرر کردہ راستوں پر چلنا، چاند کا بڑھنا اور گھٹنا، یہ سب کچھ تبدیلی کا مرہون منت ہے۔
۲۔ بے شک 29؍اپریل2018ء کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے مینار پاکستان گریٹر اقبال پارک میں پاور شو کیا۔ ایک زمانہ تھا کہ ضلع یا ڈویژن کی سطح پر جماعتیں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا کرتی تھیں۔ پی ٹی آئی کے پاور شو میں پنجاب، سندھ اور کے پی کے عہدیداراور کثیر تعداد میں کارکن شامل تھے۔ جلسے میں تحریک انصاف نے 2018ء کہ الیکشن مہم کا گیارہ نکاتی منشور پیش کیا۔ جوکہ 2013ء کے الیکشن منشور سے کچھ زیادہ متا ثر کن نہیں۔ عمران خان کے 11نکاتی منشور میں انتظامی بنیادوں پر جنوبی پنجاب نیا صوبہ بنانا خوش آئند بات ہے ہزارہ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ صوبہ ہزارہ جس کے لیے 10؍اپریل 2012ء کو سات افراد نے جام شہادت پیتے ہوئے صوبہ ہزارہ کی تحریک کو اپنے خون سے جلا بخشی۔ صوبہ ہزارہ کے لیے آواز نہ بلند کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبہ جنوبی پنجاب کا اعلان عمران خان کا اپنا منشور نہیں بلکہ آصف زرداری کے دیرینہ مطالبہ کی حمایت ہے۔ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام پی ٹی آئی کا منشور ہوتا تو صوبہ ہزارہ کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔
۳۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا یہ نعرہ’’ دو نہیں۔۔۔ ایک پاکستان ‘‘ جہاں امیر و غریب، حاکم اور محکوم، وڈیرے اور مزارع کے لیے یکساں انصاف مہیا کرنا یقیناًکانوں میں رس گھولتا ہے لیکن پڑھنے اور سننے والا گہری فکر میں گم ہوجاتا ہے ۔ انصاف سب کے لیے یکساں۔ یہ نعرہ کوئی نئی بات نہیں، بقول شاعر:
بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے
دھرتی بنجر ہو تو برسات سے کیا ہوتا ہے
ہے عمل لازمی تکمیل تمنا کے لیے
ورنہ رنگیں خیالات سے کیا ہوتا ہے
عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ منورہ کو رول ماڈل بناکر پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر ڈالیں گے۔ یہ ایک روز روشن کی طرح واضح دلیل ہے کہ دنیا کی تمام فلاحی ریاستیں (Welfare States)ریاست مدنیہ منورہ کی روشنی کی کرنیں ہیں۔ عمران خان یہ بات بھول گئے ہیں کہ تاجدار مدینہ حضرت محمدﷺ نے ریاست مدینہ کے انتظامی امور میں اپنے مکی صحابہؓ کو زیادہ اہمیت دی۔ جب کہ عمران خان نے تحریک انصاف کے بانی اراکین کے ساتھ بے انصافی کی۔ پے در پے نا انصافیوں کی بدولت احمد علی بٹ لاہور، عرفان حسن لاہور، شبیر سیال لاہور، امین ذکی لاہور، طارق جاوید بٹ لاہور، عمر سرفراز چیمہ لاہور، سفیق خان ساہیوال، نعمان خان ساہیوال، قیصرایوب شیخ قصور، عظیم بگھوڑی، فوزیہ قصوری اور مشہور و معروف قانون دان حامد خان ایڈوکیٹ جیسے مخلص، نظریاتی اور بانی اراکین تحریک انصاف کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ عمران خان سچ بولنے کا درس دیتے ہیں جو کہ انتہائی اچھی بات ہے لیکن عمل بالکل الٹ!
۴۔ بوڑھے آسمان نے دیکھا کہ مڈل کلاس کے نظریاتی کارکنوں کی گردن پر سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور نو دولتی حضرات کو بٹھا دیا۔ سینٹ کے الیکشن میں کسی بھی نظریاتی اور مڈل کلاس کے تعلق رکھنے والے کارکن کو سینٹ کی ٹکٹ نہ دی گئی۔ معاشرے میں تبدیلی نہ آئی البتہ پارٹی میں سرمایہ داروں کو نمایاں مقام دے کر تبدیلی کا آغاز کردیا۔ عمران خان، پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کو چوروں اور ڈاکوؤں کی جماعتیں قرار دیتاآرہا ہے۔ بقول عمران خان پی پی پی نے پانچ دہائیوں اور (ن) لیگ نے تین دہائیوں میں چور اور ڈاکو تیار کیے ہیں۔ پی پی پی کو خیرباد کہنے والے شاہ محمود قریشی، فردوس عاشق اعوان، نذر گوندل، خاص کر چوہدری فوادبنی گالا پہنچتے ہی صادق اور امین کہلانے لگے۔ چوہدری فواد موسم اور ہوا کے رخ کے ساتھ اڑنے کا فن جانتے ہیں۔ چوہدری صاحب جانتے ہیں کہ تبدیلی کے بڑے فوائد ہیں۔ 2008ء میں (ق) لیگ کا ان کے سرپر ہما کا سایہ تھا اور چوہدری فواد نے (ق)لیگ کی بہترین ترجمانی کی، جونہی سیاسی فضا کے دباؤ میں تبدیلی آئی ادھر چوہدری صاحب جنرل مشرف کی ترجمانی سرانجام دینے لگے۔ 2013ء میں قسمت کی دیوی آصف زرداری پر مہربان ہوئی وہ صدر پاکستان بنے، ادھر چوہدری فواد نے سیاسی موسم اور فضا کے مطابق ترجمانی بدلی۔ وہ آصف زرداری کے ترجمان بن گئے۔ سیاسی موسم کی پیش گوئی کرنے والے کہتے ہیں کہ جب 2020-21ء میں گرد آلود ہوائیں چلیں گی۔ موسم میں خشکی اور گرمی ہوگی۔ یہ تبدیلی کا ترجمان پرندہ۔۔۔ ٹھکانہ تبدیل کرلے گا کیونکہ ان کے ہاں تبدیلی ہی میں خوشحالی کا راز ہے۔
۵۔ تحریک انصاف کے گریٹر اقبال پارک جلسے میں پورے ملک کی جماعت اور اس کی تنظیموں کو شرکت کے لیے خصوصی طورپر کہا گیا تھا۔ وہاں سندھ سے بھی پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی مگر سٹیج پر صرف کراچی تحریک انصاف کی قیادت فیصل واڈا جو کہ ارب پتی ہے نظر آئی ، جبکہ ممتاز بھٹو یا ان کے گروپ کا کوئی بھی بندہ وہاں نہ دیکھا گیا۔
حالات پر نظر رکھنے والے حضرات کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں ضم ہونے والی سیاسی جماعت سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز بھٹو اور عمران خان میں اختلاف کی خلیج بڑھنے لگی ہے کیونکہ عمران خان نے دو ماہ میں سندھ کا تین مرتبہ دورہ کیا اور تینوں مرتبہ کراچی سے ہوکر واپس چلے گئے اپنے دورہ کراچی کے دوران آصف زرداری کے خلاف بات تک نہیں کی۔ سکھر اور لاڑکانہ کے جلسوں کا التواء بھی آصف زرداری کی خوشنودی کے لیے کیا گیا۔ اندرون سندھ پی پی پی مخالف دھڑوں میں عمران کے کردار سے مایوسی پھیل رہی ہے ذرائع بتا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کا 2018ء کے الیکشن میں اندرون سندھ کامیابی کا خواب چکنا چور ہوتا نظر آرہا ہے۔


ای پیپر