بچے کے والدین کی چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل
09 مئی 2018



28اپریل ۔۔۔صبح سویرے مجھے میری جان پہچان والی فیملی کے ایک عزیز کی فون کال موصول ہوئی ، جسے سنتے ہی میں سکتے میں آگیا اور یکدم بوجھل سی ہوگئی ۔ میرے عزیز نے سہمے ہوئے لہجے میں مجھے بتایا کہ ’میں اس وقت گارڈن ٹاؤن تھانہ میں موجود ہوں ، اس تھانہ کی حدود میں واقع ایک نام نہاد کیڈٹ سکول کے ٹیچر کے خلاف میں نے رپٹ درج کرانا ہے ۔ اس نے اشک بار لہجے میں مزید بتایا کہ ’میں نے مذکورہ سکول میں اپنے 13 سالہ بیٹے راجہ دانیال کو اچھی تعلیم وتربیت کی غرض سے ہاسٹل میں داخل کروایا تھا مگر وہاں گزشتہ شب ایک ٹیچر اظہر نے میرے بیٹے کو اپنے کمرے میں پاؤں دبوانے کے بہانے بلایا، اس کے منہ اور پاؤں پر کپڑا باندھ کر اس کے ساتھ زبردستی زیادتی کی ۔ پولیس نے جائے وٍقوع سے تمام ثبوت اکٹھے کر کے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے‘۔ اس بچے کی ماں سے جب میری بات ہوئی تو دکھی ماں کی آواز میں کپکپاہٹ تھی ، جو میرے خیال میں اس کے وہ خواب ٹوٹنے کی علامت تھی، جواس ماں نے اپنے بیٹے کواپنی استعد ادسے بڑھ کر ایک کیڈٹ سکول میں کیڈٹ بنانے کے لیے دیکھا تھا ۔ اس کا خواب تھا کہ اس کا بیٹا بھی بطور کیڈٹ پاکستان آرمی میں کمیشن لیتا اور راجہ عزیز بھٹی شہید کی طرح پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کرتامگر وہ ماں اور باپ جو ایک فیکٹری میں ملازمت کر کے اپنے بیٹے کی کیڈٹ سکول کی مہنگی فیس اداکرتے رہے کو کیا خبر تھی کہ اس کے جگر گوشے راجہ دانیال کو کیڈٹ بننے سے قبل ہی مذکورہ کیڈٹ سکول کا ایک درندہ صفت ٹیچر اظہر اپنی درندگی کی بھینٹ چڑھا دے گا۔ لاہور سمیت پورے پاکستان میں ایسے سیکڑوں خود ساختہ کیڈٹ سکول وجود میں آ چکے ہیں ، جو کسی نہ کسی ریٹائرڈ آرمی آفیسر کا نام استعمال کرتے تا کہ سادہ لوح شہریوں کو بے و قوف بناکر ان کے بچوں کو کیڈٹ بنانے کا جھانسہ دے کروڑوں روپے بٹورنے کا دھندا جاری رکھ سکیں۔ ایسے سکولوں کو کونسی اتھارٹی چلاتی اور چیک کرتی ہے عام شہریوں کو کوئی خبر نہیں۔
اگلے روز 29پریل کو لاہور میں پاکستان تحریک انصاف مینار پاکستان کے سبزہ زار میں ایک جلسہ کی صورت میں الیکشن2018کے لیے پاور شو کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھی، وہیں صوبا ئی دارالحکومت لاہور کے ایک کیڈٹ سکول میں ایک درندہ صفت ٹیچر اپنی ہوس کا گندا پاور شو کھیل چکا تھا مگر ہر سیاسی پارٹی الیکشن2018ء کی تیاریوں میں مصروف ہے اور ان کے پاس اپنی رعایا یعنی عوام کے لیے وقت نہیں ہے کہ ان کے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیں اور ان کے دکھ درد کا مداواکر سکیں۔ اس تاریکی میں لے دے کر امید کی ایک ہی کرن چیف جسٹس آف پاکستان جناب میاں ثاقب نثار صاحب کی ذات اور وجود کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں تقریبا40 لاکھ کے قریب سول سرونٹس ہیں جو پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے اربوں روپے ماہانہ تنخواہوں کی مد میں وصول کرتے ہیں ان کی کارکردگی صفر ہے۔۔۔وہ ککھ بھی نہیں کرتے ۔ ان کے بر عکس چیف جسٹس ایک تنخواہ میں تمام اداروں کی کارکردگی کو تیز کرنے اور انصاف کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے چوبیس چوبیس گھنٹے دن رات بشمول اتوار بھی سائلین کی داد رسی میں مصروف ہیں۔ عوامی مسائل حل کرنے کے حوالے سے وہ شاندار اور ناقابل فرموش کردار ادا کر رہے ہیں۔ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے وہ لائق رشک کردار ادا کر رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج 22کروڑ پاکستانی انہیں اپنا مسیحا اور نجات دہندہ تصور کرتے ہیں اور انہی سے انصاف کے خواست گار ہیں۔ وہ سیاستدانوں اور حکمرانوں سے بری طرح مایوس ہوچکے ہیں۔
آخر میں استدعا ہے کہ عزت مآب چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار صاحب نے جس طرح قصور کی زینب، بنوں کی عاصمہ،سوات کی آصمہ رانی، مردان کے مشال خان، بالا کوٹ، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے شہریوں اور سمبڑیال کے قتل ہونے والے صحافی ذیشان بٹ اورہسپتالوں میں دوائی نہ ملنے اور علاج و معالجہ میں درپیش مسائل سے دو چار عوام کی شکایات پر قا نون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کو جلد انصاف فراہم کیا ہے، اسی طرح وہ 28 اپریل کو صوبائی دارالحکومت لاہور کے ایک کیڈٹ سکول میں ٹیچر کے ہاتھوں ہوس کا نشانہ بننے والے زیر تربیت کیڈٹ راجہ دانیال کے والدین کی فریاد پر بھی ازخود نوٹس لیں۔ راجہ دانیال کے والدین کی اپیل ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار ان کو بھی انصاف دلوا ئیں۔ اس ملزم کو جس نے ان کے پھول ایسے بیٹے کے مستقبل کو داغ دار کیا ہے، قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جلد از جلد قرار واقعی سزا دلوائیں تاکہ ایک ماں کی مامتا کو سکون مل سکے اور آئندہ کوئی درندہ معلم کے روپ میں کسی سکول میں زیر تربیت طلباء وطالبات کے ساتھ جنسی کھیل کھیل کر اپنی ہوس پوری نہ کر سکے ۔یاد رہے کہ ہمارے ایک غیر اسلامی ہمسایہ ملک بھارت میں چند روز قبل ایسی درندگی کرنے والوں کے لیے موت کی سزا کا قانون پا س کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف ہمارے ایک اور اسلامی ہمسایہ ملک ایران میں ایسی زیادتی کی سزا موت ہے۔


ای پیپر