Photo Credit Yahoo

نواز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات ، کب کیسے اور کون کون ملوث رہا ؟
09 مئی 2018 (20:05) 2018-05-09

لاہور:قومی احتساب بیوو ( نیب ) نے وضاحت کی ہے کہ گزشتہ روز 8مئی 2018ءکو بیورو کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز ایک میڈیا رپورٹ ” منی لانڈرنگ کی رقم کب واپس لائی جائے گی ؟“ کے عنوان سے مقامی اخبار میں یکم فروری 2018ءکو شائع ہونے والے کالم ” زاویہ نگاہ “ کے تناظر میں جاری کی گئی ۔ میڈیا رپورٹ میں ورلڈ بینک کی مائیگریشن اینڈ ریمیٹنس فیکٹ بک 2016ءکے حوالے سے واضح طور پر 4.9ارب ڈالر کا خطیر زرمبادلہ بھارت منتقل کئے جانے کا تذکرہ ہے ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ، سابق وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار ، سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اشرف محمود وتھرا ، سابق ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سعید احمد کے ذریعے 2015-16میں حکومت پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ سے چار ارب 90کروڑ ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی گئی ۔ ان کے خاص آدمی سعید احمد نے یہ رقم دبئی بھجوائی اور دبئی سے یہ رقم بھارتی حکومت کے سرکاری خزانے میں تبادلہ کی گئی ۔ بھارتی حکومت کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو گئے ۔ مزید برآمد ورلڈ بینک کے کنٹری منیجر برائے پاکستان اور ان کے انٹرنل آڈیٹرز نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہیڈ آفس کراچی میں فارن کرنسی ریزرو اکاﺅنٹس کی تفصیلی آڈٹ کے دوران پکڑا اور یہ حقیقت ورلڈ بینک نے اپنی جامع اور تفصیلی رپورٹ میں شامل کی ہے جو کہ ہر وقت آن لائن دستیاب ہے ۔

قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے وضاحت کی ہے کہ مبینہ میڈیا رپورٹ کی بنیاد اور مذکورہ انکشافات کی بنیاد پر مبینہ طور پر شکایت کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات نیب کے دائرہ اختیار میں قانون کے مطابق شامل ہے ۔ نیب مبینہ میڈیا رپورٹ کی جانچ پڑتال مروجہ قانون کے مطابق کررہا ہے ۔ نیب اس تاثر کو مکمل طور پر رد کرتا ہے کہ نیب کا مقصد کسی کی دل آزاری اور انتقامی کارروائی کرنا مقصود تھی ۔ نیب کسی سے انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ صرف اور صرف قانون کے مطابق ملک سے بلا امتیاز بدعنوانی کے خاتمے کےلئے پر عزم ہے ۔


ای پیپر