تھیلیسیمیاء کا عالمی دن اور پاکستان
09 مئی 2018 2018-05-09

دنیا بھر میں ہر سال 8مئی کو تھیلیسیمیاء کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔مختلف سیمینارز منعقد ہوتے ہیں،جس میں تھیلیسیمیاء کے بچائو کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کیا جاتا ہے۔ تھیلیسیمیاء ایک موذی مرض ہے۔جو سرخ خون کے ذرات میں شامل ہیموگلوبن نامی پروٹین کی نامناسب مقدار کی تشکیل کی وجہ سے ہوتا ہے۔ناقص خون کی تشکیل کی وراثت میں منتقل ہونے والی یہ سب سے عام بیماری ہے۔بعض لوگ اسے اینیمیاء بھی کہتے ہیں۔ تھیلیسیمیاء کے مریض میں اس کے آثار کچھ دوسرے امراض سے ظاہر ہو سکتے ہیں۔جیسے ہلکی نشونما،کم بھوک،یرقان،خون کی کمی یعنی اینیمیاء،دل کے امراض اور جگر کا بڑھ وغیرہ۔یہ ایک وراثتی بیماری ہے جو نہ تو چھونے سے نہ کھانے سے اور نہ ہی جراثیم سے پھیلتی ہے۔یہ نسل در نسل والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔اس کے روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ والدین بچے کی پیدائش سے قبل دوران حمل ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ تھیلیسیمیاء جیسی موروثی بیماری کے سب سے زیادہ متاثرین ایشیاء، افریقہ اور بحیرہ روم سے منسلک ممالک میں موجود ہیں۔

تھیلیسیمیاء کی تین اقسام ہیں۔جن میں تھلیسیمیاء میجر ، تھلیسیمیاء مائنر اور تھلیسیمیاء انٹر میڈیا۔

یہ ایک ایسی موروثی بیماری ہے، جس کا ابھی تک مکمل علاج دریافت نہیں ہوا۔اس عارضے کا ایک علاج بورن میرو ٹرانسپلانٹ کا آپریشن بھی ہے جو کافی مہنگا ہے پاکستان میں اس آپریشن کا خرچ لگ بھگ ایک کروڑ ہے۔ جس کے بعد70فیصد بیماری سے نجات جبکہ 30فیصد امکانات ہیں کہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔یعنی اس بیماری کا کوئی مکمل علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں اتنا مہنگا علاج ہر کسی کے لئے ممکن نہیں اسی لئے زیادہ تر آگاہی پر کام کیا جاتا ہے تا کہ لوگ اس مہلک موروثی بیماری سے بچ سکیں۔جن ممالک سے یہ مرض ہمارے ملک میں آیا ان میں یونان، اٹلی، اور سائپرس ہیں جن میں آج تھلیسیمیاء میجر کی شرح صفر ہے۔اس کے علاوہ دنیا بھر میں بہت سے ممالک نے اس مرض پر بروقت آگاہی اور قانونی اقدامات کی بدولت قابو پالیا ہے۔آج دوسرے مسلم ممالک جیسے ایران اور ترکی میں نکاح سے پہلے تھلیسیمیاء سکرینگ ٹیسٹ قانونی طور پر لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں تھلیسیمیاء میجر کے مریضوں کی شرح کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ پاکستان کو بھی بروقت ایسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں حکومت کوپی ٹی وی اور دوسرے میڈیا نیٹ ورکس کے زریعے اس کے حوالے سے آگاہی پیغامات نشر کرنے چاہیے۔اس کے علاوہ نکاح سے پہلے تھلیسیمیاء کی سکرینگ کو لازمی و قانونی عمل قرار دینا چاہئے ۔تاکہ غریب اور لاعلم لوگوں کو اس اذیت نما موروثی بیماری سے بچایا جا سکے۔ پاکستان میں پرائیویٹ سطح پر بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں جن کی بدولت پاکستان عوام اس مہلک وراثتی بیماری کے بارے میں باخبر ہو رہی ہے۔ پاکستان میں تھلیسیمیاء میجر کے مریض کی اوسط عمر 10سے15سال ہوتی تھی جس میں ان مختلف تنظیموں کی آگاہی اور امداد کی بدولت اضافہ ہو ا ہے جو اب20سے 30تک ہو گئی ہے۔یہاں ان تنظیموں و اداروں کا تذکرہ بھی بہت ضروری ہے۔سندس فائونڈیشن جو منو بھائی کی محنت کی بدولت آج پاکستان بالخصوص پنجاب بھر میں تھیلیسیمیاء کے مریضوں کو خون اور دوسری امداد مہیا کر رہی ہے۔اسی طرح کراچی میں کاشف اقبال سنٹر بھی تھیلیسیمیاء کے مریضوں کو علاج و زندگی کی سہولیات مہیا کر رہا ہے۔اس کے علاوہ جہاد فار زیرو تھیلیسیمیاء ، الخدمت فائونڈیشن، عمیر ثناء فائونڈیشن، فاطمک فائونڈیشن اور انفرادی طور پر یاسمین راشد اور دیگر اس موروثی بیماری کے خاتمے اور انسانیت کے ناطے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔یہاں جدوجہد فائونڈیشن کا تذکرہ بھی بہت ضروری ہے ،جس کے آگاہی سیمینارز کے دعوت ناموں کی بدولت مجھ کم علم کو بھی اس اذیت ناک موروثی و مہلک بیماری کی پوری حقیقت بارے علم ہوا۔جدوجہد فائونڈیشن کے نوجوان صدر طلحہ نصیر سے ایک تنظیمی اجلاس میں ملاقات ہوئی۔جس کے بعد مختلف نشتوں میں مجھے علم ہوا کہ تھیلیسیمیاء کتنی بڑی موروثی بیماری ہے اور دن بدن بڑھ رہی ہے۔جس کے بعد میں نے جدوجہد فائونڈیشن اور طلحہ نصیر سے وعدہ کیا اس مہلک و وراثتی بیماری بارے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے میں بھی اپنا حصہ ضرور ڈالوں گا۔قارئین جدوجہد فائونڈیشن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ساری تنظیم نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس کے ایمبیسڈرز پورے پنجاب کے تعلیمی اداروںمیں پھیلے ہوئے ہیں۔جو مختلف یونیورسٹوں میں تھلیسیمیاء کی آگاہی کے حوالے سے تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ بالخصوص یونیورسٹیز کے طلباء جن کی شادیاں قریب ہوتی ہیں انہیںتھیلیسیمیاء ٹیسٹ کے بارے آگاہی دیتے ہیں۔اس کے علاوہ جدوجہد فائونڈیشن کا سندس فائونڈیشن سے اتحاد ہے۔سندس فائونڈیشن خون لگانے اور دوسرے علاج کے کام جبکہ جدوجہد فائونڈیشن پنجاب بھر میں آگاہی کا کام کرتی ہے اس کے علاوہ آئرن کی زیادتی کو کم کرنے کے لئے مریضوں کو پمپ مہیا کرنا اور بلڈ کیمپ لگا کر خون مہیا کرنا وغیرہ بھی جدوجہد کے آگاہی کاموں کا حصہ ہیں۔

تھلیسیمیاء مائنر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔تھلیسیمیاء مائنر کے مریض کو نہ تو کوئی تکلیف ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ایسے لوگ ایک مکمل صحت مند زندگی گزارتے ہیں ان کی تصدیق صرف لیبیارٹری ٹیسٹ سے ہی ممکن ہے۔یہ خود تو ایک نارمل زندگی گزارتے ہیں مگر اپنی بیماری کو اپنے بچوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔جس کے بچائو کے لئے آگاہی بہت ضروری ہے۔قارئین سے گزارش ہے کہ تھیلیسیمیاء جیسی مہلک موروثی بیماری بارے اپنے قریبی لوگوں کو ضرور آگاہ کریں۔تاکہ معصوم بچوں کو اس اذیت ناک وراثتی بیماری سے بچایا جا سکے۔ پاکستان زندہ آباد۔

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ) 


چوہدری ذوالقرنین ہندل

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے چوہدری ذوالقرنین ہندل ابھرتے ہوئے لکھاری ہیں۔

ای پیپر