بتایا جائے پٹرولیم مصنوعات پر کتنے قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے : چیف جسٹس
09 مئی 2018 (13:12)


اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ عدالت کو معلومات فراہم کی جائیں کہ پٹرولیم مصنوعات پر کتنے قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے ، قیمتوں کا فرانزک آڈٹ کرائیں گے،پیٹرولیم مصنوعات پر جب عوام کوریلیف دینے کی باری آئے ٹیکس لگ جاتا ہے ۔


سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیٹرولیم مصنوعات پر ہوشربا ٹیکسز کے حوالے سے ازخودنوٹس کی سماعت کی سماعت۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہمیں چارٹ بنا کر دیں کہ پٹرولیم مصنوعات پر کتنے قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے ۔ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پٹرولیم پر کسٹم ڈیوٹی، لیوی اور سیل ٹیکس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئل کمپنی اور ڈیلر کا مارجن کتنا ہے ؟ عدالت کو بتایا گیا کہ پٹرول پر 11.5 فیصد ٹیکس لگتا ہے ۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا پیٹرولیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس لگتا ہے ، عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوں تب بھی عوام کو ریلیف نہیں ملتا اور پیٹرولیم مصنوعات پر جب عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی ہے تو ٹیکس لگ جاتا ہے ۔


جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر کس قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی کیا قیمتیں ہیں اور یہاں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیا ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں خطہ سے کم ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بھارت سے قیمتوں کا موازنہ نہ کریں۔ کیا بھارت سے ہمارا آئی ٹی میں کوئی مقابلہ ہے ۔ بھارت میں آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی پاکستان سے زیادہ ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا قیمتیں 100 ڈالر سے 50 ڈالر پر آ جائے حکومت تب بھی قیمتیں کم نہیں کرتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا میرا خیال ہے کہ پٹرولیم پر ڈھاکہ ریلیف فنڈز لگا ہوا ہے ۔ عدالت نے متعلقہ وزارت اور اداروں کو حکم دیا ہے کہ تحریری جواب میں مصنوعات کے حوالے سے وضاحت کریں۔ کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی گئی۔


مزید برآں سپریم کورٹ میںچیف جسٹس ثاقب نثار ی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ سابق وزرائے اعلی ثنا اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنے صوبے میں پانی کی صورتحال سے مطمئن ہیں، بلوچستان میں جھیلیں سوکھ گئی ہیں آپ نے کیا اقدامات کیے؟، ہمیں بلوچستان کی بہت فکر ہے ، آپ نے حکومت کو فعال کرنے کی کوشش کی؟۔عبدالمالک بلوچ نے جواب دیا کہ حکومت کو فعال کرنے کی بہت کوشش کی، امن و امان صحیح کیے بغیر کچھ درست نہیں ہوسکتا، 2013 سے 2015 تک جرائم کی شرح میں کمی ہوئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ان دنوں ہزارہ برادری کے قتل عام میں کمی ہوئی؟۔عبدالمالک بلوچ نے بتایا کہ کمی ہوئی تھی، جب اقتدار سنبھالا تو فرقہ واریت سے قتل عام میں 248 افراد ہلاک ہوئے تھے، ٹارگٹ کلنگ 248 سے کم ہو کر 48 پر آگئی تھی۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بلوچستان کے لوگ سیاسی طور پر طاقت میں نہیں ہیں، بلوچستان کو خود سے حکمرانی کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے میں 6054 اسکولوں کی دیوار اور بیت الخلا نہیں ہیں، 100 اسکولوں کو بھی سالانہ اپ گریڈ کریں گے تو 6 ہزار اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے میں 60 سال لگیں گے، کوئٹہ کے ہسپتالوں میں سی سی یو اور سہولیات نہیں ہیں، اسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے جس کو دیکھ کر دکھ ہوا، جب میں نے دورہ کیا ہسپتالوں کا عملہ کئی روز سے ہڑتال پر بیٹھا تھا، بلوچستان پسماندہ نہیں بلکہ دولت سے مالامال ہے ، آپ قوم کے رہنما ہیں، بلوچستان کو جید رہنما کی ضرورت ہے ۔


ای پیپر