ذکر شہر کی دو ادبی تقاریب کا
09 مئی 2018 2018-05-09

علی محمد فرشی کی نظم ” شاعری کا گھونسلہ “ کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے:

شاعری اپنا گھونسلہ

لفظوں کی الماری میں نہیں بناتی

نہ کتابوں کی اجتماعی قبر پر اگنے والی جھاڑیوں میں

نہ اس پیڑ پر جس کے سائے میں میوز کی بے حرمتی کی گئی ہو

شاعری اپنا گھونسلا

دل کے سوراخ میں بناتی ہے

اور اس کتاب کی تقدیر میں

جسے لڑکیاں روتے ہوئے پڑھتی ہیں

اور درخت کی اس شاخ پر

جو شاعر کی خودکشی کا بوجھ برداشت کر سکتی ہو

اس طرح کی شاعری پڑھ کر انسان ایک اداسی میں ڈوب جاتا ہے۔لیکن یہ اداسی مایوسی میں نہیں دھکیلتی بلکہ اس سے انسان کا کتھارسس ہوتا ہے۔ بعض احباب کا خیال ہے کہ یہ دور دکھوں کی عکاسی کا نہیں کہ معاشرے میں پہلے کون سے دکھ درد کم ہیں۔سو مزاح کثرت سے لکھا جائے ۔ یہ بھی ایک رائے ہے، تاہم شاعری تو شاعری ہوتی ہے ۔انور مسعود کہتے ہیں قہقہے کو نچوڑا جائے توکئی آنسو برآمد ہونگے۔ رونا ہنسنا انسانی جبلت ہے ۔ہمارے ہاں طنزومزاح میں بھی سماج کی عکاسی دیکھی جاسکتی ہے۔انسانی مضحکہ خیز روئےے بھی مزاح کی زد میں آتے ہیں ۔ویسے مزاح گوئی بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔دوسروں کو اپنی شگفتہ بیانی سے محظوظ کرنا دشوار عمل ہے۔وجہ یہ ہے کہ انسان کو زندگی میں کئی روگ لاحق ہیں۔معاشی مسائل کے ساتھ امن و سلامتی اور بقائے حیات کے تفکرات اور روز مرہ کی ٹینشن نے انسان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔دنیا واقعتا دکھوں کا گھر بن چکی ہے۔کوئی شخص کسی حال میں مطمئن اور خوش نہیں ۔اکیسویں صدی کے دکھی انسان کے ہونٹوں پر اپنے لفظوں سے مسکان لانے والے بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں۔گزشتہ روز ہم ایسے ہی مزاح لکھنے والوں کی تخلیقات سے لطف اندوز ہوئے ۔یہ تقریب اپنی وضع کی کسی حد تک پہلی اور انوکھی تقریب تھی کہ یہاں مزاح لکھنے والے اپنی اپنی شگفتہ تحریریں پیش کر رہے تھے۔شعراءتو مشاعروں میں اپنی شاعری سنا کر اپنے ذوق کی تسکین کرتے ہیں لیکن نثر نگاروں کے لےے ایسی کوئی محفل نہیں سجائی جاتی۔شاید اسی لےے یہاں مزاح نگاروں نے اپنے لےے شگفتہ تحریریں پیش کرنے کی محفل سجا ئی۔اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں پنجاب بھر سے مزاح کے رنگروٹ سے لے کر جرنیل تک کا درجہ رکھنے والے بھی موجود تھے۔ناقدین پطرس بخاری کو مزاح کا جرنیل کہتے ہیں۔ضمیر جعفری ،شفیق الرحمن،کرنل محمد خان ، مظفر بخاری بھی مزاح کے جرنیلوںمیں شمار ہوتے ہیں اور لمحہ موجود میں مشتاق یوسفی کو مزاح کا چیف آف سٹاف قرار دیا جاتا ہے۔مگر اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں۔عطاءالحق قاسمی سے آپ لاکھ اختلاف کر لیں ، آپ طنزاََ ” کون عطاءالحق قاسمی کہتے رہیں “ طنزو مزاح اور فکاہی ادب میں عطا ءالحق قاسمی، مزاح کے کمانڈر انچیف ہیں۔ایک زمانے میں کئی نوجوان مزاح کی فوج میںبھرتی ہوئے تھے۔ان میں سے بعض میجر کے عہدے سے آگے نہ جاسکے ،کچھ کرنل اوربر یگیڈیئر کی حدو ںکو چھو سکے۔کبھی یونس بٹ کا طوطی بولتا تھا مگر وہ ڈرامے کے پہاڑ کے نیچے آگئے ۔اعجاز رضوی مزاح میں خاکے تک محدود رہے۔شگفتہ نگاری میں اشفاق ورک کے بعد جو نام تیزی سے نمایاں ہوا وہ گلِ نو خیز اختر کا ہے۔اب مزاح کے ایک کورکمانڈر نوخیز بھی ہیں ۔اب ان کے شانہ بشانہ کئی مزاح نگارتیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ہمارے دوست تنویر حسین نے اگر چہ اس محفل میں کچھ پیش نہ کیا مگر دھیمے سروں میں مزاح تخلیق کرنے میں اپنا خاص اسلوب رکھتے ہیں۔ان کی تحریروں میں انشائی انداز اور سچوئیشن سے مزاح پیدا کرنے کا ہنر آشکار ہوتا ہے۔اسی طرح جمیل احمد عدیل کی تحریروں میں انشائی لب و لہجہ اور شائستہ شگفتگی نمایاں ہے۔روزنامہ نئی بات میں ہمارے پاس مظفر محسن اور علی عمران کا اپنا انداز ہے۔تمہید کچھ طویل ہوئی ہم اس محفل کا ذکر کررہے تھے جسے پاکستان رائٹرز کونسل نے منعقد کیا تھا اور یہ مزاح کے حاضر جرنیل عطاءالحق قاسمی کی صحت یابی سے منسوب کی گئی تھی۔اسٹیج پر عطا ءالحق قاسمی کے ساتھ صدیق الفاروق ، بابو نگر کے حسین احمدشیرازی اور گل نوخیز اختر براجمان تھے ۔تنظیم کے روح رواں یاسین بیگ کے ساتھ رضیہ رحمان ،ناصر محمود ملک،کے علاوہ دیگر مزاح کے نئے لکھنے والے بھی اپنی تحریریں پیش کر رہے تھے۔ ممتاز کالم نگار یاسر پیر زادہ نے بھی اپنی شگفتہ تحریر پیش کی ۔ہمارے خیال میں ان کی شگفتہ نگاری پر تفکر غالب آجا تا ہے۔ یاسر اپنے والد عطا ءالحق قاسمی سے بالکل الگ اسلوب رکھتے ہیں۔ان کے کالموں میں بھی استدلال کے علاوہ تجزیاتی انداز نمایاں ہوتا ہے۔تاہم یہاںان کا مضمون بہت پسند کیا گیا ۔عطا ءالحق قاسمی نے اپنی مشہور تحریروں سے محفل کو زعفران بنائے رکھا۔صدیق الفاروق اور نوید چوہدری نے عطا ءالحق قاسمی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ، انہیں ادب کالیجنڈ قرار دیا۔اس تقریب کے بعد ہم نے ایک شعری نشست میں بھی حاضری لگوائی۔میزبان معروف شاعر اور باصلاحیت پولیس افسر شارق جمال تھے ۔انہوں نے اپنی ادبی تنظیم حلقہ ارباب فکر کے تحت ماہانہ مشاعروں کا آغاز کر رکھاہے ، اس نشست کی صدارت ، شاعر اور افسانہ نگارجاوید انور نے کی ،آپ کی حال ہی میں وفاقی سیکرٹری ریلوے کے عہدے پر ترقی ہوئی۔مہمان خصوصی خالد شریف اور حسین مجروح تھے۔یہاںشہر کے چنیدہ شعراءمدعو تھے اور نظامت کے فرائض شارق جمال اور قرات العین فاطمہ ادا کررہے تھے۔اہم شاعروں میں جو نام یاد رہے ان میں گلزار بخاری ،ضیا ءالحسن ،حمیدہ شاہین،شکیل جاذب، شاہین عباس ،رخشندہ نوید ،توقیر شریفی،وسیم عباس،علی زریون ،شازیہ مفتی اور فاطمہ غزل شامل تھیں۔ہمیں چونکہ ایک اور محفل میں پہنچنا تھا سو اپنا کلام سنا کر اجازت لینا پڑی ورنہ ہمیں اس طرح مشاعرے سے اٹھ کر جانا قطعی پسند نہیں۔اپنے چند اشعار سنا کر اجازت چاہتے ہیں :

میں اس رستے سے واقف ہوں جو تیرے در تک آتا ہے

لہو میرا مگر کب میرے بال و پر تک آتا ہے

اب اتنی بھی نہیں آسان میری ہمسری سُن لو

جہاں میں ہوں وہاں پانی بھی میرے سر تک آتا ہے

لحد میں سوتے ہی ہر اک مسافت ختم ہوتی ہے

تھکن کا سلسلہ آخر کو اس بستر تک آتا ہے

اسے میں دیکھنے جاتا ہوں اکثر چاند راتوں میں

مجھے ملنے کبھی دریا بھی میرے گھر تک آتا ہے


ای پیپر