”احسن اقبال اور حضرت عمرؓ کی بہو“
09 مئی 2018 2018-05-09

میرا مو¿قف تو بڑا واضح ہے کہ پاکستان میں ہروہ لفظ ، جس کے ساتھ ”بازی“ لگادیں، مثلاً کبوتر بازی، شطرنج کی بازی ،....وغیرہ قارئین ، اب تھوڑا زور آپ بھی اپنے ذہن پہ دیں کہ اور کتنی بازیاں ہوتی ہیں اور پھر بے شک مجھ پہ بازی لے جائیں، اب جفت سازی، یعنی جوتا بنانے کا کاروبار ، گلی محلے کے موچی سے لے کر باٹا اور سروس شوز تک، ملک میں اور بیرون ملک پھیلا ہوا ہے، دراصل اگر کسی بھی کاروبار یا ملازمت کو چھوٹے اور نچلے درجے سے شروع کیا جائے، تو وہ اپنی عزت، قدروقیمت اور اپنی اہمیت کھودیتے ہیں اگر کوئی گھر کی حفاظت کرے، تو اُسے چوکیدار کہا جاتا ہے، وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا اپنے ملک کے عوام کے دلوں پہ حکومت کرتا ہے، اِسی طرح ملک کا صدر یا وزیراعظم بھی دراصل ملازمت ہی کررہا ہوتا ہے، میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اپنے ارادے بلند اور عزائم بڑے رکھنے چاہئیں، اور پھر وہ اپنی زندگی میں اُس کے حصول اور تگ ودو کے لیے اپنی توانائیاں صرف کردے، تو منزل پاہی لیتا ہے پاکستان اور بیرون ملک، جوتا بازی کی جو رسم چل نکلی ہے، اُس کی وجہ سے جذبات میں تلاطم، ہیجان، اور اُمنڈتے ہوئے طوفان پہ قابو پانے کے لیے ہم اس لیے ناکام رہے، کہ اِس حوالے سے ملزمان اور مجرمان کو خاطر خواہ سزائیں نہیں دی گئیں۔

اگر صرف اس حوالے سے ، اسلامی تعزیزات کا نفاذ ہو جائے، تو آنکھ کے بدلے آنکھ ، اور تھپڑ کے بدلے تھپڑاور جان کے بدلے جان کی طرح، جوتے کے بدلے جوتے مارنے کی کھلے عام سزا دی جاتی، اور اگر مضروب اس پہ راضی نہ ہو، تو اُس کے BEHALFپر اُس کا نمائندہ سرعام بدلہ لے اور اسے چھتروچھتری کردے تو پھر اس قباحت اور شرارت پر فوری قابو پایا جاسکتا ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال پہ قاتلانہ حملہ کے سلسلے میں ایک منظم سازش اور سوچی، سمجھی حکمت عملی مرتب کرکے کرایے کے قاتل کا سہارہ لیا گیا، احسن اقبال جن کی والدہ محترمہ بلقیس فاطمہ، قومی اسمبلی کی ممبر تھیں، اور ختم نبوت کے ایک ادنیٰ کارکن ہونے کے حوالے سے میںان کے نام سے واقف ہوں، اور ان کے کام سے بھی واقف ہوں، کیونکہ ختم نبوت کے حوالے سے انہوں نے بلامبالغہ حضورﷺ ، کے نام نامی پہ سیاست نہیں کی ، بلکہ ان کے مبارک نام کے حوالے سے بھی اپنا نام امر کرلیا تھا، ظاہر ہے کہ ہر والدہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتی احسن اقبال کو بھی اپنی والدہ محترمہ کی دعائیں ضرور لگی ہوں گی، اور قوم کی بھی، کیونکہ وہ ایک مہذب ، تعلیم یافتہ ، خوش اخلاق اور پیشے کے لحاظ سے پروفیسر ہیں، نارووال سے تعلق رکھنے والے احسن صاحب کو کراچی کے لوگ کراچی کا ہی سمجھتے ہیں، کیونکہ اُنہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ وہیں گزارا ہے، کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے نام پہ بنا تھا، رواداری عدم تشدد، تحمل برد باری اور برداشت سے اُس کے باسی کوسوں دور ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو بھی راولپنڈی میں ایک جلسہ عام میں گولی مار کر شہید کردیا تھا، احسن اقبال پہ بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا، وہ تو قدرت کو منظور نہیں تھا، اور ان کی زندگی ابھی باقی تھی۔ ورنہ قتل کرنے والے نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

پاکستان کی دوسری وزیراعظم بے نظیر کو بھی ایک جلسے میں ہی شہید کیا گیا اور ان کی اپنی پارٹی کی ہی حکومت ہونے کے باوجود قاتلوں کا آج تک سراغ نہیں ملا، گو اِس ضمن میں ناہید خان اور ان کے شوہر نے قاتلوں کی نشاندہی تو کردی ہے، مگر قاتلوں کو پابند سلاسل نہ کراسکے، شیر پاﺅ بھی شہید ہوئے مگر مارنے والے بھی شاید زمینی مخلوق نہیں تھے، جو تاحال، جال میں نہ آسکے ۔وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے والد محترم خواجہ محمد رفیق کو بھی سیاسی چپقلش کی بنا پر قتل کردیا، پیپلزپارٹی کے دور میں احمد رضا قصوری کے والد نواب احمد خان کو شادمان لاہور کے گول چکر پہ گولیاں مارکر شہید کردیا گیا، بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی گئی، جنرل ضیاءالحق کو بھی ایک منظم سازش کے تحت درجنوں شخصیات کے ساتھ فضا میں ہی مروا دیا گیا ....دراصل ان مارنے والوں کو ”خلائی مخلوق“ کہا جاسکتا ہے، پنجاب میں چودھری ظہور الہٰی صاحب اور حکیم سعید کو کراچی میں ناحق، سیاسی مخالفت کی بنا پر شہید کردیا گیا، آخر میں، میں عظیم الشان خلیفہ حضرت عمرؓ کی مثال اس لیے دے رہا ہوں کہ اگر ہمارا کردار ان جیسا ہو جائے، چیف جسٹس صاحب نے پروٹوکول ہٹانے کا جو حکم دے دیا ہے، وہ قبل ازوقت ہے، ہمارے حالات ابھی نہ تو یورپی اور نہ ہی اسلامی ریاست والے ہیں، جناب چیف جسٹس کو اب اس کا احساس ہوگیا ہوگا، اب کراچی میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے جلسے اُلٹنے کی داستان کیا پیغام دے رہی ہے ؟۔

میں بتایہ رہا تھا کہ لاکھوں مربع میل بے شمار ملک فتح کرلینے والے حضرت عمرؓ میں بجائے غرور وتکبر کے روزبروز عجزوانکسار ان کی عادت کا خاصہ بن گئی تھی۔ اور وہ بھیس بدل کر راتوں کو شہر کی گلی گلی غریب رعایا کی خبر گیری کے لیے کسی پروٹوکول اور سکیورٹی کے نام پہ فوج اور رینجرز کے بغیر اکیلے اور نہتے پھرا کرتے تھے حالانکہ ان کی دشمنی کافروں اور اس وقت کی موساد، اور سی آئی اے سے اتنی تھی کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کو شہید کرنے کا اعلان کیا ہوا تھا، ایک دفعہ وہ معمول کے مطابق شہر میں گشت کررہے تھے کہ ایک بڑھیا جو دودھ بیچ کر اپنا گزارہ کرتی تھی، ماں نے غربت اور عسرت کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی بیٹی کو دودھ میں پانی ملانے کی تاکید کی ، اور کہا تھوڑا پانی ملا دو، کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ لیکن بچی نے انکار کردیا، اور کہا ماں جی اللہ تو دیکھ رہا ہے، اور پھر اللہ تعالیٰ نے بچی کو ”اللہ سے محبت “ کا صلہ یہ دیا، کہ حضرت عمرؓ کے دل میں اس غریب بچی کی اتنی ”قدر“ ڈال دی، کہ خلیفہ وقت نے اپنے بیٹے کا رشتہ مانگ کر اُسے بہو بنا لیا۔اس وقت حکمرانوں کا رشتے کرنے کا یہ معیار تھا۔ اور عرب میں اب بھی یہ روایت قائم ہے ،صدیوں بعد اب لندن میں ایک بڑھیا سے جو گائے کا دودھ بیچ کر گزارہ کرتی تھی، کسی نے اُسے بھی پانی ملانے کا مشورہ دیا، تو وہ بولی کہ میں اپنی قوم کے لوگوں کی صحت خراب کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ میرا یہ مثالیں دینے کا مقصد محض یہ ہے کہ قومیں کردار سے بنتی ہیں، احسن اقبال پہ قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے جو جے آئی ٹی بنائی گئی ہے، اس کی ابتدائی رپورٹ ہی چشم کشا ہے۔ جس میں ملزم کے تانے بانے ایک مذہبی جماعت سے ملتے ہیں، جبکہ اسلام میں تو اعلان جنگ کے بغیر کسی کافر کو بھی نہیں مارا جاسکتا، اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر تحریک انصاف ، کو جیسے لاہور میں منٹو پارک میں انتظامیہ نے جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی، تو عمران خان نے کہا کہ مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں، جہاں میرا دل کرے گا، جلسہ کروں گا، یہی جواب انہوں نے پنڈی میں جلسہ کرتے وقت دیا تھا۔

اب کراچی میں قوم خود دیکھ لے گی، کہ پیپلزپارٹی اپنی تمام تر کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود ، خود جلسہ ضرور کرے گی .... اور عمران فوج یا رینجرز کی مداخلت، اور سکیورٹی کے بغیر جلسہ نہیں کرسکیں گے ....قانون شکنی کرکے عوام کی کونسی خدمت کی جارہی ہے، اور ہم اپنی نئی پود کو کیا سبق سکھارہے ہیں ؟

احسن اقبال کو غور کرنا چاہیے، کہ یہ آزمائش اُن پہ کیوں آئی ہے؟


ای پیپر