Umer Khan Jozi, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 مارچ 2021 (11:52) 2021-03-09

پشتومیں کہتے ہیں کہ (چاچاپخپلہ گلہ مہ کوہ دابلہ)کہاجاتاہے کہ پرانے زمانے میں ایک بندرکے ہاتھ ماچس کی کوئی ڈبی لگی ۔جس سے کھیلتے ہوئے بندرنے خودکوآگ لگادی ۔آگ لگتے ہی بندرنے چیخ وپکارشروع کردی ۔قریب کسی نے بندرکی یہ چیخ وپکارجب سنی توپوچھا (چا۔چا)کس نے ۔؟کس نے۔؟مطلب یہ آگ کس نے لگائی۔ بندرنے جواب دیا۔(پخپلہ)میں نے خود۔اس نے آگے سے جواب دیاکہ( گلہ مہ کوہ دابلہ)کسی اورسے اب گلہ نہ کرنا۔ہمارے وزیراعظم صاحب کے تن بدن میں بھی آج کل اسی طرح کی آگ لگی ہوئی ہے۔بندرنے توسچ سچ بتادیاتھاکہ آگ کس نے لگائی لیکن ہمارے وزیراعظم صاحب چیخ و پکار تو کر رہے ہیں لیکن سچ سچ نہیں بتارہے کہ یہ آگ کس نے لگائی ہے۔؟ پاکستان کی سیاست میں صرف ضمیر نہیں بلکہ انسانوں کی خریدوفروخت،  جوڑتوڑ،  لین دین، جھوٹ،فریب،دھوکہ اورمنافقت یہ کوئی نئی بات نہیں۔کونساموقع اورکونسے انتخابات ایسے ہیں جس میں انسانوں کے ضمیر نہیں بکے۔؟ عام انتخابات ہوں،ضمنی الیکشن یاپھرایوان بالا کا معرکہ۔ ہر جگہ اور ہر دور میں ان سیاستدانوں کی خریداری کے لئے منڈیوں پرمنڈیاں لگیں۔ وزیراعظم صاحب چھوٹے چھوٹے ایم این ایزاورایم پی ایزکارونارورہے ہیں اس ملک میں توبڑے بڑوں کوبھی دنیانے نیلام ہوتے دیکھا۔اس ملک کے وہ کونسے سیاستدان اورکونسے لیڈر ہیں جوسیاست کے بازارحسن میں طوائفوں کی طرح بکے نہیں۔؟ہمیں گلی محلوں،مارکیٹوں اوربازاروں کے ساتھ سیاست کی راہداریوں میں بھی اگربیوپاری نہ ملتے توآج ہماری یہ حالت ہوتی۔؟حق اورسچ یہ ہے کہ ہمارا آج تک ہرجگہ پر بیوپاریوں سے ہی واسطہ پڑا۔  تاریخ گواہ ہے کہ ہمیں جوحکمران اورسیاستدان ملے وہ سب نہیں تواکثران میں بیوپاریوں سے کبھی کچھ کم نہ تھے۔ آج بھی یہ جوہمارے حکمران،ممبران اور سیاستدان بنے پھرتے ہیں یہ بھی تومویشی منڈیوں کے منشیوں، بیوپاریوں اور ٹھیکیداروں سے ہرگز مختلف نہیں۔ کیاسیاسی ایوانوں اورمیدانوں میں اس طرح کے سودے ہوتے ہیں۔؟ کیا سیاست ضمیروں کی خریداری کانام ہے۔؟ کیا اقلیت کو اکثریت اور اکثریت کواقلیت میں بدلنے کا نام جمہوریت ہے۔؟ہم نے تواپنے بڑوں سے سنا تھا کہ جمہوریت میں اکثریت کی رائے کااحترام کیا جاتا ہے۔ مگریہاں ۔؟یہاں تومعاملہ ہی الٹ ہے۔ جو اقلیت میں ہووہ اکثریت بن کر سینیٹر اور سینیٹروں کے چیئرمین بن جاتے ہیں اورجن کے پاس اکثریت ہوتی ہے وہ اقلیت میں چلے جاتے ہیں۔ سینیٹ انتخابات میں اپنے وزیرخاص کی شکست پروزیراعظم صاحب اب توچیخ وپکارکررہے ہیں لیکن چیئرمین سینیٹ کے انتخاب اورپھرتحریک عدم اعتمادکے موقع پراسی وزیراعظم عمران خان کی حکمرانی میں جب ضمیروں کے اسی طرح کے سودے کئے جارہے تھے اس وقت وزیراعظم صاحب کویہ برائی برائی کیوں نہیں لگی۔؟جب ضمیروں کی خریداری کے ذریعے اپوزیشن کی اکثریت کواقلیت میں بدلاجارہاتھااس وقت وزیراعظم صاحب کہاں تھے۔؟ہم نے سیاست میں لین دین ،لوٹوں اورضمیروں کی خریداری کونہ پہلے اچھی نظروں سے دیکھااورنہ ہی اب اس گھنائونے عمل اورفعل کی ہم ذرہ بھی کوئی حمایت کررہے ہیں ۔سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں جوکچھ ہواوزیراعظم صاحب اپنے 

بڑے امیدوارکی شکست کی وجہ سے اس عمل اورفعل پرایک بارلعنت بھیجتے ہوں گے مگرہم حکومتی امیدوارکی تاریخی دھلائی پردل ٹھنڈاہونے کے باوجودایک نہیں ہزاربارلعنت بھیجتے ہیں لیکن سوال ہماراصرف یہ ہے کہ وزیراعظم کی حکمرانی اورنگرانی میں یہی کام جب پہلے ہو رہا تھا تو اس وقت وزیراعظم نے اس فعل اور عمل پر لعنت کیوں نہیں بھیجی۔؟ پی ٹی آئی کے دوچار  ممبران کو ورغلانے، پھسلانے یا چندٹکوں پران کے ضمیر خریدنے  پر آج بادشاہ سلامت الیکشن کمیشن اور اپوزیشن کوآڑے ہاتھوں لیکر آسمان سر پر اٹھا رہے ہیں لیکن ڈھائی تین سال قبل جب اسی بادشاہ سلامت کے ایک کامیاب ترین بیوپاری جہاز بھر بھر کر مسلم لیگ ن،  پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں اورپارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کو ورغلا اور پھسلا کر ضمیروں کی خریداری کرتے رہے اس وقت یہ بادشاہ سلامت کہاں تھے۔؟ سینیٹ انتخابات میں اپنے امیدوار کی شکست پرکسی اورکوموردالزام ٹھہرانے کی بجائے محترم وزیراعظم صاحب اگر ایک لمحے کے لئے بھی اپنے آس پاس اور اردگرد نظردوڑالیں تو فواد چودھری، عمرایوب، فردوس عاشق اعوان، غلام سرورخان،اعظم سواتی اورحفیظ شیخ جیسے بے شمارروشن چہروں کودیکھتے ہی وزیراعظم کوفوراًمعلوم ہوجائے گاکہ اس کے تن بدن میں یہ آگ کس نے لگائی ہے۔ بندر کی طرح ماچس کی ڈبی ہاتھ میں لیکر وزیراعظم اگرماضی قریب میں دوسروں کی ضمیروں سے نہ کھیلتے تواب ہم بھی کسی اورکواس گناہ،دھوکے اور فراڈ کاذمہ دار قراردے کربرابھلاکہناشروع کردیتے مگرافسوس یہ آگ تواپنے ہاتھوں لگائی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ایسے میں اب کسی اورسے گلہ کرنے کاکوئی تک نہیں بنتا۔جوآپ کریں وہ ٹھیک و جائز اور وہی جو دوسرے کریں تووہ غلط و ناجائز۔  ایسا پہلے ہوتا تھا اورچلتابھی تھالیکن اب۔؟اب ایسانہ ہوتاہے اورنہ چلتا ہے۔  وزیراعظم صاحب وہ وقت گزر گیاجب لوگ ایک دوسرے کوبیوقوف بنایاکرتے تھے اب ہرشخص ایک سے بڑھ کر عقلمند اور باشعور ہے۔ اقتدارکی کرسی تک پہنچنے اوروزیراعظم بننے کے چکرمیں آپ کے ہاں جس طرح لوٹا بازار سجایا گیا۔ انتخابات جیتنے کے لئے اس وقت جس طرح ضمیروں کی خریداری ہوئی۔شائدکہ آپ وہ سب کچھ بھول گئے ہوں گے لیکن یہ عوام جس طرح نوازشریف اورآصف علی زرداری کے کالے کرتوت نہیں بھولے اسی طرح ان کوآپ کاایک ایک گناہ بھی یادہے۔ ماناکہ اس ملک میں منافقت اور ضمیرفروشی کی اس سیاست میں سابق وزیراعظم نوازشریف اورآصف علی زرداری کابھی بڑابہت بڑا ہاتھ ہوگالیکن انتہائی معذرت کے ساتھ اس گناہ میں آپ کاہاتھ اورکرداربھی کسی سے کچھ کم نہیں۔ وزیراعظم صاحب اقتدارتک پہنچنے کے نشے میں اگرآپ ان لوٹوں اوربے ضمیروں کی قیمت لگاکران کوانتخابات کے لئے ٹکٹ نہ دیتے تویہ لوٹے آج اقتدارمیں کبھی نہ ہوتے۔کل جن لوٹوں کی قیمت لگاکرآپ نے ان کی ضمیروں کوخریداتھاآج ان ہی لوٹوں کی قیمت لگاکراپوزیشن والوں نے ان کوخریدلیاہے۔آج اپوزیشن کایہ عمل اورفعل اگرآپ کو برالگتاہے توآپ اس برائی پراپوزیشن اورمخالف سیاسی پارٹیوں کوبرابھلاکہنے سے پہلے ذرہ اپنے آپ کوایک باربراکہہ دیں کیونکہ چمن کی اس تباہی میں ان کے ساتھ آپ کابھی ہاتھ ہے۔ آپ اگر ضمیروں کے اس کاروبار میں خریدار اور گاہگ نہ بنتے توآج آپ کویہ دن کبھی دیکھنا نہ پڑتا۔یہ تومکافات عمل ہے۔ جیسا کرو گے ویسا پھر بھرو گے۔ کل  آپ نے ان کے لوٹے خریدے آج انہوں نے آپ کے لوٹے واپس لے لئے اس میں ان کی برائی اورگناہ کیا۔؟ضمیروں کی یہ خریداری اور کاروبار اگر واقعی گناہ اورجرم ہے توپھرنوازشریف اورآصف علی زرداری کے ساتھ آپ بھی بڑے گنہگاراورمجرم ہیں۔پہلے آپ قوم سے معافی مانگیں پھران کومعافی مانگنے کے لئے کٹہرے میں لائیں لیکن اپنے آپ کوفراموش اوراپنے گناہوں کوبھول کردوسروں کی طرف انگلیاں اٹھانے سے نہ پہلے کچھ ہوا نہ آئندہ کچھ ہونے والاہے۔کچھ کرگزرنے کیلئے پہلے اپنے آپ سے آغاز کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم اگر سیاست سے ضمیرفروشی ختم کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں تووہ پھراپنے آس پاس جمع ہونے والے ان لوٹوں کولات مارکران سے برأت کا اظہار و اعلان کر دیں پھر دیکھیں کہ ضمیر فروشی کا یہ کاروبار ختم ہوتاہے کہ نہیں۔لوٹوں کوبغل میں چھپانے سے لوٹوں کایہ کاروبارکبھی ختم نہیں ہوتابلکہ یہ مزید بڑھتاہے کیونکہ لوٹا لوٹا ہوتا ہے وہ کسی کا ہوتا نہیں۔ آج یہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں توکل کون لیگ یاپیپلزپارٹی کے ساتھ ہوں گے۔ان کاتوکام ہی قیمت لگاکرنوٹ وصول کرناہے۔ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اوراب بھی کہتے ہیں کہ سیاست کولوٹوں سے پاک کرنے کیلئے ان لوٹوں کو واش رومزتک محدودکرناضروری ہے۔


ای پیپر