Asif Anayat, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 مارچ 2021 (11:45) 2021-03-09

انسانی مشاغل میں مختلف کھیل سیرو سیاحت، سائنسی ایجادات، مہمان نوازی، لکھنا پڑھنا، پیسا بنانا، عبادت و ریاضت، موسیقی ، مختلف موضوعات پر گفتگو گویا ان گنت مشاغل ہیں جن میں بعض روزگار کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ مشغلہ اور روزگار ایک ہو تو شہکار دریافت، ایجاد اور پیداہوتے ہیں۔ سیاست بھی مشغلہ ہی ہے جن کاکاروبار،فطرت یا فریضہ ہے وہ ہمارے سامنے ہیں لیکن ایک مشغلہ شکار ہے۔ شکار بعض لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ معتبر مشغلہ ہے۔ ’’شکاری اور بھارتی فوجی عموماً بہت جھوٹے ہوتے ہیں‘‘۔ بہرحال شکار میں شیر کا شکار زبردست اور انتہائی قابل فخر مشغلہ ہے۔ لوگ شیر کو شکار کر کے اس کی کھال ڈرائنگ روم میں سجالیتے ہیں اور آنے والی نسلیں بھی تعارف کراتی ہیں کہ یہ ہمارے فلاں فلاں بزرگ نے شکار کیا تھا گویا شیر کا شکار بہادری اور انسانی مشاغل میں نمبر ون پر ہوگیا اور شکار کے دوران اگر شیر کے پنجے میں شکاری کی گردن آجائے یا جبڑے میں شکاری پورے کاپورا یا کوئی اعضاء آجائے تویہ شیر کی درندگی۔ شکاری مارا جائے تو شیر کی درندگی اور اگر شیر مارا جائے توانسانیت کا اور انسان کا قابل فخر مشغلہ! 

یہی حالت ہمارے ہاں سیاست کی ہے اگر سنجرانی کے ووٹ بند لفافے میں پیغام بدل دیں۔حکومت کی سیاست اگر اپوزیشن کے گیلانی جیت جائیں تو کرپشن، رشوت، پیسہ، لالچ اور الیکشن کمیشن کی ناکامی۔ اگر نواز، زرداری ماضی میں ایک دوسرے کو برا کہتے رہیں اور اب ایک ہوں تو مفاد کی خاطر اور اگر شیخ رشید چپڑاسی کے قابل بھی نہ ہو، بابر اعوان ٹیرین کی ولدیت کا سوال اٹھائے، چودھری پرویز الٰہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو مگر ان میں آج وفاقی وزیر داخلہ، پارلیمانی امور کا انچارج اور پنجاب کی اسمبلی کا کسٹوڈین ہو جائے تویہ صادق اور امین کی سیاست ہے ۔کازب اور منافقین کی کہہ مکرنی نہیں۔ 

جب تک ہم جانبدار ہیں شیر کے مارے جانے کو انسانی مشغلہ اور شیر کے حفظ ماتقدم پنجہ مار دینے کو درندگی کہتے رہیں گے قوم تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جائے گی۔ غیر آئینی اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد ’’16 رشوت خوروں‘‘ بکاؤ مال لوگوں کا نمائندہ ہونے پر وزیراعظم اگر فخر محسوس کریں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ لوگوں کی پگڑیاں روندنے والوں کی جب اپنی پگڑی پی ڈی ایم کے ہاتھوں روندی گئی اور گیلانی کے سر پر سج گئی تو اعتماد کا ووٹ لے کر اپنی شلوار کی پگڑی بنالی۔ ووٹوں کی تعداد میں ترجمان اور مشیر بھی ڈال لیے گئے جن کی ابھی تک تعداد 4معلوم ہو سکی ہے گویا تعداد میں بھی جھوٹ۔ اعتماد کا ووٹ ایسے ہی ہے کہتے ہیں جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے وہ اپنے منہ پر مار لینا چاہیے۔ جو کہتے تھے کہ اگرکوئی مجھے کہے کہ میں سیاست کو اپنا کیریئر بناؤں تو میں خود کشی کر لوں گا۔ آج 16 بکاؤ لوگوں کو سینے سے لگانے پر مجبور ہو گئے۔ یقینا اقتدار کی خاطر، میں خوفزدہ ہوں جب ان کا اقتدار ختم ہو گا تو ان کی حالت کیا ہو گی جس دن یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوئے، حکومتی وزراء مشیر وں کو ایسے نوحہ کناں دیکھا لگتا تھا جیسے کرائے پر کسی مرگ پرآنے والی عورتیں ہیں اور سروں پر دوپٹے بھی نہیں ہیں جبکہ وزیراعظم کی حواس باختی الگ ہے۔ 

اعتماد کا ووٹ لینے کے دن جو ن لیگ کے لوگوں پر دھاوا بولا گیا، ڈسکہ کے بعد نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہے کہ حکمران ٹولہ اقتدار کی خاطر خانہ جنگی اورانارکی سے بھی گریز نہیںکرے گا حالانکہ بلاول بھٹو کہہ چکے تھے ہم بتائیں گے عدم اعتماد کب ہو گا۔ گویا ابھی صرف سیاسی فائرنگ ٹانگوں، ہاتھوں اور قریب سے کرنا تھی اقتدار کا خاتمہ پروگرام میں نہیں تھا ۔ البتہ اب انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ پنجاب کو پہلے بچانا چاہتے ہیں کیوں کہ ساقط وزیراعلیٰ کے آسیب میں اتنا بڑا صوبہ مزید نہیں رہ سکتا۔کئی آئی جی، کئی چیف سیکرٹری اور سی سی پی او پے در پے تبادلوں کی گھاٹ اترے مگر صوبہ میں کسی بھی اعتبار سے کوئی بہتری نہ آسکی۔ میرے خیال سے لوگ اب حکمرانوں نہیں اپوزیشن PDM کی قیادت کی بات پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں حتیٰ کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے متعدد بار کہا کہ ہمارا سیاست سے کچھ تعلق نہیں لیکن گیلانی کے کہنے پر کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے قوم اعتبارکر گئی پھر جزوی مہر تصدیق بلاول نے لگا دی اور مریم نواز نے یہ کہہ کر تائید کی کہ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔ مختصر یہ کہ PDM پر عوام بھروسہ کرنے لگے کیونکہ مہنگائی، بیروزگاری ، انتظامی بدحالی، کہہ مکرنیاں، بدعنوانی، سیاسی انتقام، نا اہلیت موجودہ حکومت کا طرۂ امتیاز بن گئی۔ حد یہ ہے کہ بہت سے معاملات کی دیکھ بھال اسٹیبلشمنٹ کر رہی ہے۔ قوم کو داد دینی چاہیے جو ہواسو ہوا مگر جیسے ٹرمپ کے دور میں امریکی اداروں اور ایجنسیوں نے امریکہ بچا لیا اور ٹرمپ کو امریکی گوربا چوف نہیں بننے دیا اسی طرح موجودہ حکومت میں بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں نے ملک بچا یا ہے چونکہ فی الوقت وفاق میں کوئی حکومت اور 

ذمہ داری لینے کو تیار نہیں لہٰذا پنجاب جو 12 کروڑ عوام کا صوبہ ہے، اس کو بچانے کی صورت گری ہو رہی ہے جس سلسلہ میں بلاول بھٹوکی PDM کی نمائندگی کرتے ہوئے پنجاب میں آمد ہے اور یہاں کی حقیقی قیادتوں سے بات چیت ہو رہی ہے۔ رہی بات بزدار کی تو ان کی طرف توجہ ہو چکی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ اگر ن لیگ چودھری پرویز الٰہی کو قبول کرنے پر آمادگی کا اظہارکر دے تو بزدار ڈھائی پہر کے مہمان ہوں گے۔ چودھری پرویز الٰہی کا چناؤ بہتر ہو گا اور اگر کوئی سیاسی جوڑ توڑ کسی اور طرف کا رخ کرتا ہے تو بھی بزدار سے جو بھی آئے گا بہتر آئے گا کیونکہ پنجابی کا محاورہ ہے ’’رلے دا وچھہ‘‘ یعنی وہ بچھڑا جس میں محلے داروں نے سات حصے ڈالے ہوتے ہیں۔ اس کو ساتوں گھروںکے بچے گھماتے پھرتے ہیں لہٰذا اب حصہ داری کے بچھڑے کی قربانی کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ پنجاب کی قیادت کس کو سونپی جانی ہے اگر عمران خان خود فیصلہ کر لیںگے تو بہتر ہو گاورنہ گیلانی صاحب کی طرح یہ فیصلہ بھی ہو چکا۔ چودھری پرویز الٰہی جو کہ آسانی سے یہ ہدف نگل سکتے ہیں اگر ان پر اتفاق نہ ہوا تو ان کی مرضی سے کوئی اور ہی ہو سکتا ہے یا ان کے بغیر بھی لیکن سردار عثمان بزدار بھی آئی جی اور چیف سیکرٹری کی طرح تبدیلی کی گھاٹ اترنے والے ہیں۔ آخر پرمولانا رومیؒ صاحب کی حکایت 

شیر نے بھیڑیے ’’چیتے‘‘کا سر توڑ ڈالا اور دوہری سرداری کے تصور کو ختم کر دیا۔ حاکم مطلق کے سامنے مردہ بن جانا چاہیے۔ پھر شیر نے لومڑی کا رخ کیا بولا شکار کو تقسیم کر دے۔ لومڑی عاجزی سے بولی یہ نیل گائے آپ کا ناشتہ ہے بکری دوپہر کے لیے اور خرگوش کی یخنی شام کے لیے۔ شیر بولا اے لومڑی تو نے انصاف کو روشن کردیا تو نے ایسا انصاف کہاں سے سیکھا۔ وہ بولی اے دنیا کے بادشاہ بھیڑیے کے حال سے۔ شیر بولا جب تو مجسم ہمارے لیے ہو گئی ہے تو ’’ہم‘‘ ہو گئی ہم تیرے ہیں اور یہ سب شکار تیرے لیے ہیں جب تو نے بھیڑیے کے حال سے عبرت حاصل کر لی ہے تو تو لومڑی نہیں بلکہ میرا شیر بن گیا ہے عقلمند وہ ہے جو عبرت حاصل کر لے۔ لومڑی نے شکر کیا کہ مجھے شیر نے بھیڑیے کے بعد بلایا۔ 

مگر بزدار کا تو یخنی دینے سے بھی کام نہیں چلے گا۔ پنجاب کو ظلم کے جبڑے سے نکالنے کے لیے بہرحال شیخ حفیظ پنجے کے بعد اب بزدار پی ڈی ایم کے جبڑے میں ہے جس کو پی ٹی آئی ، ق لیگ، عوامی لیگ، ایم کیو ایم، بی این پی، فنکشنل لیگ ، آزاد گروپ اور نامعلوم لوگوں کا اتحاد نہیں بچا سکتا۔


ای پیپر