Aaghar Nadeem Sahar, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 مارچ 2021 (11:35) 2021-03-09

 کیف عرفانی ایک عہد کا نام ہے۔ایک ایسا چشمہ جس نے تین نسلوں کو سیراب کیا ہو،پاکستان بھر سے تشنگانِ علم اس در پہ پہنچتے،ان سے شاعری سیکھتے‘اردو تلفظ پر بات کرتے اور علم کی جھولیاں بھر کے واپس لوٹتے۔کیف عرفانی وہ انسان جنہوں نے اپنی زندگی اردو کی ترویج میں صرف کی‘جن کے قدموں میں بیٹھ کر ہم نے شعر کہنا سیکھا‘جن استاد کی گفتگو سن کر ہم نے بولنا سیکھا‘جن کی زبان دانی سے ایک زمانہ مستفید ہوا ۔آج جب ان کی وفات کا سنا تو یقین جانیں سکتہ طاری ہو گیا ،مجھے وہ دن یاد آ گئے جب ۲۰۱۲ء میں’’لوحِ ادراک‘‘(میرا پہلا شعری مجموعہ)تیاری کے مراحل میں تھا‘میں مسودہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ’’استادِ مکرم اس مسودے کی درستی کیجیے اور فلیپ کے لیے کچھ لکھ دیجیے‘‘۔مسودہ پڑھا ‘کچی پنسل پکڑی اور جہاں جہاں عروض کی غلطیاں تھیں‘درستی شروع کر دی۔میری موجودگی میں تقریباًپورا مسودہ دیکھ لیا‘مجھے حکم کیاکہ’’ابھی پرنٹنگ کے لیے نہیں بھیجنا‘یہ غلطیاں لگا کر نیا مسودہ لائو‘میں دوسری بار حاضر ہوا‘استاد ان دنوں کافی ضعیف ہو چکے تھے‘ میرا مسودہ پکڑا اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دوبارہ درستی شروع کر دی اور یوں یہ عمل تین مرتبہ دوہرایا‘پھر کتاب کا مسودہ فائنل کیا اور یوں میری پہلی کتاب شائع ہوئی۔یہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ ہر شاگرد سے ایسے ہی محبت کی‘ہر شاگرد کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا‘ہر شاگرد کو کتاب دوستی کی طرف راغب کیا بلکہ شاگردوں کو خود کتب عنایت کرتے‘ انہیں تنبیہ کرتے کہ اس ماہ یہ کتاب پڑھو‘ پڑھنے کے بعد استادِ محترم اس کتاب پر گفتگو کراتے اور یہ عمل تقریباً پچاس سال جاری رہا۔ آپ اندازہ کریں کہ پچاس سال میں کتنے شاگرد تیار کیے ہوں گے جنہیں علم دوستی اور کتابوں کا عشق سکھایا ہوگا۔منڈی بہائوالدین سمیت پاکستان بھر کے اساتذہ کے لیے ان کی کتاب’’صحتِ تلفظ‘‘اردو سیکھنے کا ذریعہ بنی۔آدھی صدی درس و تدریس میں گزار دی۔سرگودھا میں حلقہ اربابِ ذوق کے بانی تھے‘ڈاکٹر وزیر آغا سمیت کتنے ہی قد آور لکھاریوں کے ساتھ وقت گزرا۔گجرات سے نوکری کا آغاز کیا تو شروع کے شاگردوں میں اوریا مقبول جان بھی شامل تھے۔ اوریا مقبول جان کئی محافل میںاس بات کااقرار کر چکے کہ ’’مجھے تقریر کا فن کیف عرفانی نے سکھایا‘‘۔ 

دوستو!کسی بھی ایسے شخص کے بارے میں کچھ تحریر کرنا‘جس سے آپ نے لکھنا ‘پڑھنا اور بولنا سیکھا ہو‘کس قدر مشکل ہوتا ہے،مجھے آج اندازہ ہو رہا ہے۔ کیف عرفانی جیسے علماء حقیقت میں صدیوں بعد آتے ہیں۔جنہوں نے اپنی زندگی شاگردوں کے لیے وقف کر دی ہو‘جن کی زندگی کا مقصد اردو زبان و ادب کی ترویج ہو۔آپ بہ یک وقت اردو‘پنجابی اور فارسی زبان پر مکمل عبور رکھتے تھے‘اردو شاعری بھی کی اور پنجابی زبان میں بھی شعر کہے۔ان کی پنجابی نظم’’میری جیہڑی دھی رانی اے‘‘پنجابی سے محبت کرنے والوں کو زبانی یاد ہے۔ ان کے درجنوں شعر زبان زدِ عام ہوئے۔ سیاسی میدان میںبھی سرگرم رہے‘دائیں بازو کے نظریات رکھتے تھے اور تادمِ مرگ جماعت اسلامی کا جھنڈا اٹھائے رکھا‘جماعت اسلامی سے محبت ان کی رگوں میں شامل تھی‘ایک آدھ بار الیکشن بھی لڑا جس میں کوئی نمایاں کامیابی نہ ملی مگر اس کے باوجود خدمتِ خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا جس کا اظہار بارہا مقامات پر دیکھا گیا۔اپنے نامور شاگرد محمد ضیغم مغیرہ کو اپنا روحانی بیٹا کہتے تھے‘دونوں باپ بیٹے نے جماعت سے محبت کا حق ادا کیا۔دائیں بازو کے معروف دانش ور نعیم صدیقی سے اپنی کتاب ’’اذنِ تکلم‘‘پر لکھوانے گئے تو وہ کہنے لگے کہ ایسی شاعری پر کون نہیں لکھے گا‘یوں کیف عرفانی کا پہلا مجموعہ کلام’’اذنِ تکلم‘‘نعیم صدیقی کے دیباچے کے ساتھ شائع ہوا توہاتھوں ہاتھ بک گیا،یہاں تک کہ ا ن کے اپنے پاس بھی ’’اذنِ تکلم ‘‘کی کوئی کاپی نہیں تھی۔پانچ سال قبل ایک طالب علم ‘کیف صاحب پر ایم فل کا مقالہ لکھ رہا تھا ‘اس نے مجھے اپروچ کیا کہ کسی طرح سے ’’اذنِ تکلم‘‘تلاش کر دیں‘یوں راقم نے بلوچستان کے ایک دوست سے وہ کتاب منگوائی اور مقالہ نگار کو اس کی فوٹو کاپی بھیجی۔

کیف صاحب شہرت گریز آدمی تھے۔ زندگی بھر میڈیا اور اخبارات سے دور رہے۔ راقم نے درجنوں باران سے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ لاہور میں ان کے ساتھ شام کا اہتمام کیا جائے مگر ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ ’’اب ان کاموں کا وقت نہیں‘بقیہ زندگی عاقبت کی تیاری کرنا چاہتا ہوں‘‘ ۔یہی وجہ ہے کہ نہ مشاعروں کے دوڑ میں شامل ہوئے اور نہ بیوروکریسی سے روابط بحال کیے حالانکہ اوریا مقبول جان سمیت درجنوں بیوروکریٹ کیف صاحب کے شاگرد ہیں۔آخر انہوں نے تین نسلوں کو پڑھایا ‘تین نسلوں میں کتنے ہی آفیسرز‘ فوجی ‘سیاست دان اور استاد پیدا کیے‘ ایک طویل فہرست ہے۔میں جب بھیکھے وال(منڈی بہائوالدین)ان کی قل خوانی میں شریک ہوا‘تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔سیاست دان‘ وکلاء‘ ڈاکٹرز‘ انجینئرز‘ پولیس آفیسرز اور استاد،ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نامور لوگ وہاں موجود تھے۔جس وقت ان کے ذہین ترین شاگرد ضیغم مغیرہ تقریر کر کے استادِ مکرم کی یادیں تازہ کر رہے تھے‘ یقین جانیں میں نے ہر آنکھ اشک بار دیکھی۔جتنی دیر اس محفل میں شریک رہا ‘کسی شخص کے آنسو خشک نہیں ہوئے۔لوگ ان کے بیٹے ارمغان کیف کے گلے ملتے‘آنسو بہاتے اور کہتے کہ آج ہمارادوست رخصت ہوا‘کوئی کہتا آج ہمارا باپ رخصت ہوا‘کوئی کہتا آج ہمارا لیڈر رخصت ہوا،یوں ختم کی تقریب میں ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔مجھے وہاں ایک انتہائی مشہور سیاست دان بھی ملے جو کئی حکومت میں مختلف وزارتوں پر رہے‘ان کے الفاظ تھے کہ’’ایک ایسا شخص چلا گیا‘جو ضلع کا سنگھار تھا‘‘،میں ان وزیر صاحب سے ملا اوربولا ’’کیف صاحب صرف ضلع نہیں ‘اردو دنیا کا مان تھے‘‘۔میں جب تعزیت کرنے کے لیے ارمغان کیف( بیٹا) محمد ضیغم مغیرہ ا ور مظہر دانش(دو قریبی شاگرد) سے ملا‘یقین جانیں میں ان سے ایک لفظ نہیں کہہ سکا‘میرے الفاظ جواب دے گئے۔میں ان کے ان تینوں بیٹوں کے پاس کھڑا ہوا‘تعزیت کرنا چاہتا تھا مگر آنسوئوں نے ساتھ ہی نہیں دیا‘ٹشو سے آنکھیں صاف کیں اور مذکورہ احباب سے گلے لگ گیا اور بنا کچھ بولے واپس آ گیا۔میں اس کالم کے ذریعے ان دوستوں سے تعزیت کر رہا ہوں، میں اب بھی ان دوستوں سے براہ راست کچھ نہیں کہہ سکوں گا‘بس یہ کچھ بے ربط جملے ہیں‘یہ بھی کیف صاحب کے سکھائے ہوئے ہیں۔یقین جانیں استادِ محترم کی جدائی کا غم بہت گہرا ہے‘ کئی سال یا شاید عمر بھر اس غم سے باہر نہ آ سکوں۔آخرکیف عرفانی نے آدھی صدی کئی نسلوں کی پرورش کی ہے‘ہم کیسے بھول جائیں۔ عالِم کی موت‘عالَم کی موت ہوتی ہے،کیف صاحب ہمیں ادھورا کر گئے‘میرے پاس کم از کم اب کوئی ایسا شخص نہیں جسے میں شعر سنا کر ڈانٹ سن سکوں۔کیف صاحب’’تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں۔۔۔۔تو جدا ایسے موسموں میں ہوا۔۔۔۔جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں‘‘۔


ای پیپر