Shakeel Amjad Sadiq, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 مارچ 2021 (11:30) 2021-03-09

بندروں کے شکاری انہیں پکڑنے کے لیے ایک صندوق کا استعمال کرتے ہیں جس کے اوپر ڈھکن میں ایک سوراخ ہوتا ہے جو صرف اتنا بڑا ہوتا ہے کہ جس میں بندر کا ہاتھ جا سکتا ہو عموماً اس صندوق میں اخروٹ ڈالے جاتے ہیں بندر اس صندوق میں ہاتھ ڈال کر مٹھی بھر لیتا ہے اب وہ مٹھی کو باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس سوراخ سے صرف خالی ہاتھ نکل سکتا ہے مٹھی نہیں۔

بندر کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ خالی ہاتھ باہر نکال لے یا مٹھی میں اخروٹ پکڑے پھنسا رہے بندر عقل سے عاری ہوتا ہے وہ زور پر زور لگاتا رہتا ہے اور پھنسا رہتا ہے۔ 

انسان اشرف المخلوقات ہے یہ دوسری مخلوق کی بے عقلی نا سمجھی کو دیکھ کر فوراً سمجھ جاتا ہے لیکن پھر بھی بسا اوقات ہم اخروٹوں کو پکڑے رکھتے ہیں جو زندگی میں ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتے زندگی منجمد ہو کر رہ جاتی ہے ہم نے بہت سے غیر ضروری کام اپنے ذمہ لے رکھے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے فوری اور ضروری کام ہم سے رہ جاتے ہیں اسی طرح ہم اپنی طاقت،صلاحیت کو ضائع کر دیتے ہیں۔

کالم نویس ،شاعر،ڈرامہ نویس منصور آفاق کو مجلس ترقی ادب کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔بقول مرزا اسد اللہ غالب

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

اس ادارے کی سربراہی پروفیسرحمید احمد خان،امتیاز علی تاج،احمد ندیم قاسمی ،شہزاد احمد اور ڈاکٹر تحسین فراقی جیسی ممتاز اور نامور علمی وادبی 

شخصیات کے پاس رہی ہے۔شہزاد احمد کے انتقال کے بعد عربی زبان وادب کے عالم اور اردو کے ممتاز ادیب ڈاکٹر خورشید رضوی کو اس ادارے کی سربراہی کی پیشکش ہوئی جو انہوں نے بہ امر مجبوری قبول نہیں کی لیکن بہ صد شکر رب رحیم اچھی بات یہ ہوئی کہ ان کے انکار کے بعد ممتاز بزرگ استاد ، نقاد،دانشور اور محقق ڈاکٹر تحسین فراقی مجلس ترقی ادب کے سربراہ بنے۔

منصور آفاق سے پہلے علمی وادبی اعتبار سے بڑی قد آور شخصیات مجلس ترقی ادب کی ناظم رہی ہیں اور علم وادب کی سہرا بھی بلاشبہ انہی ادباء کے سر جاتا ہے۔۔اردو ادب کے جسم میں روح بھی انہی احباب کے دم قدم سے ہے۔ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب سے پہلے تمام حضرات تاحیات اپنے منصب پر فائز رہے صرف ان کو قبل از وقت سبکدوش کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب جناب پرویز الٰہی نے اپنے دور حکومت میں ادارہ مجلس ترقی ادب کے فنڈز میں اضافہ بھی کیا تھا۔

شہباز گل اور فردوس عاشق اعوان کے پاس جس نوع کے عہدے ہیں ایسا ہی کوئی عہدہ منصور آفاق کو دے دیا جاتا اور وہ اس سے بھرپور انصاف بھی کرتے۔ موصوف کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے، ان کے چند دن پہلے کے کالم سے یہ اقتباسات ملاحظہ کریں:

’’نکلتے ہوئے سورج کے سنہری تھال کو سیاہ گولا کہنے والوں کو کیا کہا جا سکتا ہے مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ تین دہائیوں بعد جب نئی ہزاری کی پہلی نصف صدی کی تاریخِ پنجاب لکھی جائے گی تو اس میں عثمان بزدار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا‘‘۔

’’پنجاب بدل رہا ہے۔ عثمان بزدار کامیاب ترین وزیراعلیٰ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مخالفت میں میڈیا مہم مسلسل جاری ہے۔ ان کی کامیابیاں اپوزیشن کو اور کچھ پی ٹی آئی کے اندر کے لوگوں کو بھی ایک آنکھ نہیں بھا رہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مستقبل میں عمران خان کے بعد پی ٹی آئی کی سب سے اہم شخصیت یہی ہوگی‘‘۔

ایسے کالم نویس کو سیاسی عہدہ دینا تو قدرے ٹھیک اور نیم مناسب و جائز تھا لیکن عظیم روایات کے حامل ادبی ادارے کو ان کے سپرد کرنا ،علم و ادب کی بے توقیری بھی ہے اور موجودہ عہدے دار کے ساتھ نا انصافی اور زیادتی بھی ہے۔

منصور آفاق کی علمی وادبی بصیرت کا سراغ لگانے کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں بس آپ اتنا جان لیجئے اور اندازہ لگا لیجئے کہ جناب کے نزدیک احمد فراز میر تقی میر سے بڑے شاعر ہیں۔(احمد فرار 'میر تقی میر سے بڑے شاعر کیوں ہیں۔۔یہ آپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں )

ڈاکٹرتحسین فراقی کے اپنے عہدہ سے سبکدوش ہونے میں چودہ ماہ باقی تھے مگر انہیں بغیر کسی وجہ سے فارغ کرکے منصور آفاق کو تعینات کرکے میرٹ کی سر عام پامالی کی گئی ہے۔ اگر ہم اسی طرح اخروٹوں کو پکڑے رکھیں گے تو ہماری صلاحیتیں ماند پڑ جائیں گی۔ہم اپنے مفاد کی خاطر ایک دوسرے کو کچلنے کے عادی ہو جائیں گے۔اپنے بزرگوں اور بڑوں کی بے توقیری کو اپنا شیوہ بنا لیں گے جو معاشرے اقربا پروری اور بے انصاف کے عادی ہو جاتے ہیں ایسے معاشروں سے اللہ اپنی برکت اٹھا لیتا ہے اور مسکنت ان معاشروں کا مقدر بن جاتی ہے۔


ای پیپر