Shabir Buneri, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 مارچ 2021 (11:25) 2021-03-09

یہ حقیقت ہے کہ یہ ملک شخصیات سے بے جا محبتوں کا اب مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ مگر اہم ہے کہ مسلسل مایوسی کے بعد امید کی تھوڑی سی روشنی کتنی اہم ہوتی ہے اس کا علم ان کو ہوتا ہے جو عشروں پر محیط زندگی میں ایک پل بھی سکون سے نہ جئے ہوں۔ ہم نے زندگی میں سیاسی اتار چڑھاؤ بے شمار دیکھے عین انہی اتار چڑھاؤ میں خان صاحب جب سیاسی افق پر نمودار ہوئے تو ان کی باتیں ایاک نعبدو وایاک نستعین سے شروع ہوکر کرپشن کے ناسور پر ختم ہوجاتی۔ غربت کے مارے اور کرپشن کے ستائے ہوئے کروڑوں محروم انسانوں کے دلوں پر امید کی یہ دستک جب بھی ہوتی رہی ان کے اندر خوشیوں کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتا۔ ورلڈکپ بھی تو ایک امید ہی بنا تھا۔ پاکستان کے محروم انسان ٹی وی سکرینوں پر جب خان صاحب کی ٹیم کو دیکھتے تو بے اختیار لبوں پر مسحورکن مسکراہٹ پھیل جاتی اور یہ دعا نکلتی کہ اللہ اس ٹیم کو کامیاب کریں۔ 

خان صاحب کو اگر یاد ہو تو اس قوم نے ان کو اس وقت بھی پلکوں پر بٹھایا تھا جب وہ گلیمر کی دنیا میں صرف خود کو خوش رکھنے کے عادی تھے۔ انہوں نے جب چیتے کی تصویر والی ٹی شرٹ زیب تن کی تو اس قوم نے ان کے لئے رمضان کے بابرکت مہینے میں دعائیں مانگی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک کمزور ٹیم کے ساتھ وہ امر ہوگئے۔ 

خان صاحب کو شائد یاد ہو انہوں نے کینسر ہسپتال بنانے کا جب تہیہ کرلیا تو بھوک و پیاس سے بلکتی قوم نے اپنے منہ کا نوالا دیا۔ خان صاحب نے جب بھی کوئی خواب دیکھا اس کو پورا کرنے کے لئے اس قوم نے خود اپنے اوپر دن رات ایک کیا اور خان صاحب سے بڑھ کر یہ جذباتی قوم ڈٹ گئی۔ خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے لیکن خان کے ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کے 

لئے پاکستان کے ان تمام لوگوں نے بھی اپنے خواب قربان کئے جن کی چھتوں سے مسلسل پانی ٹپکتا رہا۔ 

خان صاحب نے جو بھی موقف اپنایا غریب عوام نے صف اول میں رہتے ہوئے کسی بھی چیز کی پروا نہیں کی۔ چوبیس سال پہلے خان صاحب نے ایاک نعبدو وایاک نستعین سے جب آغاز کیا تو دنیا نے دیکھا اس وقت کے آبلہ پا بچے خان صاحب کے قافلے میں جوق درجوق شامل ہوگئے۔ باپ بیٹوں کے درمیان لڑائیاں ہوئیں خان مگر آنکھوں کا تارا بن ہی گئے۔ خان صاحب نے وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھا تو بھوکے پیاسے انسانوں کے ایک بڑے جم غفیر نے اس بات کو سنجیدہ لیا اور ان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچا دیا۔ خوابوں کی تکمیل کے درمیان ذاتی مفادات کے حصول کا عنصر کب غالب آگیا کسی کو پتا تک نہ چلا۔ امید اس بار بہت بڑی تھی کہ خان صاحب ورلڈکپ کی طرح پاکستان کے غریب عوام کو ایک اور تحفہ دیں گے لیکن طاقت کا نشہ ان کے ارد گرد بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔ اس بار میرے پاکستانیوں سے بات شروع کر کے خان صاحب نے "میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا " کا ورد شروع کیا۔ ہر کسی کو معلوم تھا خان صاحب نڈر ہیں بے باک ہیں اور سٹیٹس کو کے خلاف جو آوازخان صاحب نے اٹھائی وہ حقیقت پر مبنی تھی لیکن اسلام آباد کے ایوانوں میں انہوں نے خود ان لوگوں کو بے تحاشا نوازنا شروع کیا جن کے وہ خلاف تھے اور جو ان کے ورکرز ہیں انہوں نے تضحیک والا ٹیکنیک بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔

اب دو چیزیں ایسی ہیں جن کی طرف ضروری ہے کہ خان صاحب توجہ دیں۔ پہلی بات یہ کہ جس ریاست مدینہ کی وہ بار بار بات کرتے رہتے ہیں اس کا مطالعہ اپنے ورکروں کو لازمی کرائیں۔عدم برداشت جہاں ہو وہاں ریاستیں پروان نہیں چڑھتی بلکہ زوال کی طرف گامزن ہوتی ہیں۔ وزیراعظم جب اعتماد کا ووٹ لے رہے تھے تو اسلام آباد کی سڑکوں پر ان کے ورکرز اپوزیشن کے رہنماؤں کے ساتھ تاریخ کی شدید ترین بدتمیزی میں مصروف تھے۔ گالم گلوچ کا یہ جو کلچر پاکستان تحریک انصاف کی سیاست میں پروان چڑھا ہے اس کا نقصان آنے والے وقت میں خود ان کے لئے حد سے زیادہ ہوگا۔ سوشل میڈیا پر اختلاف کا کوئی چانس ہی نہیں جہاں پر کوئی اختلاف سامنے نظر آجاتا ہے وہاں گالیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ اب یہ گالی دینے والے پر منحصر ہے کہ انتخاب ماں والی گالی کا کرنا ہے یا بہن والی کا۔ 

انسانوں کے پاس جب دلیل والی منطق ختم ہوجاتی ہے تو وہاں وحشی پن ضرور سامنے آتا ہے۔ ایوانوں کے اندر منتخب نمائندوں سے لے کر عام ورکروں تک برداشت کی شدید قلت ہے۔ خان صاحب پراعتماد ماضی میں صرف پی ٹی آئی کے ورکروں نے نہیں کیا بلکہ پاکستان کے تمام لوگوں نے کیا۔اب یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ 

دوسری چیز خان صاحب کو چاہئے کہ دل سے اب تسلیم کریں کہ وہ وزیر اعظم ہیں۔ اپوزیشن والا رویہ اب ترک کر دینا چاہئے۔ ماضی کی حکومتوں کو کوسنے کی بجائے اب کام پر لگ جانا ضروری ہے۔ کرپشن اگر ملک کی جڑیں کاٹ رہا ہے تو مہنگائی وبال جان بنی ہوئی ہے۔ آدھے سے زیادہ وقت اپوزیشن کو کوسنے میں گزارا اور اب خود ہی اپنے لوگوں سے اعتماد کا ووٹ لے کر اس پر جشن منانا کہاں کی اعلیٰ ظرفی ہے۔ 

تاریخ کے کوڑا دان میں بے شمار گفتار کے غازی موجود ہیں۔ گفتار کا غازی بننے سے بہتر ہے کہ بندہ کردار کا غازی بنے۔ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ اپنے ہی بندوں سے لینا مقام فکر ہے۔ اب اعتماد کا ووٹ مل گیا تو کیوں نہ کام شروع کیا جائے۔ یہ ملک حقیقت میں اب شخصیات سے بے جا محبتوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔


ای پیپر