اعتماد کا اصل ووٹ!
09 مارچ 2021 2021-03-09

گوکہ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر اپنے دوست وزیراعظم عمران خان کو ان کے واٹس ایپ پر میں نے مبارک دی، جس کا جواب اُنہوں نے بھی بڑی محبت سے دیا، یہ کام میں نے اِس لیے کیا کہیں میری طرف سے مبارک نہ ملنے پر وہ میرا شمار اپنے ”ذاتی دشمنوں“ ذاتی مخالفین یا نون لیگ کے دوستوں میں نہ کرنا شروع کردیں، اُن کا کوئی مخلص ترین دوست بھی کوئی کام کی بات اُنہیں بتائے وہ یہی سمجھتے ہیں ”وہ نون لیگ کی زبان بول رہا ہے“۔ ....ہم تو چاہتے ہیں ہمارے دوست وزیراعظم کی کوئی ”زبان“ ہو جو ہم بول سکیں، میں نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر اِس لیے بھی اُنہیں مبارک دی میں کہیں اِس اعزاز سے محروم نہ ہوجاﺅں جو دوتین ماہ قبل اُن کے ساتھ ون ٹو ون ہونے والی ملاقات میں اُنہوں نے یہ کہہ کر مجھے بخشا تھا ”تمہارے بارے میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تم بدنیت ہو“....اِس موقع پر اپنے نزدیک جن دوبدنیت قلم کاروں کا انہوں نے بطور خاص ذکر کیا تھا، میں نے اُن کے بارے میں بھی اُن کے دل ودماغ میں موجود غلط فہمیاں دُور کرنے کی پوری کوشش کی تھی، ایک کے بارے میں اُنہوں نے فرمایا ” یہ کتے کی دُم ہے جو کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی“ .... اِس کے بعد میں نے محسوس کیا مزید کچھ کہنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے، .... جہاں تک محترم وزیراعظم کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا تعلق ہے میرے نزدیک یہ عمل بالکل غیر ضروری تھا، جس کسی نے بھی وزیراعظم کو یہ مشہورہ دیا اُسے وزیراعظم یا پی ٹی آئی کا دوست نہیں کہا جاسکتا، یوں محسوس ہوتا ہے یہ مشورہ شاید شیخ رشید نے دیا ہو، قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ صاحب نے فرمایا وہ کوئی ”مالشیے وزیر“ نہیں ہیں “ اُس کے بعد جتنی اُنہوں نے مالش کی اُتنی حکمرانوں کے جوتوں پر کوئی پالش نہیں کرتا، کچھ باتیں اُنہوں نے اچھی بھی کیں، یہ بات قومی اسمبلی میں موجود کچھ اراکین کو اُنہوں نے خود بتائی ہے، ....اور اگر اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ وزیراعظم کا اپنا تھا تو اِس فیصلے کو اُن کے صرف وہی وزیر یا مشیر ہی سراہنے کا حوصلہ کرسکتے ہیں جنہیں یہ خدشہ رہتا ہے کسی بھی وقت اُن کی وزارت یا مشیری اُن سے چِِھن سکتی ہے، .... میں حیران ہوں سینیٹ کی ایک نشست پر شکست نے اُنہیں اتنا خوفزدہ کیوں کردیا کہ فوری طورپر کوئی آئینی تقاضا یا مطالبہ نہ ہونے کے باوجود اعتماد کا ووٹ لینے کی اشد ضرورت اُنہیں محسوس ہونے لگی؟، فرض کرلیں یہ عمل اُن کے نزدیک گر انتہائی ضروری تھا اِس ضمن میں اپنی جماعت کے کچھ مخلص اور عقل مند لوگوں سے وہ کئی بار مشاورت کرتے، اُس کے بعد اگر وہ کوئی فیصلہ کرتے تو جگ ہنسائی سے شاید بچ جاتے، حفیظ شیخ کی شکست کو کچھ زیادہ ہی دل پر اُنہوں نے لگالیا، حفیظ شیخ ہی تھے کوئی مراد سعید یا پارٹی کا کوئی اور مخلص رہنما تو نہیں تھا جس کی شکست پر وہ اتنا رنجیدہ ہوتے اور اِس کے نتیجے میں بوکھلاہٹ کے اِس مقام پر پہنچ جاتے کہ بغیر سوچے سمجھے فوری طورپر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیتے، اُنہیں اگر واقعی اِس ملک اور اِس کے کروڑوں بے بس عوام سے محبت ہے جوکہ یقیناً ہے پھر حفیظ شیخ جیسی متنازعہ امپورٹیڈاور نامعلوم اہلیت کے مالک شخصیت کی شکست پر چاہے خفیہ طورپر سہی اُنہیں خوشی ہونی چاہیے، بطور تقریباً ہرکسی کی حکومت کے وزیرخزانہ یا مشیر خزانہ پاکستان کے عوام کو آج تک کوئی ایسا ریلیف وہ نہیں دے سکے کہ عوام کا کوئی سچا نمائندہ سینیٹ کے انتخاب میں اُنہیں ووٹ دیتا، ا’نہیں جتنے ووٹ ملے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طورپر ملے اور مجبوراً دیئے گئے، پی ٹی آئی کے بے شمار کارکن بے شمار رہنما بے شمار ارکان پارلیمنٹ ایسے ہیں جنہیں یوسف رضا گیلانی کی جیت کی اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی حفیظ شیخ کی ہار کی ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے اللہ جانے کیوں اِس شکست کو اپنی ذاتی شکست تصور کرلیا ، فوری طورپر اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے اجلاس بُلانے کی ضرورت محسوس کرنے لگے.... اب اس اجلاس پر بھی کئی اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں، اِس کی آئینی حیثیت زیربحث ہے، اپوزیشن رہنماﺅں کا مو¿قف یہ ہے جب صدر مملکت خود یہ محسوس کریں وزیراعظم کو قومی اسمبلی کی حمایت حاصل نہیں رہی، ایسی صورت میں وہ وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ایڈوائس کرتے ہوئے اجلاس طلب کرسکتے ہیں، .... میں حیران ہوں صدر مملکت نے ایسے کیوں کیا ؟، کیا وہ خود اِس یقین میں مبتلا ہوگئے تھے وزیراعظم اسمبلی کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں؟، اور اگر اُنہوں نے محض وزیراعظم کی خواہش، حکم یا گزارش پر اجلاس طلب کیا تو اُن کی خدمت میں عاجزانہ گزارش ہے وزیراعظم کی کسی خواہش، حکم یا گزارش پر آنکھیں بند کرکے اُس پر من وعن عمل کرنے کے بجائے آئینی تقاضوں کو ضرور پیش نظر رکھ لیا کریں، اور پھر اُس کے بعد وزیراعظم کو ”گائیڈ“ کرنے کی ہلکی پھلکی جرا¿ت بھی کرلیا کریں، .... یوں محسوس ہوتا ہے جس طرح ہمارے خان صاحب کو ابھی تک یقین نہیں آرہا وہ وزیراعظم بن گئے ہیں اُسی طرح ہمارے علوی صاحب کو بھی اب تک یقین نہیں آرہا وہ صدر بن گئے ہیں، اُن کے کام اُن کی حرکتیں ابھی تک پارٹی کے عام سے اِک رہنما کی ہیں جو اپنے ”قائد“ کے اشاروں کا منتظر رہتا ہے، .... جہاں تک اپوزیشنی اُمیدوار یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ کے الیکشن جیتنے کا تعلق ہے مجھے اِس کی رتی بھر اُمید نہیں تھی، گوکہ پی ٹی آئی کی اے ٹی ایم مشین خراب پڑی تھی اِس کے باوجود میں یہ توقع کررہا تھا کچھ عالمی قوتوں کے دباﺅ کے نتیجے میں حفیظ شیخ آسانی سے جیت جائیں گے، ہمارے ملک میں جس طرح کے کھیل کھیلے جاتے ہیں، خصوصاً سیاست میں جوچالیں چلی جاتی ہیں اُس کے مطابق ڈسکہ کے ضمنی الیکشن ودیگر ایک دو معاملات میں حکمران جماعت کی مسلسل بے عزتیوں اور سُبکیوں کے بعدمیرا خیال تھا کچھ ”بیلنس“ کرنے کے لیے حفیظ شیخ کو آسانی سے جتوادیا جائے گا، پر ایسے نہیں ہوا، ہمارے محترم وزیراعظم خان صاحب سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چلنے کی بات پر اِس طرح افسوس کررہے تھے جیسے وہ یہ سوچ رہے ہوں اِس بار ہمارا پیسہ کیوں نہیں چل سکا؟ یوں محسوس ہوتا ہے پی ڈی ایم کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کے پاس اب صرف برائے نام ہی رہ گئی ہے، اِس کی اصل باگ ڈور زرداری صاحب نے سنبھال لی ہے، اگر یہ واقعی درست ہے تو چیئرمین سینیٹ کا الیکشن جیتنا بھی حکمران جماعت کے لیے اتنا آسان نہ ہوگا، ....بہرحال قومی اسمبلی کے مبینہ طورپر 178ارکان کے ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہماری خواہش ہے محترم وزیراعظم کسی روز براہ راست عوام کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کسی شہر، کسی گاﺅں، کسی گلی کسی محلے کا بغیر کسی سکیورٹی یا پروٹوکول کے دورہ کریں۔ اصل اعتمادکا ووٹ یہ ہوگا !!


ای پیپر