جسم کی بحث
09 مارچ 2020 2020-03-09

حالیہ دنوں میں ایک خاتون نے اپنی حیثیت کا استعارہ استعمال کرتے ہوئے میرا جسم میری مرضی کا بے ہودہ سلوگن پروموٹ کیا۔ بے ہودہ اس لیے کہوں گا کہ کوئی اس نعرے کو وطن عزیز کی خواتین کا نمائندہ نعرہ تسلیم کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی یہ ہماری معاشرت کا عکاس ہے۔ حتیٰ کہ مغرب بھی محض اس بات کا حامی نہیں ہے جبکہ خواتین نے بھی اس نعرے اور حرکت سے نفرت ، بیزاری اور لاتعلقی ہی نہیں، مخالفت کی بات کی مگر دوسری جانب جو شخصیت اس کے جسم کی تضحیک تحقیر کر رہا ہے، گالیاں بک رہا ہے، وہ بھی ہماری معاشرت کے مردوں کا نمائندہ ہرگز نہیں ہے۔ عورت کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس کی بہادری ’’غیرت‘‘ بد زبانی سنبھالے نہیں جا رہی تھی دوسرے منظر نامے میں عامر لیاقت جیسی شخصیت نے اس مرد کو انسانی معاشرے کے قابل ہی نہیں سمجھا بلکہ آئسو لیشن میں رکھنے اور دماغی علاج کرانے کا مطالبہ کیا، انتہائی بد اخلاق، بد زبان اور متکبر قرار دیا اور عامر لیاقت جو کہہ سکتا تھا جی بھر کر کہا، مجھے حیرت ہے کہ یہ ڈرامہ نگار عورت پر جن گندے الفاظ اور تکبر کے ساتھ چڑھائی کر رہا تھا وہی رائٹر عامر لیاقت کے سامنے ایسے چپ تھا کہ کاٹو تو خون نہ نکلے۔جیسے باپ کی ڈانٹ سن رہا ہو۔ مجھے وارث شاہ کا کہا یاد آیا

توں بکلاں ٹوہناں ایں مائیاں دیاں

تینوں باپو اجے کوئی ٹکریا نئیں

لہٰذا یہ دو رویے ایک ہی شخص کے مرد اور عورت کے ساتھ آپ موازنہ کر لیں انتہائی مختلف تھے۔ مگر ہمارے ہاں المیہ یہ ہو گیا کہ دو ابنارمل شخص خاتون اور مرد جو دونوں ہی رائندۂ درگاہ معاشرت ہیں۔ ہمارے اخبارات،سوشل میڈیا اور کمرشل میڈیا پر توجہ حاصل کر گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ ڈرامہ نگا رنے عورت کی بے عزتی کر کے اس کے نعرے کو عام کیا جس کی مخالفت لوگوں نے عورت کے نعرے کا دفاع سمجھا۔ میں ان دونوں کو فکری دہشت گرد سمجھتا ہوں جن کے ساتھ وہ سلوک ہونا چاہیے تھا جو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسنڈرا نے 50 نمازیوں کے شہید کرنے والے کے ساتھ کیا تھا۔ ان کا پالیسی بیان تھا کہ وہ بے نام مرے اس کا کبھی نام نہیں لوں گی۔

ایسا ہی سلوک ان دونوں مرد وزن کے ساتھ ہونا چاہیے تھا کہ سوسائٹی میں کوئی ان کی بے ہودگی کو زیر بحث ہی نہ لاتا۔یار لوگوں نے بہت مہارت کے ساتھ اس واہیات بیان کو عورت مارچ کے ساتھ عورتوں کے عالمی دن کے ساتھ جوڑ دیا اور معاشرے میں عورتوں کے لیے بھرپور مثبت کردار ادا کرنے والی خواتین کے کردار کے ساتھ جوڑ دیا۔ دوسری جانب ایک فاتر العقل رویے کے متکبر آدمی کی بیان بازی اور بد زبانی کو وطن عزیز کے مرد حضرات کی سوچ کا عکاس ثابت کرنے کی کوشش کی جبکہ دونوں ہی اس قابل نہیں ہیں کہ وطن عزیز کی معاشرت کے کسی طبقے کے نمائندہ سمجھے جائیں۔ جو خاتون فرماتی ہے کہ ’میرا جسم میری مرضی‘ انہیں کم از کم اگلے کی مرضی بھی پوچھ لینی چاہیے۔ جسم تو ایسی بے بسی کا نام ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے یوں ڈھل جاتا ہے کہ دیکھنے والے اس کے گھر کا پتہ اسی سے پوچھ لیتے ہیں اس خاتون اور متکبر بدزبان مرد نے شاید کبھی کسی ہسپتال کا دورہ نہیں کیا، جسموں کو کراہتے ہوئے، دم توڑتے ہوئے نہیں دیکھا، وینٹی لیٹر پر پڑے مریضوں کو نہیں دیکھا، ان کے لواحقین کی سسکیاں نہیں دیکھیں، شاید یہ کبھی کسی کے جنازے پہ نہیں گئے۔ شاید تاریخ نہیں پڑھی کہ اس میں وہ بدن اور جسم بھی ملتے ہیں جو ایسی تلواریں جو آج کے نوجوانوں سے اٹھائی نہ

جائیں جب جنگ میں چلاتے تھے تو تلواریں تیز رفتاری کی وجہ سے نظر نہیں آتی تھیں، یہ تاریخ کی بات ہے۔ بھولو برادران، گوجرنوالہ کے پہلوان کیا ماجرا ہوا؟ شاید یہ دونوں کبھی میانی صاحب نہیں گئے۔ جسم جو اپنے اختیار میں نہ ہو اس پر مرضی کی بات اور دوسری جانب کہ جا، جا کر اپنا جسم دیکھ تیرے جسم میں ہے کیا؟ تیرے جسم پر تھوکتا کوئی نہیں ہے۔استغفر اللہ ایسی واہیات گفتگو شاید اُس بازار کے لوگ بھی نہ کریں، انہیں بھی گھن آئے۔ یہ باقاعدہ سارے معاشرے کے خلاف سازش اور ایک تحریک ہے جسم کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ۔ کردار، روح اور فکر کی بات ہے جس کردار کے ساتھ انسان زندگی گزارتا ہے، جسم میں روح جس پاکیزگی یا نجاست کا اظہار کرتی ہے اور فکر جس کے تحت انسان زندگی گزارتا ہے وہ باقی رہتی ہے۔ حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں لذتوں کے گزر جانے اور پاداشوں کے باقی رہنے کو یاد رکھو۔ میانی صاحب میں مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت طاہر بندگیؒ، مولانا محمد موسیٰ روحانی بازیؒ، واصف علی واصفؒ، حضرت غازی علم دین شہیدؒ کی قبریں لوگ آپ کو دور سے بتا دیں گے وہ کوئی جسم کی وجہ سے نہیں تھے وہ کردار تھا جس کی وجہ سے ان کی قبریں بھی زندہ و درخشندہ ہیں ۔ حضرت رابعہ بصریؒ، داتا علی ہجویریؒ ، حضرت میاں میر صاحبؒ ، نظام الدین اولیاؒ، بابا بلھے شاہؒ ، میاں محمد بخشؒ، شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ، ڈاکٹر علامہ

اقبالؒ، مرزا اسد اللہ غالبؒ صدیاں بیتیں دنیا سے چلے گئے مگر کردار کی بدولت ان کا سفر جاری ہے کیونکہ ایک فکر کے تحت زندگی گزاری۔ بعض زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ ہیں اور کچھ دنیائے فانی سے چلے گئے مگر اپنے افکار، کام، کردار کی وجہ سے آج بھی لوگوں کے دلوں افکار اور نصب العین میں زندہ ہیں۔

محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ بینظیر بھٹو، مدر ٹریسا، گلاب دیوی، گنگا رام، عبدالستار ایدھی۔ کیا آج یہ جسم کی بنا پر تاریخ اور لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ نہیں اپنی جدوجہد اور معاشرے میں مثبت کردار کی بدولت… کیا ایڈیسن ، مارک زکرب،مارکونی، میو برادران ، رابرٹ ای کہن، ونٹ کرف ، میڈیسن کی دنیا کے الیگزینڈر فلیمنگ، سرجری کے بانی 6 سو قبل مسیح ، لسٹ بہت لمبی ہے مختصر یہ کہ طب، سرجری، الیکٹرسٹی ، مواصلات، ایجادات، عمرانی علوم اور فکری اعتبار سے انسانیت کی خدمت کرنے والوں نے کائنات میں جو کنٹری بیوٹ کیا، ان کے جسم سے کوئی واقف نہیں ہے لیکن اللہ کی کائنات کو انہوں نے آگے بڑھایا۔ ان کے نام کام کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں۔ ایجادات کی دنیا، روحانیت کی دنیا، اللہ کا پیغام دینے والے، اولیا اللہ ، انسانی خدمت میں گرانقدر خدمات انجام دینے والے ہی آج زندہ ہی ہیں۔ یہ میرا جسم میری مرضی صرف ہائی بلڈ پریشر، ایک ہارٹ اٹیک ، ایک برین ہیمرج کی مار ہے۔ دوسری طرف تیرا جسم ہے کیا صرف ایک زناٹے دار تھپڑ کی مار ہے۔ بھلے مانسو! کہاں پھر رہے ہو۔ کن باتوں اور کن چیزوں پر اترا رہے ہو۔ ایک چکر میو ہسپتال کا ، ایک میانی صاحب کا لگا آئیں جسم کی بحث ختم ہو جائے گی۔ دراصل جب یہ ابدی نیند سوئیں گے تو جاگ جائیں گے۔ جسم جنسی نہیں فکری اور روحانی مرضی کے تابع ہوں تو خالق اور فطرت اور معاشرت کے مطابق ہوں تو صحت مند معاشرت کی بنیاد رکھتے ہیں خدارا! میری تمام سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا کہ دوستوں سے التماس ہے کہ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کا ذکر گھر، محفل حتیٰ کہ بازاروں میں بھی کیاجائے۔ جسم تو ایک کرونا وائرس اور ڈینگی مچھر سے چھپتے دیکھے ہیں۔ 45 سیکنڈ کے زلزلے چند لمحوں کے سیلاب میں ماضی کا قصہ بنتے دیکھے ہیں کردار لافانی ہے۔ اگر وہ ہے تو جسم کا تذکرہ باقی رہے گا ،ورنہ یہ جسم جو ادویات کے بغیر چل نہیں سکتا جسم فانی ہے۔ کردار لافانی ہے جو ایسا ہو کہ جسم کے مٹ جانے کے بعد جو تذکرہ ہے وہی جسم کی خوبصورتی اور بدصورتی ہے۔


ای پیپر