میری پہچان
09 مارچ 2020 2020-03-09

مجھے یاد ہے کہ جب میں 2012میں صحافت کی طلبہ تھی تو میرے ادارے کی ان چند طالبات میں میرا بھی شمار ہوتا تھا جو برقعہ،حجاب یا ڈوپٹہ کولازم و ملزوم سمجھتی تھیں اور ہمیں کچھ ان الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتاکہ : "تم حلیہ بدل لو یا ڈگری"۔

آپ کو اس حلیہ کے ساتھ کوئی بھی قبول نہیں کرے گا اور اس وقت میرے پاس ان کے ہر سوال کا جواب عاصمہ شیرازی صا حبہ کا نام ہوتا مگر آج میرے پاس اور بھی بہت سے نام اور شخصیات ہیں جنہوں نے نہ صرف دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کیا بلکہ زمانہ نئے صبح وشام پیدا کر کے اقبال کے ان اشعارکو عملی جامہ پہنایامیں ااپنی اس تحریر میں تین شخصیات کا مختصر مگر جامع ذکر کرتے ہوے خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گی جنہوں نے اپنی کامیاب زندگی میں یہ ثابت کر دیا کہ پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزاد ی مسلم خواتین کا حق ہے۔ Sule Yuksel Senler پہلی ترکی حجابی صحافی جنہوں نے مذہبی آزادی کی خاطر قید و بند بھی برداشت کی۔ آپ1938میں ترکی میں پیدا ہوئیں استنبول کے ایک سیکولر خاندان میں آپ نے پرورش پائی اور ۲۰ سال کی عمر میں شعبہ صحافت سے منسلک ہوئیں اور (Kadin) اخبار میں آرٹیکل لکھنا شروع کئیے۔اس وقت تک آپ میں مذہبی رجحان نہیں تھا یہ تبدیلی 27سال کی عمر میں رونما ہوئی آپ نے نمازیں ادا کر نا شروع کیئں اور حجاب کو ذندگی کا حصہ بنا لیاساتھ ہی ساتھ آپ نے اس دور کی سیکولر خواتین کو پردہ کی طرف مائل کرنے کے لیئے بے شمار آرٹیکل لکھنا شروع کر دئیے۔آپ کی بہت سی پرستار خواتین نے حجاب اوڑھنا شروع کر دیا۔1967میں " ترکی یونین وومینزفیلڈ" نے ان پرایک آرٹیکل لکھنے کی پاداش میں مقدمہ کر دیا جس میں آپ نے لکھا تھاکہ:" ہر مسلم خاتون کو حجاب لازم ہے۔ "آپ کے پیروکاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے حجابی خواتین کی تعداد میں بھی ا ضافہ کیا تو اس وقت کے حاکم Cevdet Sunay نے 1971 میں Ankaraمیں ہونے والی پریس کانفرنس میں کہاکہ : " اس کو سزا ملنی چاہئیے جو گلیوں میں بڑھتی ہوئی حجابی خواتین کی زمہ دار ہے "۔ اس کے جواب مین آپ نے Cevdet Sunay کوایک خط لکھا جس میں اس نے Cevdetکو اللہ اورعوام سے معافی مانگنے کو کہا جس پر آپ کی گرفتاری کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ شدید علالت کے باوجود آپ نے ۹ ماہ قید مکمل کی۔مگر یہ قید و بند آپ کے قلم کو مسلم خواتین اور حجاب کے تقدس پر لکھنے سے روک نہ سکی۔آپ کے شہر آفاق ناول Huzuz Sokgi (Peace Streat) پر نا صرف فلم بنائی گئی بلکہ2012میں ٹی وی ڈرامہ کی صورت بھی دی گئی جس کا موضوع بھی اسلام اور حجاب ہی تھا۔آپ ان خواتین کی آواز بن کر ابھریں جو میری طرح پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزادی چاہتی ہیں۔آپ81سال کی عمر میں 28اگست2019میں جہان فانی سے کوچ فرماگئیں۔

دوسری جانب جرمنی سے تعلق رکھنے والی زئینا نصارجو کہ دنیا کی پہلی حجابی باکسرچیمپئن ہیں جس نے رنگ میں اترنے سے پہلے اپنی مذہبی آزادی کی جنگ جیتی اور اپنی اس جدوجہد کے دوران وہ کئی سال ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلنے سے محروم رہیں مگر اپنی مذہبی آزادی کی جدو جہد جاری رکھی اور کم لباس میں کھیلنے کا سمجھوتا نا کیا۔ جب انہوں نے 2013 میں پہلی مرتبہ حجاب میں رہ کر بین الاقوامی مقابلوں میں شمولیت چاہی تو ان کو باکسنگ کے ملبوساتی قوانین کی وجہ سے اجازت نا مل سکی۔چناچہ انہوں نے سب سے پہلے اپنی خاتوں باکسنگ کوچ کے سامنے اپنا مطالبہ رکھا اور ان قوانین کو بدلنے کی اپیل کی۔ کئی کاوشوں کے بعد جرمنی میں ان کو حجاب اور مکمل لباس میں باکسنگ کی اجازت مل گئی اور زئینانصار نے German women's Elite چئمپئن شپ میں نمایاں کامیابی حاصل کی.زئینا نصارکی کئی اپیلوں اور درخواستوں اور مشاورتوں کے بعدجلد ہی ان کو اولمپک میں بھی کھیلنے کا موقع مل گیا جب باکسنگ ایسوسی ایشن نے بھی اس ضمن میں اپنے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے مسلم خواتین کو مکمل لباس اور حجاب میں باکسنگ کی اجازت دے دی۔

امریکہ میں "حلیمہ ایڈن "دنیا کی پہلی حجابی سپر ماڈل بن کر2016میں شوبز کے افق پر نمودار ہوئیں سانولی رنگت والی حلیمہ کاتعلق کینیا سے ہے جو سومالی مہاجر اور امریکی رہائشی ہیں۔آپ عوام الناس کی توجہ کا مرکز تب بنیں جب آپ نے حجاب میں رہتے ہوئے مس یو ایس اے (Minnesola)کے مقابلے میں سیمی فائینل تک کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد آپکو IMG Modelایجنسی نے سوپر ماڈل سائین کر لیا۔آج آپ نے حجابی خواتین کی علمبرداربن کر اس بنیاد پرستی کی دھجییاں اڑا دیں کہ:" حلیہ بدل لو یا پیشہ بدل لو"۔

وومین ڈے میں ہر سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر طرح کی آزادی کی تحریک چلائی جاتی ہے مگر کوئی بھی پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزادی مسلم خواتین کا حق ہے پر بات نہیں کرتا۔آج جہاں بہت سے نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے حجاب پر پابندی ہے وہیں ہمارے پورے میڈیا میں کوئی ایسی اداکارہ نہیں جو حجاب میں رہ کر کام کر سکے۔ایک جانب پوری دنیا میں اس بات کا ڈنکا بجایا جاتا ہے کہ لباس اور مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے دوسری جانب پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان مسلم خواتیں کو بہت سے شعبہ ہائے زندگی میں قبول نہین کیا جاتا جو حجاب میں رہنا چاہتی ہیں۔مجھے معاشرے کا یہ دوہرہ معیار نا تو سمجھ میں آتا ہے نا ہی کسی صورت ہضم ہوتا ہے۔ ہمارے سب اداروں کو اس ضمن میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے کہ مذہبی آذادی بھی شخصی آزادی کا اہم جز ہے جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔حجاب ہرعورت کا زاتی معاملہ ہے نہ کہ اس کی صلاحیتوں کو تولنے کاکوئی آلہ کار۔اگر عورت حجاب میں رہ کر پاک فوج کا جز بن سکتی ہے توملک کے دیگر اداروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے۔


ای پیپر