سب سے پہلے پاکستان
09 مارچ 2020 2020-03-09

پاکستان ہماری جان اورہماری پہچان ہے اس پرایک کیا۔۔؟لاکھوں ،کروڑوں اوراربوں جانیں بھی قربان ہے۔جولوگ اس ملک ،مٹی اوریہاں کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں وہ ہم سب کے دشمن اورکھلے دشمن ہیں۔ہمیں اس ملک اوروطن کی خاطر اپنے سروں کاجھکناتومنظورہے مگراس ملک کے خلاف غیروں کے اشاروں پرناچنے والاکوئی منظور ہمیں ہرگز منظور نہیں۔ہماری گردنیں بے شک کٹیں۔سرہمارے لاکھ بارجھکے ۔یہ سب ہمیں قبول ہے مگرسبزہلالی پرچم ذرہ بھی نیچے ہویہ ہمیں کسی بھی صورت قبول یامقبول نہیں۔جولوگ سبزہلالی پرچم کی بے حرمتی اورتوہین کرتے ہیں یااس طرح کاسوچتے ہیں وہ دشمن کے آلہ کار،اغیارکے یاراوردشمن کے سہولت کارتوہوسکتے ہیں مگرہمارے دلدارنہیں ۔اس ملک کے قیام کے لئے حضرت قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی قیادت میںجس طرح ہزاروں اورلاکھوں غیرت مند اور بہادر جوانوں، بوڑھوں، مردوخواتین نے تن ،من اودھن کی قربانیاں دیں اسی طرح ہزاروں اورلاکھوں افراداس سبزہلالی پرچم کی بلندی اورسربلندی پربھی قربان ہوئے۔ہمارے کچھ اپنے جوآج دشمن کے آلہ کار،اغیارکے یاراورکرائے کے ٹٹوبن کرریاست کے خلاف مہم چلارہے ہیں وہ شائدیہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ ملک کہیں ان کووراثت یاجہیزمیں ملاہے مگرایسانہیں۔ان کے وارثین کے توہمارے بڑوں نے چودہ طبق روشن کرکے ہی یہ ملک ایسے اغیاروں اوران کے یاروں سے آزادکرایاتھا۔یہ ملک اس طرح آسانی کے ساتھ ہمیں نہیں ملا۔اس ملک کے قیام کے لئے ہمارے آبائواجدادکوآگ اورخون کے دریا عبور کرنے پڑے۔نہ جانے اس ملک کی خاطرکتنے جوانوں کی گردنیں کٹیں۔۔کتنے بوڑھے آگ وخون کی نذر ہوئے۔۔ کتنے بچے یتیم اورکتنی بہنیں بیوہ ہوئیں۔۔ معلوم نہیں اس وطن کے لئے کتنی مائوں سے ان کی مامتا چھینی گئی۔۔قیام پاکستان کی پوری تحریک لازوال قربانیوں اوربے مثال جدوجہدسے عبارت ہے۔ چند ٹکوں پربکنے والوں کو کیا پتہ ۔۔؟کہ گلشن کو کالے ہندوئوں اور سفیدانگریزوں سے کس طرح آزاد کیا جاتا ہے۔۔؟دوسروں کے اشاروں پر ناچنے والے یہ دلال اگر تحریک پاکستان وقیام پاکستان کی تاریخ پڑھتے یایہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے کسی بزرگ

اورمجاہدکے ساتھ ایک دومنٹ بھی گزارلیتے توان کوپاکستان کی اہمیت اورحیثیت کااندازہ ہوتا۔ ہمیں اس ملک کو آزاد کرانے والوں پر بھی فخر تھا اور آج جان پرکھیل کراس کی حفاظت کرنے والوں پربھی ہمیں ناز ہے۔ ہم پٹھان، سندھی، بلوچی اورپنجابی ضرورہیں لیکن پہلے ہم سب پاکستانی اورپکے ٹکے پاکستانی ہے۔ہماری شناخت نہ پٹھان کے نام سے ہے اورنہ ہی پنجابی، سندھی اوربلوچی قوم سے۔ ہم سارے دنیامیں پاکستان کے نام سے جانے اورپہچانے جاتے ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ پہلے پٹھان،پنجابی یاسندھی اوربلوچی ہے پھرپاکستانی توحقیقت میںایسے لوگوں کااس ملک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔بٹگرام کے نواحی اورہمارے آبائی علاقے ڈھیری ،جوزسے تعلق رکھنے والے سیدقلندرشاہ جسے چھوٹے بڑے پیارسے باجی کہہ کرپکارتے تھے۔وہ ہمارے ان بزرگوں میں شامل تھے جنہوں نے قیام پاکستان اورتحریک پاکستان کامنظراپنی آنکھوں سے دیکھاتھا۔چندسال پہلے وہ ہم سے جداہوئے ۔اللہ کریم ان کی قبرپرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔آمین۔وہ جب بھی ملتے قیام پاکستان اورتحریک پاکستان کے کچھ واقعات ضرورسناتے۔ایک بارہم مسجدمیں نمازپڑھ کرباہرنکلے تومسجدکے برآمدے میں وہ تسبیح ہاتھ میں لئے بیٹھے تھے ہم بھی ادب واحترام کے ساتھ قریب بیٹھ گئے۔اس دن ہماری بھی خواہش تھی کہ قیام پاکستان کے بارے میں باجی سے کچھ سن کرجائیں۔ہم نے پوچھا باجی یہ پاکستان واقعی بنایاگیاتھایایہ آپ جیسے ہمارے بزرگوں کو بنا بنایا ملا تھا۔۔؟بیٹایہ کوئی بریانی نہیں تھی کہ غیروں نے پلیٹ میں ڈال کرہمیں دی ۔یہ کہتے ہوئے باجی کی آنکھوں میں آنسوآگئے۔آپ جیسے بچے تویہ سمجھ رہے ہیں کہ کالے ہندوئوں اور سفید انگریزوں نے کہیں یہ ملک ہمارے بزرگوں کواس طرح تحفے میں دے دیاہے مگرحقیقت اس جدابہت جداہے۔اس ملک کوبنانے کے لئے حضرت قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی قیادت میں ہزاروں اورلاکھوں مسلمانوں نے آگ اورخون کے دریاعبورکئے۔اسی ملک کی وجہ سے ہزاروں اورلاکھوں مائوں کے سامنے ان کے دودھ پیتے بچوں کوآگ میں جلایااورخون میں نہلایا گیا۔خون میں لت پت ہماری مائیں ،بہنیں،بیٹیاں اوربھائی مرغیوں کی طرح خون میں تڑپ تڑپ کرجس طرح پاکستان پاکستان کے نعرے لگارہے تھے وہ مناظرمیں آج تک نہیں بھولا۔اس پاکستان جس میں آج تم آزادی سے سانس لے رہے ہواس کی خاطر ہزاروں مائوں کودودھ پیتے بچوں،بہنوں کو بھائیوں، بیویوں کوشوہروں اورباپ کواپنے جوان بچوں سے ہاتھ دھوناپڑا۔ پاکستان پاکستان کے نعرے لگانے والوں کے کان بھی کاٹے گئے۔آنکھیں بھی نوچی گئیں۔ زبانوں پربھی چھریاں چلائی گئیں۔جسم پرکدال اور بیلچوںکے واربھی بے شمارہوئے لیکن اس کے باوجودہم پاکستان کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹے۔اس وطن کی خاطرہم نے گھرباراورمال ومتاع تک ہرشئے چھوڑی مگرنہیں چھوڑاتواس پاکستان کونہیں چھوڑا۔جس پاکستان کوسیدقلندرشاہ باجی جیسے ہمارے بزرگوں نے آگ اورخون کے دریامیں کودکربھی نہیں چھوڑا۔آج اس پاکستان کوہم امریکہ ،اسرائیل اورانڈیاکے کرائے داراوروظیفہ خورکتوں کے آسرے پرکیسے چھوڑ دیں۔۔؟ اس ملک کوغیروں کی شرانگیزیوں اور سازشوں سے آج تک اللہ نے بچایاپھرپاک فوج،آئی ایس آئی اوردیگرسیکورٹی اداروں کے بہادرجوانوں نے بچایا۔ہم اپنے خلاف ہربات برداشت کرسکتے ہیں لیکن واللہ اس ملک اورقوم کی حفاظت کے لئے تاریک ،گرم اورسردراتوں میں سیاچن، ایل اوسی، وزیرستان اوردیگراگلے محاذوں پرپہرہ دینے والے گمنام قومی محافظوں کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرسکتے ۔جان ہتھیلی پررکھ کراگلے مورچوں پرپہرہ دینے والے یہ گمنام مجاہداورہمارے اصل محافظ اگرنہ ہوتے تومعلوم نہیں ہمارے یہ حکمران،سیاستدان اور اغیارکے یہ یار کب کے یہ ملک غیروں پربیچے ہوتے۔ پھرہمارے یہ محافظ جن کی بہادری،جرات اورشجاعت پرپوری دنیا نازاں ہے۔ کرائے کے یہ ٹٹو لوگ پاک فوج کے خلاف چاہے جتنے بھی پروپیگنڈے کریں۔ اس سے ہمارے ان محافظوں کوکوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں ملک کی بقاء،سلامتی اور حفاظت کے لئے جان قربان کرنے کوفرض اور سعادت سمجھنے والے پاک فوج کے جوانوں پرکل بھی فخر تھا اور ہمیں ان پرآج بھی ناز ہے۔ہم خودپرشک کرسکتے ہیں لیکن اپنے ان محافظوں کے بارے میں شک یاکسی شبے کاہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس ملک کی بنیادوں میں ہمارے بزرگوں، ہماری مائوں،بہنوں ،بیٹیوں اور بھائیوں کاوہ مقدس خون شامل ہے جس کی خوشبوسے آج بھی یہ پورا ملک معطرہے۔اس لئے ہمارے لئے سب سے پہلے پاکستان تھا۔ہے اورانشاء اللہ مرتے دم تک رہے گا۔ہم دنیاتوچھوڑسکتے ہیں مگرپاکستان سے محبت کبھی نہیں چھوڑسکتے۔


ای پیپر