آزادی عورت کا بنیادی حق ہے مگر؟
09 مارچ 2020 2020-03-09

پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع ’’ عورت مارچ‘‘ہے جو آٹھ مارچ کو پورے پاکستان میں خواتین کے عالمی دن پر پورے ملک میں یہ مارچ کیا گیا۔ناقدین کا خیال ہے کہ یہ مارچ کرنے والی محض وہ پانچ یا دس فیصد خواتین ہیں جو مادر پدر آزاد معاشرہ چاہتی ہیں اور جب ان کو اس مشرقی معاشرے میں وہ آزادی نہیں مل رہی تو یہ مردوں کا گالیاں،معاشرے کو گھٹیا اور گھٹن زدہ کہنے پر اتر آئیں ہیں اور اس کا ایک معمولی سا مظاہرہ ہم نے کچھ روز قبل ایک ٹاک شو میں دیکھ بھی لیا۔یہ بات واقعی سنجیدگی سے سوچنے کے قابل ہے کہ کیا پاکستان واقعی ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں خواتین کو بنیادی حقوق نہیں دیے جا رہے۔کیا واقعی ہم ایک ایسی قوم بن چکی ہیں جو عورت کو حقوق دینے کے خلاف ہے اور اگر تو ایسا ہے تو عورت مارچ بنتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ جو پلے کارڈز اور بینرز عورت مارچ کے لیے بنائے گئے وہ کوئی بھی سنجیدہ معاشرہ برداشت نہیں کرتا۔یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام سے قبل عورت کے پاس نہ تو حقوق تھے اور نہ ہی عورت کو زندہ رہنے کا حق دیا جاتا تھا مگر نبی کریمؐ کی بعثت سے عورت کو سر اٹھا کر جینے کا حق ملا اور یہاں تک کہ عورت کو حق مہر بھی ملنے لگا اور وراثت میں حصہ بھی۔آج اکیسویں صدی کی پاکستان عورت جس برابری کی بات کرتی ہے وہ برابری کون سی ہے اور کس طرح کی ہے‘ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ جہاں تک تعلیم اور نوکری سمیت دیگر معاملات میں برابری کی بات ہے تو اس بات سے بھی ہمارا سیکولر طبقہ انکار نہیں کر سکتا کہ عورت کو اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ آزادی حاصل ہے ۔آج سے کچھ ہی عرصہ پیچھے چلے جائیں تو پاکستان میں خواتین کی خواندگی اور نوکری کی شرح کیا تھی‘دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت کس مقام پر کھڑا ہے۔

وہ مخصوص سیکولر اور لبرل طبقہ جو آج عورت کی آزادی کی بات کر رہا ہے اور انقلاب کا نعرہ لے کر معاشرے کی گھٹن کم کرنا چاہتا ہے،ان کے پاس ملکی ترقی کے لیے صرف دو ہی باتیں ہوتی ہیں ایک لبرل ازم اوردوسری فیمنزم،اس کے علاوہ کوئی نیا موضوع نہیں۔انہیں لگتا ہے کہ پاکستان میں عورت کو آزاد کر دو‘ عورت کو اپنی مرضی کا لباس‘اسے اپنی مرضی سے جسم

استعمال کرنے کی اجازت دے دو تو معاشرہ بھی آزاد اور عورت کو حقوق بھی مل گئے ۔اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ یہ پاکستان میں رہ کر مغربی انجوائے منٹ کے خواہاں لوگ اگر عورت کی اتنی ہی آزادی کی بات کرتے ہیں تو انہیں یہ کام اپنے گھر سے شروع کرنا چاہیے اور عورت مارچ میں مع اہل و عیال شریک ہونا چاہیے۔جہاں تک بات کے مشرقی عورت کا مغربی عورت کے ساتھ موازنہ کرنے کی تو یہ بات بھی واضح ہے کہ مشرقی عورت واقعی مغربی عورت والی ’’مادر پدر آزاد‘‘والی آزادی برداشت نہیں کر سکتی۔اب یہاں ایک طبقہ تو وہ ہے جو اسلام کو تنقید کا نشانہ بناتا ہوئے بڑے دبنگ انداز میں کہتا ہے کہ عورت کی آزادی اسلام ہی نہیں دینا چاہتا تو میرا خیال ہے ایسے لوگوں نے واقعی یا تو اسلام نہیں پڑھا یا پھر وہ کسی خاص ایجنڈے کے تحت آزادی کام پرچم بلند کرنے نکلے ہیں اور یہ ایجنڈا شاید ’’ عورت کا جسم اور مرد کی مرضی ‘‘والا ہی ہے۔میں یہاں یہ بات پھر واضح کرتا چلوں کہ ہم کسی بھی ایسے ظلم کے قائل نہیں جس میں عورت کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جائے یا عورت پر ظلم کیا جائے مگر ہم اس چیز کے بھی قائل نہیں کہ عورت کو برہنہ کر کے برانڈز کی کمرشلائزیشن کے لیے مارکیٹ میں بٹھا دیا جائے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ عورت کو پاکستان میں حق نہیں ملے تو وہ پچھلے ستر سال پاکستانی دور کی تاریخ نکال کر خود جائزہ لے سکتا ہے کہ ایک زمانے میں پاکستان میں خواتین کی تعلیمی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور آج کیا شرح ہے۔ایک زمانے میں عورت کی نوکری کتنی معیوب سمجھی جاتی تھی اور آج عورت ملازمت میں پیش پیش ہے۔ جہاں تک سوال ہے عورت کی کم عمر کی شادی کا یاجنسی زیادتیوں کا تو یہ کام ترقی یافتہ ممالک میں ہم سے زیادہ ہو رہے ہیں۔یعنی دنیا کے وہ دس ممالک جہاں پر زناکاری کی شرح سب سے زیادہ ہے ان میں پاکستان کا نام نہیں ہے سو اس سے اندازہ لگائیں کہ صرف پاکستان میں ہی کیوں عورت مارچ کاغلغلہ مچایا جا رہا ہے،کیا یہ سب پری پلان ہے یا کسی بڑے قومی ایشو کو چھپانے کے لیے کیا گیا۔ عورت کو آزادی دو مگر جتنی عورت کو آزادی ہونی چاہے۔ہم کبھی بھی عورت کے حقوق پر نہ تو ڈاکہ مارنے کے حق میں ہیں اور نہ اس کے حقوق چھیننا چاہتے ہیں مگر وہ پچیس تیس عورتیں جو اس ملک میں عورت مارچ کے نام پر’’میرا جسم میری مرضی‘‘کا شور ڈال کر نوجوان نسل کو ٹریپ کرنا چاہتی ہیں تو یہ نہ تو ہونے دیں گے اور نہ ہی ممکن ہے۔

ہمارے انقلابی بھائی اور وہ دانشور جو ہر اس موقع پر اپنے ٹھکانوں سے باہر نکل آتے ہیں، جب انہیں لگتا ہے کہ پاکستان یا اسلام کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا وقت آ گیا ہے تو اسے بھی یہ بات واضح کر دینی چاہیے کہ یہ ملک کسی بھی طرح کی بے حیائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ عورت کو تعلیم دو‘ عورت کو ملازمت کے مواقع دو‘ عورت کو ہر وہ حق دو جس کی حق دار ہے تو اس میں کسی کو کوئی ایشو نہیں کیونکہ آزادی ہر پاکستانی عورت کا حق ہے مگر عورت اگر یہ چاہیے کہ اسے کلب میں جانے دیا جائے‘اسے سرِ عام مرد کو گالیاں دینے کی اجازت دی جائے‘اسے سرِ عام مرد کے خلاف زہر اگلنے کا موقع دیا جائے تو یہ کوئی بھی معاشرہ نہیں چاہتا۔ عورت اگر یہ کہے کہ اسلام نے جو اس کے فرائض مقرر کیے ہیں اس سے بھی کنارہ کر لے تو یہ بالکل ناممکن ہے اور میں اسے عورت کی ہٹ دھرمی ہی کہوں گا۔اس ملک میں عجیب و غریب فضا بنا دی گئی ہے‘ عورت مارچ کے نام پر پوری دنیا میں پاکستان کا جو امیج دکھایا جا رہا ہے وہ کسی باشعور انسان سے مخفی نہیں کہ اس کے پیچھے کیا ایجنڈے ہیں۔آج سوشل میڈیا پو جو انقلابی اور عورت کی آزادی کے دعویدار کھوکھلے نعرے مار رہے ہیں یقین جانیں ان سب کے گھروں کی فہرست نکال کر دیکھ لیں کہ ان کا اپنی عورتوں کے ساتھ کیسا رویہ ہے۔یہ اس ملک کی ہر دوسرے لڑکی کو تو چوک میں برہنہ کرنا چاہتے ہیں مگر گھر میں ہمیشہ برقعہ پوش عورت رکھنے خواہش مند ہیں اور کئی ایسے بونے دانشوروں کی تاریخ تو میں خود بتا سکتا ہوں۔سو یہ بحث بالکل واضح ہے کہ عورت کی آزادی جو مشرقی کلچر نے دی وہ مغرب سے بہت بہتر ہے ۔کیونکہ اب تو مغرب بھی یہ بات سمجھ گیا ہے کہ اسلام نے واقعی جو زندگی کا مینی فیسٹیو دیا وہ ایک مکمل نظام ہے سو اسلامو فوبیا کی بحث اسی لیے تو شروع ہوئی۔باقی جہاں تک سوال ہے لبرل ازم اور فیمنزم کے نام پر فنڈنگ کھانے والوں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کی تو ایسے مٹھی بھر لوگوں کی وجہ سے ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ بے چارے آج تک اپنے گھر کو نہیں بدل سکے پاکستان کو کیا بدلیں گے۔


ای پیپر