خواتین کا عالمی دن
09 مارچ 2020 2020-03-09

8مارچ کو دنیا بھر کی خواتین ریلیویں، جلوسوں اور اجلاسوں کے ذریعے خواتین کا عالمی دن مناتی ہیں۔ پاکستانی خواتین بھی دنیا بھر کی طرح مظاہروں اور مارچ کے ذریعے یہ دن منا رہی ہیں۔ اس دن خواتین اپنی کامیابیوں کا جشن مناتی ہیں۔ وہ خواتین کو درپیش سماجی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی مسائل اور مشکلات کو نمایاں کرتی ہیں۔ وہ اس دن خواتین کے حقوق کی تحریک کی عظیم رہنمائوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ چند نعروں اور پلے کارڈز کو بنیاد بنا کر اس سال کے خواتین کے عالمی دن کی متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مختلف مذہبی گروپوں کی طرف سے کئی شہروں میں خواتین مارچ کو زبردستی روکنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ بعض وکلاء نے ہائیکورٹس کے ذریعے عورت مارچ کو رکوانے کی کوشش کی گئی۔

پاکستان میں خواتین کا عالمی دن کئی دہائیوں سے منایا جا رہا ہے جبکہ دنیا میں خواتین کا پہلا عالمی دن 1911ء میں منایا گیا۔ یہ دراصل محنت کش خواتین کا عالمی دن تھا جس میں خواتین کے برابری کے حقوق ، تنخواہوں میں جنسی تفریق کا خاتمہ اور خواتین کو ووٹ کا حق دینے کے مطالبات نمایاں تھے۔ خواتین کا عالمی دن دراصل امریکہ اور یورپ کی محنت کش خواتین کی سرمایہ دارانہ استحصال ، جبر ، کم تنخواہوں، طویل اوقات کار اور بدترین حالات کار کے خلاف جدوجہد کے نتیجے میں سامنے آیا۔ امریکہ میں گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کو بدترین حالات کا سامنا تھا۔ ان سے بہت زیادہ کام لیا جاتا تھا مگر ان کو بہت کم معاوضہ ملتا تھا۔ فیکٹریوں میں حالات کار بھی بہت خراب تھے۔ ان حالات کو بہتر بنانے تنخواہوں میں اضافے اور اوقات کار میں کمی کیلئے 1908ء میں نیویارک کی گارمنٹس فیکٹری میں کام کرنے والی محنت کش خواتین نے ہڑتال کر دی اور احتجاجی مظاہرے منعقد کئے۔ یہ جدوجہد اور ہڑتال کئی ماہ تک جاری رہی اور آخرکار ان محنت کش خواتین کے مطالبات تسلیم کر لئے گئے۔ اس کامیاب جدوجہد کا جشن منانے کے لئے سوشلسٹ پارٹی امریکہ نے خواتین کا دن منانے کا فیصلہ کیا۔ ہزاروں خواتین نے اس دن مظاہروں اور ریلیوں میں شرکت کی۔ 1910ء میں کوپن ہیگن میں ہونے والی بین الاقوامی سوشلسٹ تنظیم کے اجلاس میں خواتین کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا۔ یہ قرارداد دو جرمن سوشلسٹ خاتون رہنمائوں نے پیش کی جسے 100 سے زائد خواتین مندوبین نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اس فیصلے کی روشنی میں 19مارچ 1911ء میں پہلی مرتبہ خواتین کا عالمی دن منایا گیا ، جس میں 10 لاکھ خواتین نے شرکت کی۔

اقوام متحدہ نے 1975ء میں خواتین کے عالمی دن کو تسلیم کیا۔ اس سے پہلے یہ دن سوشلسٹ ممالک ،تنظیمیں، پارٹیاں، خواتین کی تنظیمیں اور گروپ اور ٹریڈ یونین مناتی تھیں۔ اس دن کے حوالے سے خواتین کو درپیش بنیادی سیاسی ، معاشی، سماجی اور ثقافتی مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

پاکستانی خواتین کو بھی بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں منفی تفریق بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم نے اپنے صنفی امتیاز اور تفریق کے انڈکس میں پاکستان کو 151 نمبر پر رکھا ہے جبکہ پاکستان سے صرف یمن اور عراق پیچھے ہیں۔ خواتین کی صحت ، تعلیم، روزگار ، معاشی مواقعوں اور معاشی و سماجی برابری کے حوالے سے پاکستان بہت پیچھے ہے۔ پاکستان کی محنت کش اور غریب خواتین کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے جن میں غربت ، بیروزگاری، جنسی تفریق، جنسی اور گھریلو تشدد اور تنخواہوں میں فرق وغیرہ نمایاں ہیں۔

خواتین کی معاشی شرکت اور سرگرمی کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 150ہے۔ تعلیمی سہولیات کے حوالے سے 143 ، صحت کے حوالے سے 149 نمبر ہے۔پاکستانی خواتین کی صورتحال کے حوالے سے جنوبی ایشیاء میں سب سے آخری نمبر پر ہے۔ بنگلہ دیش 50 ، نیپال 101، سری لنکا 102، انڈیا 112، مالدیپ 123 اور بھوٹان 131ویں نمبر پر ہے۔

پاکستان میں مرد اور خواتین کی تنخواہوں میں فرق اب بھی 20 سے 35 فیصد کے درمیان ہے۔ مرد کارکنوں کو اسی کام کا معاوضہ عورت کی نسبت 20 سے 35 فیصد زیادہ ملتا ہے۔

عالمی بینک نے 2019ء میں جاری کی گئی رپورٹ میں یہ بتایا ہے کہ اگر پاکستان اپنی خواتین ورک فورس کو موجودہ سطح سے 26 فیصد سے 45 فیصد تک لے جائے اور چند معاشی اصلاحات متعارف کروا دے تو 2047ء تک پاکستان کا شمار کم آمدن والے ممالک سے زیادہ آمدن والے ممالک میں ہونے لگے گا۔ پاکستان کی جی ڈی پی میں 33فیصد اضافہ ہو جائے گا یعنی اس کا حجم 33 فیصد بڑھ جائے گا۔

بدقسمتی سے چند پلے کارڈز اور نعروں کو بنیاد بنا کر خواتین کے حقوق اور صورتحال کی ساری بحث کو غیر اہم معاملات میں الجھا دیا گیا ہے۔

اس وقت اس بات پر بحث نہیں ہو رہی کہ پاکستان میں گزشتہ 5سالوں میں چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتی کے 17ہزار واقعات ہوئے ہیں۔ خواتین کے خلاف جنسی جرائم اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہیں بنیادی ، قانونی اور آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ خواتین کو 21ویں صدی میںبھی قرون وسطیٰ کی جاگیردارانہ اور فرسودہ قبائلی رسم و رواج اور روایات کا سامنا ہے۔ پاکستانی خواتین نے طویل سفر طے کیا ہے مگر اپنے حقوق کے حصول اور تحفظ کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ یہ مردوں اور عورتوں کی لڑائی نہیں ہے۔ یہ دراصل ظالمانہ اور استحصالی نظام کے خلاف خواتین اور مردوں کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ یہ لڑائی صنفی بھی ہے اور طبقاتی بھی، اسے اس نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر