بیماری اور وطن واپسی۔۔۔۔!
09 مارچ 2020 2020-03-09

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ وزارت خارجہ نے میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں نواز شریف اور ان کے سہولت کار (شہباز شریف) کو کہا گیا ہے کہ وہ پردیس سے واپس اپنے دیس میںلوٹ آئیں ۔اس حوالے سے حکومت تمام قانونی تقاضے پورے کر رہی ہے۔ جیسے ہی خط جاری ہوا دوسری جانب سے آہ و بکا اور چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔ شہباز شریف واقعی ہی قانون کی بالا دستی اور حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں تو آٹھ ہفتے کے لیے جس فورم نے انہیں باہر جانے کے لیے کہا تھا تو وہی فورم انھیں واپس آنے کا کہہ رہا ہے تو اس پر عمل در آمد یقینی بنائیں۔ ْمحترمہ فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا کہ میڈیا سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھائو کی طرح نواز شریف کے پلیٹ لٹس میں اُتار چڑھائو کی خبریں سکرینوں پر دکھا رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ باہر گئے ہیں اس کے بعد میڈیا پر ان کی صحت کے متعلق اب تک کوئی خبر نشر نہیں ہوئی ۔

میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت کو لکھے گئے وزارت خارجہ کے خط کا کتنا اثر ہوتا ہے اور اس کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے اس

بارے میں جلد ہی پتا چل جائے گا۔ تاہم اس معاملے میں حکومتی اکابرین نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس کو سامنے رکھ کر یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے کہ وزیر اعظم جناب عمران خان اور ان کی حکومت کے بعض کل پرُزے معاملات کو وسیع تر تناظر اور ملکی اور قومی مفاد میں دیکھنے کی بجائے روایتی ہٹ دھرمی ، ذاتی پسند و نا پسند اور نفرت و انتقام کی نگاہوں سے دیکھنے کے انداز فکر و عمل کو اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ نفرت اور انتقام کے جذبات کا شاخسانہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ کہیں نواز شریف کے لیے مجرم کا سابقہ استعمال ہو رہا ہے تو کہیں چور کے لقب سے ان کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ میاں محمد نواز شریف کو احتساب عدالت کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس میں جو سز ا ملی اُسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کر رکھا ہے۔ جبکہ ایک اور ریفرنس (العزیزیہ اسٹیل ملز) میں ان کی ضمانت کی درخواست کی ہائی کورٹ میں سماعت ہونی تھی کہ انھیں چوہدری شوگر ملز کے معاملات کی تفتیش کے لیے نیب نے اپنے تحویل میں لے لیا۔ نیب کی حراست میں ان کی صحت جو پہلے ہی دگر گوں تھی اس حد تک بگڑ گئی کہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی سربراہی میں قائم سینئر ڈاکٹروں کے بورڈ نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی کہ میاں محمد نواز شریف کو علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی

اجازت دی جانی چاہیے۔ اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت ہوئی اور ہر دو اعلیٰ عدالتوں میں ان کی ضمانت کی درخواستیں منظور ہوئیں اور حکومت نے ای سی ایل (ایگزیٹ کنٹرول لسٹ ) سے ان کا نام نکال کر انھیں علاج کے لیے بیرون ملک (برطانیہ ) جانے کی اجازت دے دی۔ اس سیاق و سباق میں حکومتی آکابرین کی طرف سے انہیں چور اور مجرم قرار دے کر ان کی واپسی کیلئے واویلا کرنا عجیب سی بات ہی نہیں لگتی بلکہ اس سے ایک طرح کی ذاتی دشمنی اور نفرت و انتقام کے جذبات کی عکاسی ہوتی بھی نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم کی معاون ِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی بیان بازی محل نظر ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جنہیں پارلیمنٹ کا منتخب رکن نہ ہونے کے باوجود معاون خصوصی کا منصب شاید اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی خوشنودی (اور شاید اپنی ذاتی پروجیکشن ) کے لیے ہر روز بیان بازی کا مشغلہ اختیار کیے رکھیں انھوں نے کابینہ کے اجلاس سے ایک دو روز قبل سیالکوٹ میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے میاں محمدنواز شریف کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھنے کی بات جس انداز سے کی اس سے خود ان کی اپنی ہی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی سامنے آتی ہے۔ غور کیجئے ، محترمہ نے کیا اندازِ تخاطب اختیار کیا ۔ فرماتی ہیں "نواز شریف کی لندن روانگی فکس میچ تھا ۔ بعض میڈیا ہائوسز کے ساتھ مل کر تاثر دیا گیا کہ اگر اجاز ت نہ دی گئی تو ان کی جان جا سکتی ہے۔ ان کی وطن واپسی کے لیے برطانیہ کو خط لکھیں گے منصوبے کے تمام کردار بے نقاب کریں گے۔ میاں صاحب لندن میں علاج نہیں کروا رہے ، واپسی کا وقت آن پہنچا۔ سیاسی یتیم غلط بیانیہ پیش کر رہے ہیں ۔ پلیٹ لٹس کا واویلا کلچ پلیٹ پر آکر ختم ہوا۔ "

محترمہ فردوس عاشق اعوان کے اس بیان اور انداز تخاطب پر زیادہ حیرانی اور تعجب کی ضرورت نہیں ہو سکتی کہ محترمہ آئے روز اس طرح کی خوش گفتاریاں فرماتی رہتی ہیں۔ تاہم انہیں اپنی ہی پارٹی کی پنجاب حکومت کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی طرف سے اس مسکت جواب کی توقع نہیں ہونی چاہیے تھی ۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کی تمام رپورٹس درست تھیں ، جو ہماری نگرانی میں تیار ہوئیں۔ نواز شریف کے پلیٹ لٹس کم ہو گئے تھے ، چودہ روز میں پلیٹ لٹس کی تعد اد بہتر کی ۔ رپورٹس تیار کرنے والے ڈاکٹرز پر مکمل اعتماد ہے ۔ میں آج بھی نواز شریف کی رپورٹس پر قائم ہوں۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان اور محترمہ یاسمین راشد دونوں ڈاکٹر ہیں وہ بیماری ، میڈیکل رپورٹس اور صحت کے معاملات کو بہتر سمجھتی ہیں ۔ اب اگر ایک محترمہ میاں محمد نواز شریف کی بیماری کو فکس میچ قرار دیتی ہیںاور دوسری محترمہ بیماری کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کی رپورٹس کے درست ہونے کے موقف پر قائم ہیں تو اسے ناطقہ سر بہ گریباں کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔

میاں محمد نواز شریف کی بیماری اور برطانیہ سے وطن واپسی کے حکومتی موقف کے بارے میں مسلم لیگ ن کی قیادت کے موقف کا یہاں حوالہ دینا کچھ ایسا غیر متعلق نہیں ہوگا۔ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے برطانوی حکومت کو خط لکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو خط لکھنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں اور یہ مکمل طور پر غیر اخلاقی و غیرمنطقی اقدام ہے۔ حکومتی جلد بازی مجرمانہ اور ،مذموم ارادوں کو عیاں کرتی ہے۔ عمران خان سیاسی انتقام اور ذاتی دشمنی میں اوچھی حرکتیں کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے علاج میں رُکاوٹ ڈالنے کی کوشش ان کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے بھی حکومتی خط لکھنے کے فیصلے پر تبصرہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت 100خط لکھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔کیا سارے مسائل ختم ہو گئے ہیں کہ حکومت نواز شریف کے پیچھے پڑی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کااس حوالے سے تبصرہ بڑا دلچسپ ہے وہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنی کٹھ پتلی حکومت کو بچانے کے لیے نواز شریف کو خود لندن بھیجا۔ عمران خان نے نواز شریف کو باہر بھیجنے کے لیے خود این آر او دیا اس لیے اب قوم سے جھوٹ نہ بولیں اور نہ ہی رونا روئیں ۔ اگر نواز شریف مجرم تھے تو انھیں جانے کیوں دیا۔

اپوزیشن لیڈروں کے یہ بیانات یقینا اہم ہیں مگر سب سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ حکومتی زعما کے اپنے بیانات میں بھی تضادات موجود ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ برطانوی حکومت ہماری وزارت خارجہ کے بھیجے ہوئے خط پر کس حد تک عمل کرتی ہے ۔ اس سے قبل الطاف حسین کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ حکومت نے ان کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت سے کئی رابطے کیے اور بعض معاملا ت میں ان کے مجرمانہ کردار کے شواہد بھی پیش کیے لیکن برطانوی حکومت نے ان کو برطانیہ بدر کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اسی طرح جناب اسحاق ڈار بھی برطانیہ میں پچھلے چند سالوں سے رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حکومت ان کی بھی وطن واپسی کی بھی خواہش مند ہے لیکن برطانوی حکومت نے کھلے لفظوں میں ان کو برطانیہ بدر کرنے سے انکار کر رکھا ہے ۔میاں محمد نواز شریف کی بیماری اور لندن میں علاج کا معاملہ تو ویسے ہی ہمدردی کا مستحق ہے اس بارے میں برطانوی حکومت سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ انہیں برطانیہ بدر کرنے اور حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرے۔


ای پیپر