مقابلہ
09 مارچ 2020 2020-03-09

چوہدری خاندان کی لاڈلی، امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد حقوق نسواں کی علمبردار کے غیر مہذب نعرہ نے سماجی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، ان کی گفتگو اس مارچ کے تناظر میں تھی جو عورت کے حق نکالا جانا تھا جب موصوفہ مخصوص نعرہ کی گردان ایک ٹی وی شو میں کرنے لگی، معروف ڈرامہ نگار اس لمحہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے ،اس عمل کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی امڈ آیا ہے،اور عورت کے ساتھ تضحیک آمیز وریہ زیر بحث ہے، یوں سماج دو گروہوں میں منقسم ہو گیا ہے۔

یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ موصوفہ کے اہل خانہ نے اس واقعہ کے بعد ان سے کیا سلوک کیا ہو گا کیونکہ انکے شوہر پر کیا گذری ہوگی جو خود بھی ایک نامور صحافی ہیں،وہ اس سرگرمی کو کس نظر سے دیکھیں گے، دونوں کا تعلق معروف خاندان سے ہے، نجانے ان کے بھائیوں کے کیا احساسات ہوں گے اور بچے کیا جذبات رکھتے ہوں گے، چھوٹے بچوں نے اگر ان سے اس مرضی والے نعرہ‘ کے مقاصد پوچھ لیے تو ان کے پاس کیا جواب ہو گا، اپنے عزیزو اقرباء کا وہ کس طرح سامنا کر سکیں گی؟ کہ اگر ان کا وہ معنی نہیں تھا جو بیان کیا جا رہا ہے وہ اس پر اصرار نہ کرتیں، تو یہ ناخوشگوار صورت حال پید ہی نہ ا ہوتی،یہ کیسی صحافی ہیں جو حالات کی نزاکت کو نہ سمجھ سکی، ٹی وی شو کے بعد بھی اگر وہ محسوس کرتی کہ معاملہ بگڑ رہا ہے تو آج کے میڈیا ٹوئٹر کا سہارا لے کراپنے رویہ پر معذرت کر سکتی ،ہمارا گمان ہے کہ شریک گفتگو از خود ان سے معافی کے طلب گار ہوتے،وہ اس نعرہ سے نسل نو کیا خدمت انجام دینے کا عزم رکھتی تھی، اگر یہ کسی کے پے رول پر ہیں توان قوتوں کو عیاں کرنے کی اتنی اخلاقی جرات تو ہونی چاہئے جنہوں نے یہ نام نہاد نعرہ ان کے منہ میں ڈالا ہے اگر صرف خواتین کے حقوق کا معاملہ ہے تو اس کے لئے ’’نازیبا سلوگن‘‘ کو اختیا کرنے کی ضرورت ہی کیوں محسوس کی گئی ان کا خمیر مشرق سے اٹھا تھا، تعلیم یافتہ بھی ہیں اس لئے ، ہمارا وجدان تھا کہ موصوفہ عورتوں کے ان پامال حقوق کا تذکرہ کریں گی جو ملٹی نیشنل کمپنیاں اخباری اشتہارات،بل بورڈ، میڈیا کے ذریعہ خواتین کی نمائش کی بابت جاری رکھے ہوئے ہیں، بحثیت مسلمان انکی عزت اور ناموس کے لئے اپنی ’’برادری ‘‘کے حق میںصدا بلند کرنا بھی تو ان کے فرائض میں شامل ہے، مگر انھوں نے دوسرے راستہ کا انتخاب کیا جسکی جزا نہ تو اس دنیا میں ہے نہ ہی آخرت میں اسکا کوئی حصہ،نجانے انکی کیا مجبوری تھی کہ وہ مغرب کی ہمنوا بن بیٹھی حالانکہ قدرت نے انھیں مشرق کا دیارغیر میں سفیر بننے کا سنہری موقع فراہم کیا تھا قیاس کیا جاتا تھا وہ فطرت کے عطا کردہ حقوق کی بناء پر مغربی سماج میں عورت پے روا رکھی جانے والی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں گی، انکو خاندانی نظام کی فیوض و برکات سے آگاہ کریں گی، اس عمل سے وہ نہ صرف انپی دینا بلکہ آخرت کو بھی سنوار سکیں گی لیکن انھوں نے محض تھوڑے سے مادی مفاد کی خاطر اس ابدی زندگی کو ٹھکرا دیا ہے جو ایک اٹل حقیقت ہے۔

جہاں تک خواتین کے حقوق کا تعلق ہے اس سے کون انکاری ہے پھر ایسا سماج جسکی نصف کے قریب آبادی ہی صنف نازک پر مشتمل ہو وہ بھلا اسکو نظر انداز کر کے ترقی کر سکتا ہے؟مسلم خاتون اس لئے بھی خوش قسمت ہے کہ اس حقوق کسی انسان اور مرد نے متعین نہیں کیے بلکہ اس کے خالق نے وضع کئے ہیں یہ اس عہد سے الہامی کتاب میں رقم

ہیں جب عورت غالمانہ زندگی بسر کرنے پے مجبور تھی جب پیدا ہوتے ہی وہ مٹی کی نذر کر دی جاتی تھی،یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کو تخلیق کر کے شتر بے مہار چھوڑ دیا جاتا اس لئے رب کائنات نے اس کیلئے بھی اخلاقی قاعدے اور قانون بنائے ہیں، ان میں سے بعض پر خود خواتین نے عمل کرنا ہے، کچھ کی ذمہ داری والدین کے ناتواں کندھوں پر ہے، عائلی زندگی کے بعض کو انکے مجازی خدا نے انجام دینا ہے، بقیہ کی ادائیگی ریاست کی ذمہ داری ہے،مقام شکر ہے ان میں تاقیامت کوئی تبدیلی کسی کے اختیار میں نہیں بالخصوص وراثت کے قوانین، البتہ انکی فلاح کی کاوش سماجی اقدار کی روشنی میںکرنے پر کوئی قدغن نہیں ہے ،موصوفہ کا دل اگر بیچاری خواتین کیلئے بے تاب رہتا ہے تو اس کی آسودگی کا سامان انکے ماحول میں میسر ہے جہاں وہ ان دنوں قیام پذیر ہیں، امریکہ جیسی ریاست خوشحال، مہذب معاشرہ میں کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جس روز، بے بس خاتون کسی کی ہوس کا نشانہ نہیں بنتی کیا ہی اچھا ہو کہ موصوفہ انکے تحفظ کیلئے متحرک ہو جائیں۔

ہم آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں ان عورتوں کو مغرب میں غیر معمولی پذیرائی کیوں ملتی ہے جو عرض پاک کو بدنام کرنے کیلئے کسی نا م نہاد جبر کا سہارا لیتی ہیں جو انکے خیال میں عورت کے خلاف روا رکھا جاتا ہے، ہم یہ بات بڑے دعوے اور تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ ہماری خواتین اور طالبات کی غالب تعداد اپنی مرضی سے سر پر دوپٹہ اورڑھنے کی عادی ہیں، باوجود اسکے مغرب کے بعض دلدادہ عناصر عہد جدید کے تمام حربے ان کو راہ راست سے ہٹانے کیلئے آزما رہے ہیں۔

تاریخ کا سبق ہے کہ مدینہ کے بازار میں عہد رسالت میں پہلا مسلمان یہودی کے ہاتھوں شہادت کے رتبہ پر اس لئے فائز ہوا تھا کہا اس نے ایک یہودی کو مسلم خاتون کے ساتھ بدتہذیبی کرنے سے منع کیا تھا، موصوفہ کو بھی آگاہ ہونا چاہئے کہ اس قماش کے لوگ آج بھی سرگرم عمل ہیں نجانے کیوں آپ انکی رفیق کار بن کر انکے ایجنڈا کی تکمیل چاہتی ہیں۔ ایوان بالا میں بھی اس نعرہ کی گونج سنی گئی، معروف سینیٹر نے اس پر اظہار خیال بھی کیا اورخدشہ ظاہر کیا کہ کچھ غیر سرکاری تنظیمیں عالمی استعمار کے ایجنڈا کی تکمیل میں اس فنڈ کا سہارا لیتی ہیں جو انھیں ترقی پذیر ممالک کی تہذیب میں نقب لگانے کیلئے دیا جاتا ہے،موصوفہ بھی اسی راہ پر گامزن ہیں لیکن ہم انکے عزائم پورے نہیں ہونے دیں گے ہمارا سماج اسلامی فکر کا حامل ہے، جس میں اس طرز کے نعرہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ٹاک شو کے طرز عمل پر حامی اور مخالفین کے دو گروہ آمنے سامنے ہیں اس سے یہ اخذ کرنا چندا مشکل نہیں کہ اس بدنام زمانہ نعرہ کو لانچ کرنے والے کسی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں نسل نو کے ذہن پر اس کی دستک کو بھی یہ کامیابی ہی خیال کریں گے انکا طریقہ واردات بھی یہی ہے کہ وہ’’ سلو پازئینگ‘‘ کی تھیوری کواپناتے ہیں ،ردعمل کے بعد اگلا قدم اٹھاتے ہیں، بھلا اس سماج میں کب یہ ممکن تھا کہ والدین کے سامنے کوئی غیر مردکسی عورت کی مورت بنا ڈالے مگر اب سالگرہ، شادی بیاہ، فنکشن کے نام پر سب کی موجودگی میں یہ فرض ادا کیا جاتا ہے سب مل کر ’’کارخیر‘‘ شریک ہوتے ہیں، جو تھا نہ خوب بتدریج خوب والا معاملہ درپیش ہے۔اس لئے اس بے ہودہ نعرہ کوبھی ’’ایزی‘‘ نہ لیں، ٹی وی پیج پر کھیلنے والے موصوفہ کے مد مقابل معروف قلم کار اگر اس قماش کے طبقہ کا مقابلہ کرنے کے آرزو مند ہیں تو انھیں اسلامی تہذیب پے مبنی ڈرامہ نگاری کو فروغ دے کر مغربی کلچر کو بے نقاب کرنا چاہئے،انفارمیشن کے اس زمانہ میںنسل نو کی صحیح خطوط پے راہنمائی کسی فکری، قلمی جہاد سے کم نہی، مقابلی بازی کا یہ ہی احسن طریقہ ہے۔


ای پیپر