کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں۔۔۔
09 مارچ 2019 2019-03-09

خطے میں امریکہ کا تعینات کردہ چوہدری، بھارتی وزیراعظم مودی پاکستان پر جن عزائم سے جھپٹا تھا، اسے لینے کے دینے پڑ گئے۔ بلا جواز ، بلا شواہد، پاکستان میں خیبر پختونخوا کے اندر تک گھس کر بالا کوٹ پر حملہ کر گزرا۔ صرف ہاتھ لگا کر دوڑ جانے کی شرط پوری کر کے جھوٹ کے طومار باندھے۔ اس واقعے اور مابعد پر یہ ضرور ہوا کہ سبھی اپنے پرائے پہچانے گئے۔ پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ مشکل وقت پر کس نے ساتھ دیا؟ سب کھل کر سامنے آگیا ہے۔ جو امریکہ طالبان سے مذاکرات کے لیے آگے پیچھے پھر رہا تھا بھارت نوازی پر اتر آیا۔ آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جو ٹرمپ سے زیادہ منہ پھٹ ہے نے کہا کہ ’بھارت کو اپنے دفاع کا حق ہے‘۔ بھارتی جارحیت کی مذمت امریکہ نے تو کیا کرنی تھی برادر مسلم ممالک بھی منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے رہے۔ 65ء اور 71ء کی جنگوں میں پورا عالم اسلام ہمارا پشت پناہ تھا۔ اب ایٹمی پاکستان کیا خارجہ پالیسی، سفارتی اعتبار سے اتنا کمزور پڑ گیا کہ کڑے وقت میں اظہارِ یک جہتی کسی نے نہ کیا؟ اگر اللہ تعالیٰ کی شانِ کریمی ہماری مدد کو نہ آتی، یہ غیر معمولی فتح ہمیں دو بھارتی جہازوں اور ایک ہیلی کاپٹر گرانے کی صورت نہ ملی ہوتی، تو ہم دنیا میں کھڑے ہونے کے قابل نہ رہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس غیر متوقع ہلے نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر پر ایک لرزا طاری کر دیا ہے۔ بھارت نے منہ کی کھائی۔ اس کی سونڈ کو داغ لگا۔ بالواسطہ امریکہ تک اس جھٹکے کی لہریں گئیں۔ چہار جانب سے ہمیں رُک جانے، صبر ضبط کی تلقین ہونے لگی۔ جو بہت جلد بڑھ کر دباؤ گھیراؤ کی صورت اختیار کر گئی۔ بھارت جہاز گرنے، پائلٹ گرفتار ہونے پر اکڑا رہا۔ مانگا تک نہیں ۔ الٹا میزائل حملے پر کمربستہ ہو گیا۔ یہ سب امریکہ، اسرائیل پشت پناہی کا نتیجہ تھا کہ چوری اور سینہ زوری۔ یہ وقت ہمارے امتحان کا تھا۔ ہماری معاشی مجبوریاں ہمارے لیے بہادری، غیرت نگل کر ابھی نندن کو ابھی ابھی رہا کرنے کا سبب بنیں۔ (جس نوعیت کا جواب ہمارے جہازوں نے دیا تھا) میزائل حملے کی دھمکی بھی ٹھکانے لگ سکتی تھی اگر ہم کشکول بدست نہ ہوتے۔ اسی دوران ہونے والی او آئی سی کانفرنس (وزرائے خارجہ ) کے فورم پر مسلم پاکستان سے بے اعتنائی عجب تھی۔ مایوس کن تھی۔ یوں تو OIC ہمیشہ سے ایسا ہی ریکارڈ رکھتی ہے۔ مسلم مفادات کے تحفظ میں اس کی لاچاری نئی تو نہیں ۔ ہمیشہ ہی پانی سر سے گزر جانے کے بعد یہ خوابِ خرگوش سے کسمسا کر جمائیاں لیتی اٹھا کرتی ہے۔ اب نازک موقع پر بھارتی وزیرِ خارجہ (بھارت نہ مسلمان ہے نہ رکن نہ مبصر) کی بطور مہمان خصوصی شرکت، افتتاحی اجلاس میں، مسلم اخوت کے تابوت کا آخری کیل ثابت ہوئی۔ پاکستان کی درخواست کے باوجود دعوت نامہ واپس نہ لیا گیا۔ نتیجتاً مسلم پاکستان کے وزیر خارجہ نے احتجاجاً شرکت نہ کی۔ ہم نے کہاکہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی۔۔۔ سن کے ستم ظریف نے ہم کو اٹھا دیا کہ یوں!

پاکستان کے آنسو پونچھنے کو ہماری مجوزہ ایک قرار داد کشمیریوں پر مظالم کی مذمت، بھارت کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش ، پاکستان کے حقِ دفاع کی تائید پر مبنی، پاس کروا دی۔ جیسے دیگر روایتی مسلم قضیوں پر (مثلاً فلسطین) تذکرۃً پاس کی ہی جاتی ہیں۔ تاہم اجلاس کے اختتامی دبئی اعلامیے سے یہ تذکرہ غائب ہے جو ہمارے نزدیک حیران کن اور تکلیف دہ ہے۔ اس کے برعکس ابو ظہبی کے وزیرخارجہ کی سشما سوراج سے

گرمجوش گفتگو کی تپش تصویر سے عیاں ہے۔ جسے عبداللہ بن زید النہیان نے (ان کی آمد کو) تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ ایک دن بھارت OIC کا رکن بن جائے۔ تاہم ایک سوال پر انہوں نے کشمیر کو پاکستان بھارت مابین ’بنیادی تنازعہ‘ قرار دیتے ہوئے، جنوبی ایشیا کے امن کے لیے اس کا حل تلاش کرنا ناگزیر قرار دیا۔ جہاز گرائے جانے کے بعد بجائے اس کے کہ ہم مضبوط پوزیشن میں ڈٹ کر کھڑے ہوتے، الٹا ہم دبکے، شرمسار بیٹھے ہیں؟ یوں گویا ہم سے غلطی ہو گئی! بھارت اس صدمے سے نکلنے کے لیے چہار جانب ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ سو ہم پر دباؤ ہے بھارت امریکہ کا۔ برطانیہ فرانس کا دباؤ ہمیں 13 مارچ کی ڈیڈ لائن دے رہا ہے کہ فوری کارروائی کرو (نام نہاد دہشت گرد تنظیموں، مطلوبہ افراد کے خلاف) ورنہ بذریعہ سلامتی کونسل پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی ہے۔ یعنی کشمیر پر مظالم کی بوچھاڑ پیچھے رہ گئی۔ بی جے پی، مودی کی بھارت بھر میں انتہا پسندی کا نشانہ بنتے مسلمان نظر نہ آئے۔ پاکستان کے خلاف جارحیت میں پہل اور لائن آف کنٹرول کی روزانہ خلاف ورزیاں فراموش کر دی گئیں۔ بلا ثبوت بلا شواہد ہم اپنے شہری، پکڑ دھکڑ جکڑ میں لے آئے؟ مودی کھلے بندوں افغانستان سے مدد مانگ رہا ہے۔ پاکستان کے جہاز گرا دو، منہ مانگا انعام دوں گا! ہم پکڑ پکڑ کر اپنے شہری حوالۂ زنداں کر رہے ہیں بہانے بہانے؟ دنیا میں کون سا ملک اپنے عوام کی ایسی تذلیل کرتا ہے؟ ابھی خطرہ جنگ کا ٹلا نہیں ۔ آپ نے دیکھ لیا کہ ’ڈو موریا‘ امریکہ آپ کی مدد کی نہیں آئے گا۔ یہ میزائل حملہ ڈرامہ ہماری گردن دبوچنے کو رچایا گیا ورنہ بھارت کی اوقات ایک ہی ہلے میں سامنے آ چکی! امریکہ کے شکریے ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ فتح کا فارمولا، طاقت کا سرچشمہ آپ کے سامنے دھرا ہے طالبان کے 18 سالوں میں اور حالیہ تجربے میں۔ پوری قوم یک زبان یکایک متحد و متفق ہو کر کھڑی ہو گئی۔ یہ اللہ کا دیا نادر موقع تھا بات سمجھنے اور پالیسیاں درست کر کے امریکہ کے خوف یا دوستی کے واہمے سے نکل آنے کا۔ حقیقت اصلاً یہ ہے کہ : ’اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں اور وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہے‘۔ (اٰل عمران۔160) اس وقت ہر چیز سے بڑھ کر ضرورت ملک میں اتحاد، اتفاق اور یک جہتی کی فضا کی ہے۔ بھارتی خطرہ ٹلا نہیں ۔ مودی غرا رہا ہے ۔ امریکہ بلبلا رہا ہے۔ ان پر یہ خوف طاری ہے کہ 18 سال جس جذبہ جہاد کو کچلنے کے لیے دن رات ایک کیے۔ دہشت گردی کا ڈھول پیٹتے دم نکل گیا۔ وہ بھارت کے ایک حملے نے صفر کر دیے۔ جہادی جذبہ پل بھر میں عود کر آیا۔ بھارت کے لیے سبھی ولولے سے بھر کر سینہ سپر ہونے لگے۔ یقین جانیے دنیا بھر میں (اسلام دشمنوں کی) راتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ اسی لیے یہ دباؤ چہار جانب سے آن پڑا۔ ’مذہبی رہنما گرفتار کرو۔ تنظیمیں کالعدم کرو۔ کچلو اس لہر کو۔ لپیٹو جہاد کے تذکرے کو!‘ سو ہم جت گئے۔ امریکہ کے بعد بھارت کے ڈور مور کو؟ آپ نے اسے قبول کر لیا؟ مت بھولیں! بھارت کے مقابل اپنے بازوئے شمشیر زن سے امریکی دوستی جنگ اور آپریشنوں کے ہاتھوں ہم پہلے محروم ہو چکے۔ اب رہی سہی کسر ان عناصر کے خلاف نکال رہے ہیں جو بھارت کے خلاف دفاع کی دوسری لائن ہے؟ یہ سیکولر لبرل عناصر، یہ اداکار گوئیے ماڈل، بے دین لکھاری تجزیہ نگار، یہ سب دودھ پینے والے مجنوں ہیں؟ گا بجا کر ، بڑھکیں لگا کر، سوشل میڈیا کے ذریعے جنگ جیتنا ممکن نہیں ۔ غزوۂ ہند کے آثار بھی ہیں۔ احادیث موجود ہیں۔ ٹائم فریم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ تاہم اسرائیل کا براہِ راست اس محاذ پر گرم ہونا، اس کا افغانستان پر امریکیوں کے پردے میں عمل دخل کی راہیں استوار کرنا، مسجد اقصیٰ پر آئے دن دھاوا بول کر زبرستی مذہبی رسومات کی ادائیگی، شام کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ملحمۃ الکبریٰ کی طرف حالات کا رُخ ہونا، سعودی عرب، عراق، خلیجی ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کی صورت حال، افغانستان میں طالبان کی فتح اور اس پر پوری مغربی دنیا اور اسرائیل کی سراسیمگی۔ فتنۂ دجال اور علاماتِ قیامت، باب الفتن میں مذکور حالات پر سبھی کچھ منطبق ہو رہا ہے۔ پاکستان اور اس کے عوام کو ریت میں 18 سال سے دیا سر نکال کر حقیقت پسندی سے جائزہ لینے اور اپنی دنیا و آخرت کے قطعی فیصلے کرنے پڑیں گے! بتاؤ تم کس کا ساتھ دو گے۔۔۔ ادھر ہے شیطان ادھر خدا ہے! اللہ نے فوری مدد دے کر آپ کو راہ دکھائی ہے۔ یہ جنگ قومیت پر نہیں ایمان باللہ پر جیتی جائے گی۔ مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔ اسی سے دنیا لرزہ بر اندام ہے اور یہی ہماری طاقت کا راز ہے۔ کیا غضب ہے دہشت گرد انتہا پسند بی جے پی ، جنونی آر ایس ایس جیسی تنظیموں پر تو کریک ڈاؤن نہ ہو۔ ہماری مساجد، علماء اور مدارس، ایمانی تشخص والی جماعتیں ، ہسپتال،فلاحی ادارے تک نشانہ بنائے جائیں؟ یہ وقت 18 سال کا کفارہ ادا کرنے کا ہے۔ گناہوں کے نئے ڈوزیئر کھولنے پشتارے لادنے کا نہیں ! مت اللہ کے غضب کو پکاریں۔


ای پیپر