پپو کی باتیں
09 مارچ 2019 2019-03-09

دوستو،آپ لوگ پپو کو ایک کریکٹر کے طور پر شاید جانتے ہوں، سوشل میڈیا پر اس کے حوالے سے کئی دلچسپ لطیفے اور قصے بھی پڑھے ہوں گے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پپو ہمارے نہ صرف بہت پیارے دوست ہیں بلکہ بے وقوفایانہ ذہانت میں ان کا کوئی ثانی نہیں، ان کا مشاہدہ بہت تیز ہے، لیکن جب ان کے زبان سے کوئی جملہ ادا ہوتا ہے سامنے والا مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔ پپو یوں تو ملک گیر شہرت رکھتا ہے بلکہ پڑوسی ملک نے تو اس پر گانا۔۔ پپو کانٹ ڈانس۔۔بھی بنادیا، ان تمام کے باوجود ہماری اور پپو کی دوستی میں آج تک کوئی فرق نہیں آیا، ہم دونوں شام یا رات کا کچھ وقت ضرور ساتھ گزارتے ہیں جس میں چائے پپو کی جانب سے اسپانسرڈ ہوتی ہے جس کے بدلے ہمیں ان کی حماقت انگیز گفتگوسننی پڑتی ہے ، دوران گفتگو جب پپو کو لگتا ہے کہ ہم ان کی باتوں میں دلچسپی نہیں لے رہے تو فوری پھر چائے منگوا لیتے ہیں، کیونکہ پپو کا یہ کہنا ہے کہ چائے بندے کا بند دماغ کھول دیتی ہے۔۔چلیں آج آپ کو پپو کی کچھ باتیں سناتے ہیں۔۔مزہ نہ آئے تو پیسے واپس۔۔

ٹیچر نے کلاس میں کرکٹ پہ مضمون لکھنے کو دیا، پپو نے تیس سیکنڈ میں ہی کاپی ٹیچر کو پکڑادی۔ ٹیچر حیران کہ اتنی جلدی کیسے لکھ لیا، پپو نے بڑی معصومیت سے جواب دیا، بارش کے باعث میچ نہ ہوسکا۔۔ پپو اپنی اسکول لائف کو صرف ایک جملے میں بیان کرتاہے۔۔ جو میں پڑھتاہوں وہ ایگزام میں نہیں آتا اور جو نہیں پڑھتا وہ ڈیفی نیٹلی آجاتاہے۔۔ایک جگہ پپو جی فرماتے ہیں، جتنے پیسوں کا خواتین میک اپ کرلیتی ہیں اتنے پیسوں کا اگر فروٹ کھالیں تو ویسے ہی چہرے پہ رونق آ جائے۔۔ جنگ زدہ ماحول کے حوالے سے چند روز پہلے ہی پپو جی نے ایک جگہ لکھا کہ۔۔ جب بھارت اور ہندوستان بھی مل کر پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو یہ انڈیا کیا چیز ہے؟؟۔۔ پپو بچپن سے ہی کھانے پینے کاشیدائی ہے اس کی فیوریٹ ڈشز میں، شوربے والی بھنڈی، میٹھے کریلے، گرم قلفی، نمکین زردہ، میٹھی بریانی اور تیزپتی والی کڑک پیپسی شامل ہیں۔۔شادی کی کوئی تقریب نہیں چھوڑتے ،چاہے دعوت ہو یا نہ ہو۔۔مزے کی بات پہنچتے بھی سب سے پہلے ہیں۔۔ایک بار گئے تو فیس بک پر اسٹیٹس ڈال دیا۔۔فیلنگ لونلی ودھ پندرہ کیٹرنگ اسٹاف۔۔ وہ کہتے ہیں کہ بچپن کے بھی کیا دن تھے جن کوئی مہمان جاتے ہوئے پانچ روپے پکڑا جاتاتو اماں جی ساڑھے چار روپے جی ایس ٹی کاٹ کر اٹھنی پکڑادیاکرتی تھیں۔۔ ٹیچر نے کیمسٹری کی کلاس میں جب پوچھا کہ زندہ رہنے کے لئے کیا ضروری ہے؟ پپو نے جواب دیا۔۔ زندہ رہنے کے لئے میرے صنم اک ملاقات ضروری ہے صنم۔۔شادی کے حوالے سے پپو جی فرماتے ہیں۔۔ شادی ایسا حادثہ ہے جسکی ایف آئی آر مولوی کاٹتاہے۔۔

پپو کی باتوں کی اپنی ایک کلاس ہے، کہتے ہیں،اگر عورت کی زبان بند ہو تو نبض ضرور چیک کریں۔۔وہ کہتے ہیں کہ ۔۔میں چاہتا ہوں کہ میرا کاروبار بھی ایسے چلے جیسے سارا دن لڑکیوں کی زبان چلتی ہے۔۔ایک بار رشتے کے لیے فوٹو کھچوایا پیچھے گدھا بھی آگیا ۔۔لکھوا کر بھیجا ہم آگے والے ہیں ۔۔پپوجی بچپن سے ہی اتنے ذہین تھے کہ ہروقت کچھ نیاہی سوچتے تھے ایک با ر اسٹور روم میں بڑاسا چائنا کا تالا دیکھا اسے پڑوس کے گھرکے مین گیٹ پہ لگاکر چلے آئے۔۔فلسفیانہ خیالات کے مالک پپو جی کاکہناہے۔۔ پتہ نہیں لوگوں کی قسمت کیسے پلٹ جاتی ہے ہم سے تو فرائی انڈا نہیں پلٹاجاتا۔۔ایک دن بہت سنجیدگی کے ساتھ اداس لہجے میں ہم سے بولے۔۔یار کامیڈی کا ایک اور باب بند ہوگیا۔۔ ہمیں دھچکا سا لگا کہ اب پتہ نہیں کون سا کامیڈین مر گیا یا پھر کون سے مزاح نگار کا انتقال ہوگیا۔۔ہم نے پوچھا ابے ہوا کیا؟ کہنے لگا۔۔کپل شرما کی بھی شادی ہوگئی۔۔کرکٹ کے دیوانے ہیں۔۔کہتے ہیں،پاکستانی کرکٹ ٹیم جتنی تیزی سے ٹیسٹ رینکنگ میں نیچے جا رہی ہے لگتا ہے کہ انہوں نے ہی تیل ڈھونڈ لینا ہے۔۔ایک دن بڑے خوشگوار موڈ میں اپنے کیبن میں بیٹھے تھے، ہمارے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے کہنے لگے۔۔عمران بھائی اچھی فلمیں روز روز نہیں بنتیں۔۔مثال کے طور سے آپ اپنے کوہی دیکھ لو۔۔

ایک روز ہمیں کہنے لگے، یار یہ موبائل مجھے کنگال کردے گا، ہم نے پوچھا ، خیریت کیا ہوا؟؟ کہنے لگے، بار بار بول اٹھتا ہے، بیٹری لو، بیٹری لو۔۔ میں اسی چکر میں اب تک 50 بیٹریاں لے چکا ہوں۔۔ان کی باتوں پر جتنا غور کرو لازمی ہنسی آتی ہے، ایک دن کہنے لگے، بیس سال سے ایک بات نوٹ کررہا ہوں، ہم نے پوچھا کیا نوٹ کرلیا؟ بولے۔۔جب بھی پھاٹک بند ہوتا ہے ٹرین ضرورآتی ہے۔۔ایک مرتبہ ان کے ساتھ دھوکا ہوگیا، انہوں نے کسی دواساز کمپنی کا پمفلٹ پڑھا کہ ۔۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ کھانا کھاتے وقت مکھیاں آپ کی غذا پر نہ بیٹھیں تودوسوروپے ہماری کمپنی کے اکاؤنٹس میں جمع کرائیں، دوائی اور مشورہ حاصل کریں۔۔ پپو فوری پیسے جمع کراکے کمپنی کے ایڈریس پر پہنچے، کمپنی کے منیجر کو رسید دکھائی،منیجر نے ان کے ہاتھ میں کھجور کے پتوں سے بنا دستی پنکھا رکھ دیا،ساتھ ہی مشورہ دیا کہ ، ایک ہاتھ سے کھائیں دوسرے ہاتھ سے مکھیاں اڑائیں۔۔ پپو کے ساتھ بیٹھ ،بیٹھ کر ہم بھی کبھی انہی کی طرح باتیں شروع کردیتے ہیں، پپوکو ایک بار انگریزی کا جنون چڑھا، ہر لفظ کا انگریزی میں ترجمہ کرنے لگے، ہم سے پوچھ بیٹھے،

جس آدمی کو سنائی نا دے اسے انگلش میں کیا کہتے ہیں؟؟ ہم نے بڑی معصومیت کے ساتھ لیکن برجستہ کہا۔۔جو مرضی کہہ دو،اسے کون سا سنائی دینا ہے۔۔ پپو کا کوئی دوست بنکاک میں بھی ہے، اس نے ایک بار پپو کو بتایا کہ اس نے بنکاک میں مساج سینٹر کھول لیا ہے، لیکن وہ چل نہ سکا، پپو نے ہمیں یہ سارا قصہ سنایا پھر ہنستے ہوئے کہنے لگے، پتہ ہے مساج سینٹر چلا کیوں نہیں؟ ہمارے دوست نے وہاں بڑا بڑا لکھوا دیا تھا، سیلف سروس۔۔ پپو بچپن سے ہی بہت ذہین ہے، ذہانت تو لگتا ہے کسی نے کُوٹ کُوٹ کر بھری ہے، ایک بار استاد نے پوچھا، وہ کون سی دو چیزیں ہیں جن کی طرف آنکھ اٹھاکرنہیں دیکھ سکتے۔۔ پپو نے فوری جواب دیا۔۔ایک تو سورج ہے دوسری میری اماں جی۔۔

اور اب چلتے چلتے پپو کے انداز میں ہی آخری بات۔۔عورت کی لمبی زبان کا شکوہ تو ہر مرد کرتا ہے،لیکن پھر بھی کوئی گونگی لڑکی سے شادی کو تیار نہیں ہوتا، آخر کیوں۔؟


ای پیپر