لاتوں کے بھُوت !
09 مارچ 2019 2019-03-09

ابھی چندروز پہلے ایک انتہائی باکمال اور نفیس پولیس افسر سید علی رضا (ایس پی اقبال ٹاﺅن لاہور) کو محض اِس لیے تبدیل کردیا گیا کہ اُنہوں نے اپنے ایک سب انسپکٹر کو گالی دی، اُس سب انسپکٹر نے روزنامچے میں ایس پی کے اِس رویے کی شکایت درج کی اور اُسے سوشل میڈیا پر پھیلا دیا، سوشل میڈیا کے کچھ فوائد بھی ہوں گے مگر اِس کے نقصانات اب بڑھتے جارہے ہیں، سب سے بڑا نقصان یہ ہے کِسی واقعے یا کسی بات کی تصدیق کیے بغیر، یا اُس کے حقائق جانے بغیر اُسے جنگل میں آگ کی طرح پھیلا دیا جاتا ہے۔ اِس عمل سے کئی گھر اب تک تباہ ہوچکے ہیں، کئی شرفاءکی عزتیں برباد ہوچکی ہیں، اور کئی اچھے لوگ وضاحتیں دے دے کر تھک چکے ہیں کہ اُن کے خلاف سوشل میڈیا پر جو کچھ کہا یا لکھا جارہا ہے وہ درست نہیں ہے۔ مذکورہ بالا سب انسپکٹر نے روزنامچے میں اپنے ایس پی کی اپنے ساتھ بدسلوکی کا تذکرہ تو کردیا، کاش اِس کے ساتھ وہ یہ بھی لکھ دیتا ایس پی صاحب اُسے گالی دینے یا اُس کے ساتھ بدسلوکی پر مجبور کیوں ہوئے؟ اور کاش وہ یہ بھی حلفاً لکھ دیتا کہ خود اُس نے آج تک اپنے کِسی ماتحت کو اُس کی کسی غلطی پر گالی نہیں دی یا اُس کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی نہیں کی۔ ....یہاں کوئی بھی فرشتہ نہیں، غلطیاں بھی ہوتی ہیں اُن پر سزائیں بھی مِلتی ہیں، ہمارے کچھ افسران اپنے ماتحتوں کو زبانی کلامی سزادینا ہی مناسب سمجھتے ہیں، اُن کی کسی سنگین غلطی پر بھی وہ زیادہ سے زیادہ اُنہیں جھڑک دیتے ہیں، یا ایک آدھی گالی وغیرہ دے کر اپنا غصہ ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔ وہ اپنے ماتحتوں کو اُن کی غلطیوں کی ایسی سزائیں نہیں دیتے جو بعد میںاُن کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں، یا اِس نوعیت کا اُن کا اور کوئی نقصان ہو جائے، دوسری طرف بے شمار افسران کا رویہ اِس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ اپنے ماتحتوں کی بڑی سے بڑی غلطی پر اُن کے منہ پر تو جی جی کرتے نہیں تھکتے مگر تحریری طورپر اُنہیں ایسی سزائیں دے دیتے ہیں جن سے اُن کا مستقبل تباہ ہوکر رہ جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ ملازمت سے ہاتھ تک دھو بیٹھتے ہیں، ....ایس پی سید علی رضا کو چاہیے مستقبل میں اپنا رویہ تبدیل کرلیں، بجائے اِس کے وہ اپنے ماتحتوں کو اُن کی غلطیوں پر زبانی کلامی بُرا بھلا کہہ کر فارغ کردیں اُنہیں ملازمت سے ہی فارغ کردیا کریں،.... اکثر گورے ممالک میں بھی یہی ہوتا ہے، وہاں کوئی افسر یا مالک اپنے کسی ماتحت کے ساتھ زبانی کلامی کِسی قسم کی بدسلُوکی نہیں کرسکتا، اگر وہ ایسا کرے گا باقاعدہ طورپر قانونی کارروائی کی زد میں آجائے گا، کیونکہ قانون اُسے اِس کی اجازت نہیں دیتا، البتہ اپنے کسی ماتحت کو اُس کی غلطی پر وہ ملازمت سے فارغ کرسکتا ہے، یہ اُس کا قانونی اختیار ہوتا ہے جس کے استعمال سے اُسے کوئی نہیں روک سکتا، مگر ایسا کرتے ہوئے اُس کے پاس اپنے اُس ماتحت کے خلاف ٹھوس شواہد ہونے چاہئیں کہ اُس کا جُرم یا غلطی واقعی ناقابل برداشت تھی، ویسے گورے ممالک میں لوگ غلطیاں ہی نہیں کرتے۔ کسی کو ملازمت سے برطرف کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی، اس کے برعکس پاکستان میں یہ کلچر یا رواج اب فروغ پاتا جارہا ہے یہاں غلطی کرنے والا اپنی غلطی پر شرمندہ نہیں ہوتا، اکڑنا شروع کردیتا ہے، بلکہ اُس پر فخر کرنا شروع کردیتاہے۔ کِسی کی بار بار غلطیوں پر اُسے زیادہ سے زیادہ دوچار بار ہی معاف یا نظر انداز کیا جاسکتا ہے‘ حالت یہ ہے یہاں بے شمار لوگ اب غلطیاں اپنا ”حق“ یا باقاعدہ طورپر ایک ”کارِ ثواب“ سمجھ کر کرتے ہیں، .... اب ایسے لوگوں کا کوئی کیا کرے؟۔ گالی دینا یا کسی سے اِس نوعیت کی کِسی اور زبانی کلامی بدسلُولی کرنا یقیناً بُری بات ہے، اِس سے ہرممکن حدتک گریز کرنا چاہیے، مگر دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کچھ ناسُوروں کو گالیاں یا جھڑکیاں سنے بغیر کام کرنے کا مزہ ہی نہیں آتا، میرے خیال میں ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے“ والا محاورہ یقیناً ایسے ناسُوروں کے لیے ہی تخلیق ہوا ہے، میں ایک واقعہ آپ کو سناتا ہوں، بہت سال پہلے میں اپنے کالج کا ڈائریکٹر کیمپس تھا ، اِس حوالے سے میری کچھ انتظامی ذمہ داریاں تھیں، اِک روز کالج کے ایک برآمدے میں سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا برآمدے کے ایک کونے میں پڑا الیکٹرک واٹر کولر لیک ہورہا ہے۔ وہاں کیچڑ پھیلا ہوا تھا، میں نے کالج کے کیئرٹیکر کوبلا کر کہا ”مہر صاحب اِس کولر کو فوراً ٹھیک کروادیں، اور اگر یہ ٹھیک نہیں ہوسکتا اِسے تبدیل

کردیں “۔ وہ بولا ” سر یہ آج ہی ہو جائے گا “ ....دوچار روز بعدمیں وہاں سے گزرا میں نے دیکھا ایک لڑکا وہاں گِراہوا ہے چار پانچ لڑکے اُسے اُٹھانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ درد سے کراہ رہا ہے، اُس سے اُٹھا نہیں جارہا ، پتہ چلا وہ کولر کی لیکج سے پیدا ہونے والے کیچڑ سے پھسل کر گِر گیا ہے، خیر بڑی مشکل سے اُسے اُٹھایا ، اُس سے چلا نہیں جارہا تھا۔ میں نے اپنے ڈرائیور اور ایک ملازم سے کہا اُسے ہسپتال لے جاﺅ، کچھ دیر بعد ڈرائیور کا مجھے فون آیا کہنے لگا ”سر گِرنے سے اُس کا گِٹا نکل گیا ہے، اُس کا آپریشن ہوگا جس کے بعد کچھ دِنوں کے لیے اُس کے گِٹے پر پلستر چڑھا دیا جائے گا “،....مجھے سخت غصہ آیا، میں نے اُسی لمحے کیئرٹیکرکو بلایا ۔ اُسے سارا واقعہ سنایا اور ایک بار پھر بڑے پیار سے اُس سے کہا آج لازمی کولر ٹھیک کروادینا، وہ بولا ”سرجی ہمارے ایک دو ملازم چھٹی پر تھے اِس وجہ سے ٹھیک نہیں ہوسکا، اب وہ ملازمین واپس آگئے ہیں میں ابھی اُسے ٹھیک کرواتا ہوں“۔.... اُس کی بات سُن کر میری تسلی ہوگئی، مجھے یقین ہوگیا یہ کولر آج لازمی ٹھیک ہو جائے گا، پھر میں تین دن کی چُھٹی پر چلے گیا، میں جب واپس آیا میں نے دیکھا کولر پہلے سے زیادہ لیک ہورہا تھا اورکیچڑ بھی پہلے سے زیادہ پھیلا ہوا تھا، اُس کے بعد ظاہر ہے میرے پاس سوائے اِس کے کوئی چارہ نہ رہا، میں نے کیئرٹیکر کو بُلاکر اُسے اتنی گالیاں دیں جتنی مجھے آتی تھیں، بلکہ جتنی نہیں آتی تھیں پلے سے بنا بناکر دیں، میں غصے سے اتنا پاگل ہوگیا اُسے مارنے کے لیے اُٹھا مگر وہ بھاگ کر میرے آفس سے باہر چلے گیا۔ پھر دوگھنٹے بعد آیا اور سرجُھاکر کہنے لگا ”سر آکر چیک کرلیں کولر ٹھیک ہوگیا ہے “ ،.... میں نے اُسے پھر بڑی بڑی گالیاں دیں اور کہا ” میں کتنے دِنوں سے اتنے پیار سے تم سے کہہ رہا تھا، تم پر میری محبت کا مگر ذرا اثر ہی نہیں ہوا، آج مجبور ہوکر میں نے تمہیں گالیاں دیں اور صرف دوگھنٹے کے اندر تم نے کولر ٹھیک کروادیا، اب مجھے پتہ چل گیا ہے تم سے کام لینے کا ”اصل طریقہ“ کیا ہے، میں آئندہ یہی طریقہ اختیارکروں گا، میرا خیال تھا وہ اِس واقعے سے سبق سیکھ لے گا۔ کوئی شرم وحیا والا ہوتا ضرور سیکھ لیتا۔ کچھ لوگ مگر اپنی فطرت سے مجبور ہوتے ہیں۔ بالآخر اُس کیئرئیکر کا مجھے تبادلہ کروانا پڑا،.... اب کل سے ایک اور واقعے کا سوشل میڈیا پر بڑا چرچا ہورہا ہے، ایک انتہائی محنتی اور دانشور پولیس افسر سی ٹی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک پر ان کا ایک وارڈن الزام لگارہا ہے اُنہوں نے اُسے گالی دی ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر