اب وقت ہے
09 مارچ 2019 2019-03-09

بالاکوٹ میں چند نہتے درختوں کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد خود مودی سرکار کی شیطانی سازش کی جڑیں کھوکھلی ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ پلوامہ پر انتخابات کے لیے سیاسی نعرے بازی بھی ناکام ہوتی نظر آرہی ہے ۔ بار بار سرجیکل اسٹرائیک کے نعرے بھی عوام نے خریدنے سے صاف انکار کردیا ہے ۔ پلوامہ میں مرنے والے فوجیوں کے لواحقین نے بھی بالاکوٹ میں دہشت گرد کیمپ اڑانے کے دعوو¿ں کے ثبوت مانگنا شروع کردیے ہیں۔ بھارت بھر میں مودی ثبوت دو کی تحریک عروج پر ہے ۔ میڈیا ناقابل اعتبار ہوچکا ہے اورمودی جی اب یہ نعرہ لگانے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ثبوت مت مانگو کیونکہ اس سے ہمارے فوجی جوانوں کا حوصلہ کم ہوتا ہے ۔

مودی کی پارٹی میں بھی عجیب ہیجان کی سی کیفیت ہے ۔ پارٹی اجلاس، ہنگامی اجلاس اور ناگہانی اجلاس سے پارٹی ممبرز کا مورال مزید منتشر ہوگیا ہے ۔ تبھی تو کبھی اپوزیشن پر 'دیش' سے غداری کا الزام لگا کر غصہ نکالتے ہیں اور اس سے بھی جی نہ بھرے تو آپس میں ہی دست و گریباں ہوجاتے ہیں۔ اس کی مثال نہ صرف بی جے پی ممبر کی اپنے ہی پارٹی رکن کی 100 جوتوں سے پٹائی میں صاف دیکھی گئی۔ اگر میری طرح آ±پ کو بھی دوباہ دیکھنے کا دل ہو تو سوشل میڈیا ویب سائٹس پر گالم گلوچ اور جوتے کے وار کرتے پارٹی ممبران کی یہ ویڈیو آسانی سے مل جائے گی۔

بھارت میں چند منچلوں نے تو گانا بھی ترتیب دے دیا اور گا گا کر مودی کو آئینہ دکھایا کہ پلوامہ ڈرامہ کی اسٹوری میں نہ اسکرپٹ اچھا تھا، نہ ایکشن اور نہ ہی ہیرو کا رول جاندار تھا بلکہ خود ہیرو ہی ولن نکلا اور کہانی کے آخر میں اپنے ہی پاو¿ں پر کلہاڑی مار کر زخمی ہوگیا۔

خود بھارتی بھی اب کہنے لگ گئے ہیں کہ بے قابو بھینسے کو اگر کوئی نکیل ڈال دے تو اصل ہیرو وہی ہوتا ہے ۔ سابق بھارتی جنرل نے بھی اپنے کالم میں شکست خوردہ مودی کو حقیقت کا چشمہ پہنانے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔

جنرل (ریٹائرڈ) ایچ ایس پناگ نے اپنے کالم میں لکھا کہ پاکستان کے ساتھ 90 گھنٹوں کی محاذ آرائی کے نتیجے میں بھارت کو ہی نقصان ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی طیاروں نے بھارت کی فضائی برتری کے دعوو¿ں کی بھی قلعی کھول دی ہے ۔ قومی سلامتی اور فوجی اسٹریٹجی میں ناکامی پر بھارت کو اب تشویش ہو جانی چاہیے۔

بھارت کو اخلاقی، سفارتی اور فوجی محاذ پر پسپا اور رسوا کرنے کے باوجود پاکستان نے امن کے راستے کو ہی چنا۔ فتح کے بِگل بجانے کے بجائے بات چیت اور دوستی کی راہ پر چلنے کی آفر دی۔ لیکن بھارتی حکومت اور میڈیا نے وہ کردار ادا کیا جس سے شاید ان کی اپنی عوام کو بھی توقع نہ تھی۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، امن کو کمزوری جتلا دیا اور اپنے پائلٹ کو ہیرو بنا کر پیش کرڈالا۔ یہ بھی نہ سوچا کہ خود پاکستانی قید میں ان کی مہمان نوازی اور حسن سلوک کے گ±ن گاتا بھارتی پائلٹ کیا پیغام دے رہا ہے ۔

پلوامہ کی آڑ میں پاکستان کو دیے جانے والے ڈوزیئر میں ایک بار پھر ہالی وڈ اور بالی وڈ کا میلاپ کر دیا گیا۔ طرح طرح کے سنسنی خیز دعوو¿ں پر اتنے ہی سنسنی خیز مطالبات کا اسکرپٹ لکھ دیا گیا۔ اب دیو مالائی کہانیاں پڑھنا ایک بات ہے اور انہیں حقیقت ماننا دوسری بات۔ پاکستان میں اس ڈوزیئر کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے ۔

لیکن شاید بھارت کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی مکان کے مالک کو اپنے گھر کی مرمت کا احساس ہمسائے سے زیادہ خود ہوتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ کہاں پینٹ ہونا ہے ، کہاں پلستر کروانا ہے اور کس جگہ اینٹیں اکھاڑ کر پھر سے بنیاد مضبوط کرنی ہے ۔

پاکستان کے رکھوالے یہ جانتے ہیں اور اس پر کام پہلے سے ہی ہورہا ہے ۔ ہاں البتہ نئے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی کمان تلے یہ تعمیر و مرمت بڑے پیمانے پر شروع کردی گئی ہے ۔

سابقہ حکومتوں کی مصلحتیں کہیں یا کچھ اور لیکن 2018 میں موجودہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کرنے کا فیصلہ کرچکی تھی لہٰذا یہ تاثر آنا ہی نہیں چاہیے کہ یہ بھارت یا بیرونی دنیا کے کسی دباو¿ کے تحت کیا جارہا ہے ۔

اس ساری کارروائی کا ایک پہلو اور بھی ہے اوروہ ہے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف یہ کاروائی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قانون 1948 ایکٹ کے تحت کی جارہی ہے جس کے مطابق ان تنظیموں کو حکومتی کنٹرول میں لینے کے علاوہ ان کے اثاثے بھی منجمد کردیے گئے ہیں۔

ایکٹ 1948 کو اقوام متحدہ اور ایف ای ٹی ایف کے معیار کے مطابق بنایا گیا ہے ۔ اور یہ ہماری اہم ضرورت تھی کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال کر معاشی اور دیگر پابندیوں سے آزادی دلائی جاسکے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی لسٹ میں شامل تنظیموں میں لشکر جھنگوی، جماعت الدعوة، فلاح انسانیت فاو¿نڈیشن، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور لشکر طیبہ سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔

جماعت الدعوةاور فلاح انسانیت فاو¿نڈیشن پر پابندی کے نوٹیفیکشن کے بعد ان کے اداروں کو حکومتی تحویل میں لینے کی باقاعدہ کارروائیوں کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔

صرف دو ہفتے میں کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کو مکمل کرنے کے دعوے دار وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی پریس کانفرنس اور آج تک کی ہونے والی گرفتاریوں سے اندازہ لگانے میں آسانی ہورہی ہے کہ ماضی کی نسبت اس بار کالعدم تنظیموں کے خلاف حقیقی کارروائی بھی ہوگی، بھرپور ہوگی اور بلاتفریق ہوگی۔ نام اور سیاسی جماعتیں بدل کر غیر ریاستی عناصروں کو بستہ بند ہونے پڑے گا۔

لیکن بھارت میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر دونوں ذہنی (میڈیا) اور جسمانی (آر ایس ایس) دہشت گردی میں کھلے عام ملوث ہیں۔ صرف دنیا کو باور کروانے کی ضرورت ہے ۔


ای پیپر