حکمرانوں پر بے بنیاد الزامات لگانا انتشار اور تفرقے کا باعث ہوسکتا، امام کعبہ
09 مارچ 2018 (21:56) 2018-03-09

لاہور: امام کعبہ شیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب نے کہا ہے کہ حکمرانوں پر غلط اور بے بنیاد الزامات لگانا انتشار اور تفرقے کا باعث ہوسکتا ہے، پختہ ایمان رکھنے والا مسلمان ہرگز کسی اور کی تعلیمات کو اللہ اور رسول کے احکامات پر فوقیت دینے کی جسارت نہیں کرسکتا۔لاہور میں خطبہ جمعہ پیش کرتے ہوئے شیخ صالح آل طالب نے کہا کہ علما، دانشور، محققین سمیت سیاستدان اور میڈیا سے وابستہ افراد احکامات الہی اور شریعت مطہرہ پر گفتگو کرنے کے دوران احتیاط سے کام لیں۔انہوں نے کہا کہ سور حجرات میں افواہوں کو پھیلانے سے سختی سے روکا گیا ہے اور زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی خبر یا معلومات پر بغیر تحقیق وتصدیق کے یقین کرنا اور پھیلانا گمراہی اور ندامت کا باعث بن سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اہل ایمان میں سے کسی میں اگر کوئی برائی ہو بھی تو اسکی پردہ پوشی کرنی چاہیے۔

شیخ صالح آل طالب نے کہا کہ سور حجرات میں آداب و معاملات کا سلیقہ سیکھایا گیا ہے، اللہ تعالی اور نبی کریمﷺ کو پکارنے اور ذکر کا طریقہ بتایا گیا ہے اور ساتھ ہی علما دین کو فتوے جاری کرنے سے قبل قرآن کریم اور حدیث رسولﷺ کے احکامات کو پڑھنے پر زوردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پختہ ایمان رکھنے والا مسلمان ہرگز کسی اور کے اقوال اور تعلیمات کو اللہ اور رسول کے احکامات پر فوقیت رکھنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔ امام حرم نے مزید کہا کہ مختلف مسالک اور عقائد میں احادیث کے اسناد اور روایتوں کی تحریروں میں ردوبدل اور اختلافات ضرور پائے جاتے ہیں مگر تشریح اور اہداف میں یکسانیت اور مطابقت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اہل ایمان سے بدگمانی رکھنا اور نیت پر شک کرنا درست نہیں اور ان کے بارے میں سنی سنائی باتوں کی تصدیق کیے بغیر یقین کرنا یا آگے پھیلانا نہیں چاہیے۔ امام کعبہ نے کہا کہ اگر کسی میں برائی ہو بھی تو اس کی پردہ پوشی کرنی چاہیے، حکمران اور عہدیداران ملک کے امین ہوتے ہیں ان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانا اور بہتان تراشیاں کرنا قرآنی تعلیمات کی صریحا خلاف ورزی ہے اور ریاست میں انتشار اور تفرقہ پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے


ای پیپر