’را‘ فنڈڈ تنظیم کی بیخ کنی : اربابِ حکومت کا امتحان

09 مارچ 2018

حافظ شفیق الرحمن

اربابِ خبرونظر سے مخفی نہیں کہ 2016ء میں پہلی ’’ساتھ کانفرنس‘‘ (South Asians Against Terrorism and Human Rights) کا انعقاد کیا گیا۔ 2017ء میں حسین حقانی اور اور امریکی کالم نگار ڈاکٹر محمد طارق مذدکی نے لندن میں دوسری ’’ساتھ کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا۔ ’’ساتھ کانفرنس‘‘ کی بدنیتی اس امر سے عیاں ہے کہ یہ بیرون ملک پاکستان مخالف خیالات کو فروغ دینے والا ایک پلیٹ فارم ہے۔اس تنظیم کی تشکیل میں امریکہ، بھارت، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک پیش پیش ہیں جو پاکستان مخالف مکروہ نظریات کو اقوام عالم کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس تنظیم کی جڑوں کی آبیاری سی آئی اے، موساد اور را کی خطیر مالی امداد کے پانی سے کی جا رہی ہے۔اس تنظیم کے آرکیٹیکٹ اور خالق کائن نے اس تنظیم کا نام ساتھ (South Asians Against Terrorism and Human Rights) رکھا تاکہ اسے دہشت گرد مخالف اور انسانی حقوق کی محافظ تنظیم کے طور پر پیش کیا جائے۔ البتہ ساتھ کے پراپیگنڈا کا اصل مقصد پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں اور شدت پسند عناصر کے حمایتی ملک کے طور پر پیش کرنا ہے۔ لہٰذا ، پاکستان میں اس تنظیم کے کسی دفتر کے قیام کا کوئی جواز نہیں۔ اس اجتماع کا عنوان ’’پاکستان: مستقبل کا تعین ‘‘ تھا۔ کانفرنس میں پاکستان میں مغربی جمہوری و سیکولر نظریات کو پروان چڑھانے کی حکمت عملی پر بحث کی گئی اور یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس حکمت عملی کو دین دوست طبقوں اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے خطرہ لاحق ہوگا۔ اس کانفرنس کا حقیقی نصب العین سی پیک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے خطے میں پاک چین یکساں مفادات کو پٹری سے اتارنا تھا۔ اس اجلاس میں حسین حقانی، براہمداغ بگٹی، مہران مری، احمر مستی خان، حمل حیدر اور بنوک کریمہ بلوچ نے دہلی میں موجود راء ہیڈ کوارٹر سے ارسال شدہ تقاریر کیں۔اس تنظیم کو راء کی جانب سے حاصل ہونے والی پشت پناہی اس امر سے ثابت ہے کہ 2016ء اور 2017ء کے اجلاسوں میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کاذکر کیا گیا اور نہ ہی بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہاء پسندی، برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور بنگلہ دیش میں سیاسی حریفوں کی پھانسی ایسے مظالم کا کوئی تذکرہ ہوا۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ’’ساتھ‘‘ ایسی تنظیموں کا شجرہ نسب ان این جی اوز سے ملتا ہے جنہوں نے بنیادی انسانی حقوق اور دیگر حقوق کے نام پر امریکا، مغربی ممالک اور عالمی اداروں کے پلیٹ فارمز پر ریاست پاکستان کی کردار کشی کی طولانی مہم 1984ء سے شروع کر رکھی ہے۔یہ بات بلاخوف لومۃو لائم کہی جا سکتی ہے کہ ان این جی اوز کا وجود قومی سلامتی کے منافی ہے۔ وطن عزیز کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ’’ساتھ‘‘ ایسی این جی اوزمملکت خداداد پاکستان کے خلاف بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموںکی طرح بلکہ ان سے بھی کہیںخطرناک عزائم رکھتی ہیں۔ انہوں نے کبھی قومی خوشحالی، عوامی بہبود اور ملکی تعمیر کے ضامن کسی بھی منصوبے اور اقدام کی حمایت نہیں کی ۔ریکارڈ گواہ ہے کہ ’’ساتھ‘‘ کی پیش رو ان این جی اوز نے محض ڈالرز،پائونڈز اور یوروز کے حصول کیلئے اہم ترین ملکی رازوں کو بیرون ملک فروخت کیا، ریاست پاکستان کو دشنام طرازی کا نشانہ بنایا، اسے بدنام، تباہ اور کمزور کرنے کیلئے ہر اس غیر ملکی ایجنڈے پر کام کیا، جسے محب وطن عوامی حلقے ملکی بہبود اور قومی سلامتی کیلئے زہر ہلاہل تصور کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ این جی اوز پاکستان کے تشخص ہی نہیں اس کی طاقت پکڑتی اور نمو حاصل کرتی توانا معیشت کی بھی قاتل ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ یہ پاکستان کی نظریاتی، جغرافیائی اور آئینی سرحدوںکے ساتھ ساتھ اس کی اقتصادی و صنعتی سرحدوں کو بھی بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہیں۔ ان این جی اوز ہی کی مرتب کردہ رپورٹس، فراہم کردہ اطلاعات اور تیار کردہ دستاویزات کو جواز بنا کر ایک دور میں امریکہ نے پاکستانی مصنوعات پر پابندی لگادی تھی۔ بین الاقوامی سطح پر جب پاکستانی پروڈکٹس کی عالمی منڈی میں مقبولیت کا گراف انتہائی بلندیوں کو چھو رہا تھا تو ان رسوائے زمانہ این جی اوز نے پاکستانی کارخانوں میں چائلڈ لیبرکی دہائی کا وہ طوفان بد تمیزی اٹھایا کہ امریکہ اور مغربی ممالک نے پاکستانی
مصنوعات پر پابندی عائد کردی۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ این جی اوز امریکی، مغربی اور دیگر پاکستان مخالف صنعتی طاقتوں کی گماشتہ ہیں۔ بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مقبولیت سے خوفزدہ اس کی حریف صنعتی قوتوں کے لئے ان این جی اوز نے انتہائی مذموم اور شرمناک حد تک منفی کردار ادا کیا۔
وقت کا اہم ترین تقاضا یہی ہے کہ ’’ساتھ‘‘ اور اس کی حلیف تنظیموں کی سرگرمیوں اور بیرونی روابط کی مانیٹرنگ کے لئے حساس اداروں کے اسلامیت ، پاکستانیت اور مشرقیت سے سرشار افسران و اہلکاران کو مامور کیا جائے۔ دہشت گرد تنظیموں کی طرح ایسی تنظیموں کے گرد بھی ان اداروں کو اپنا گھیرا تنگ کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو عام آدمی یہ باور کرنے پر مجبور ہوجائے گا کہ ’’ساتھ‘‘ اور اس کا ہمنوا وطن دشمن این جی او مافیا بیرونی دبائو کی وجہ سے ہر بازپرس، احتساب اور مواخذے سے بالاتر ہے۔اس تاثر کو زائل کرنا ازبس ضروری ہے۔ ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت عالمی استعمار نے پوری دنیا میں این جی اوز کا ایک خوفناک جال بچھا رکھا ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان اور ریاست پاکستان کی اعتباریت کو برقرار و استوار رکھنے کیلئے لازم ہے کہ غیر ملکی سرمائے اور بیرونی ڈکٹیشن پر پاکستان کے امیج کو مسخ کرنے والی ایسی تمام این جی اوز اور تنظیموں پر کلی پابندی عائدکی جائے۔ یہ حلقے شدومد کے ساتھ یہ مطالبہ بھی دہرا رہے ہیں کہ پاکستان کو بدنام کرنے والی ہر تنظیم کے خلاف خیر کی جنگ کو بامِ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ریاست پاکستان کی جغرافیائی، نظریاتی اور آئینی سرحدوں کے محافظ ادارے مشترکہ آپریشن کا آغاز کریں۔ اس سلسلہ میں ابتدائی اقدامات کرتے ہوئے ایسی تمام این جی اوز کے علانیہ اور خفیہ ہیڈ کوارٹرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرزکے خلاف بے رحمانہ کریک ڈائون کیا جائے ۔ باخبر حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اربابِ حکومت اس کریک ڈائون کا آغاز وفاقی دارالحکومت سے کریں۔
اندریں حالات پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی خواہاں غیر ملکی تنظیموں کی سازشوں کو روکنے کے لئے انسداد دہشت گردی کے موثر میکانزم کی تشکیل کے لئے سیاسی و عسکری قیادت کو اتفاق رائے سے فعال کردار ادا کرناہوگا۔یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ 5 جولائی 2015ء کو سپریم کورٹ میں این جی اوز رجسٹریشن کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے پوچھا تھاکہ ’نیشنل ایکشن پلان کا آغاز ہوئے چھ ماہ ہو گئے، اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوسکا ، این جی اوز کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، نیکٹا کیلئے 16کروڑ روپے بجٹ مختص کیا گیا جو کچھ بھی نہیں ،نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنا تھی تاہم این جی اوز کو اب بھی ملکی اور غیر ملکی فنڈنگ ہو رہی ہے، مشکوک این جی اوز کی فنڈنگ رکے گی تو دہشت گرد خود بخود مر جائیں گے ،6ماہ گزر گئے این جی اوز کے خلاف کیا کارروائی کی گئی،کیا صوبائی حکومت نے درست کام نہ کرنے پر این جی اوز کو نوٹس کیا‘۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے بتایا تھا کہ ’مشکوک این جی اوز کا فرانزک آڈٹ ہوگا‘۔ کیا اب تک کسی ایک مشکوک این جی اوکا فرانزک آڈٹ ہوا؟…یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایک مضبوط اور فعال میکانزم کے بغیر ساتھ ایسی غیر ملکی تنظیموں کے آلہ کاروں کی کارروائیوں کا قلع قمع نہیں کیا جا سکتا۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں 5 کروڑ سے زائد این جی اوز برسرکار ہیں اور پاکستان میںسرگرم عمل ایسی این جی اوز کی تعداد 30 ہزار سے متجاوز ہے۔ یہ این جی اوز اس حد تک قومی سلامتی اور ملکی استحکام کی دشمن ہیں کہ 1998ء میں صوبہ پنجاب میں موجود 5967 این جی اوز میں سے اس وقت کی صوبائی حکومت نے 1941 این جی اوز پر پابندی لگائی تھی۔ جہاں تک بنیادی انسانی حقوق یا نسوانی حقوق کی پامالی کا تعلق ہے، تویہ این جی اوز اس حوالے سے محض لپ سروس کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ انہوں نے ان دونوں شعبوں اورمحاذوں پر کبھی کوئی مثبت، مفید اور افادہ رساں منصوبہ متعارف نہیں کروایا۔ان کی تمام مہم جوئی سستی شہرت کے حصول کیلئے ہے۔ ذرا سی بات پر یہ اپنا ساز و سامان باندھ کر امریکی ریاستوں اورمغربی ممالک کا رخ کرتی ہیں اور وہاں جا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کے الائو دہکانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ استعمار کے آلہ کار کے طور پر کام کرنے والے بعض عناصر ان ممالک میں زمینی حقائق اور معروضی حالات سے چشم بندی کر کے مغربی ایجنڈے کے تحت اپنے اپنے ممالک کی کردار کشی کر رہے ہیں۔ بلاشبہ چائلڈ لیبر ایک مذموم عمل ہے۔ اس کا سدباب ہونا چاہئے۔ اس حوالے سے محض شعور کی بیداری کے نام پر جن این جی اوز نے غیر ملکی ڈونر ایجنسیوں سے ملنے والے کروڑوں ڈالرہڑپ کر لئے ہیں ان کا محاسبہ اور محاکمہ ہونا چاہئے۔
عام پاکستانی کیلئے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی ’’ ساتھ‘‘ ایسی اکثر فارن فنڈڈ این جی اوز آڈٹ کے نام سے بدکتی ہیں۔ اس ضمن میں حکومتوں کی چشم پوشی بھی عوام کیلئے ایک بڑا سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔وہ امریکی، مغربی اور بھارتی آقائوں سے کروڑوں ڈالر وصولتی ہیں اور عوام کو ان کا حساب کتاب دینے کیلئے بھی تیار نہیںہیں۔واضح رہے کہ یہ وہی این جی اوز ہیں جنہوں نے ایٹمی دھماکوں کے بعد محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی علامتی قبر بنانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ سامراجی آلہ کار کے طور پر کام کرنے والی این جی اوز کی مجموعی کارکردگی ملکی و قومی نقطۂ نظر سے منفی ہی رہی ہے۔’’ ساتھ‘‘ مذکورہ وطن دشمن اور امن دشمن این جی اور ہی کی توسیع مزید ہے۔ پاکستان کی کردار کشی اور بلیک پینٹنگ کرنے والی ایسی تنظیموں اور رافنڈڈ این جی اوز کی کالی بھیڑوں کو واشگاف الفاظ میں انتباہ کردینا چاہیے کہ پاکستان کے کسی کونے اور گوشے میں ان کے لیے ایک سنٹی میٹر کی بھی گنجائش نہیں، چہ جائیکہ وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنا دفتر قائم کرنے کے لیے کوشاں اور سلسلہ جنباں ہوں۔
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ باوثوق اور معتبر ذرائع کے مطابق راء فنڈڈ پاکستان مخالف یہ تنظیم اب اسلام آباد میں بھی سیکرٹریٹ قائم کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ چنانچہ ’ساتھ‘ کی بیخ کنی کے لئے اربابِ حکومت فوری توجہ دیں اور جنگی بنیادوں پر اقدامات میں تاخیر نہ کریں۔ یہ ان کی حب الوطنی کا امتحان ہے۔

مزیدخبریں