اسلام دشمن طاقتوں کی شکار گاہ : مشرقی غوطہ
09 مارچ 2018 2018-03-09

گیارہ روزتک جاری رہنے والی اس قیامت خیز بمباری کے نتیجے میں 120 خواتین اور 177بچوں سمیت 800کے قریب نہتے شہری شہید کر دیئے گئے ۔ اس کے علاوہ چار ہزار کے قریب شہری زخمی ہوئے ۔ آہ وبکا کرتی ہوئی اور اکھڑی اکھڑی سانسیں لیتی ہوئی پھول جیسی ننھی معصوم کلیاں ، کیمیائی گیس کے حملے کے دوران حبسِ دم کا شکار ہو کرمارے جانے والے مسلمان مرو و خواتین ، اپنے باپ کی لاش پر بلک بلک کر روتے ہوئے بچے ، تباہ حال شدہ بلڈنگوں سے نکالی جانی والی لاشیں اور شاہراہوں پر ہر سوبے گناہ مسلمانوں کے بکھر ے ہوئے اعضاء اور بے نور پتھرائی ہوئی آنکھیں کسی عمر بن خطاب، خالدبن ولید ، سعدبن ابی وقاص ، صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم کی متلاشی رہیں ۔ غوطہ کے شہداء شاید یہ بھول گئے تھے کہ امت مسلمہ اب ایسے غیور بیٹے پیدا کرنے سے بانجھ ہو چکی ہے۔ سات سال سے جاری بے گناہ مسلمانوں کی نسل کشی سے صاف نظر آرہا ہے کہ صلیبی ، روسی اور بشارنصیری فورسز اپنے اتحادیوں سمیت اُس وقت تک شامی مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھیں گی جب تک پیغمبروں کی سرزمین’’ شام‘‘ میں ایک بھی قرآن وسنت کا ماننے والا موجود رہے گا ۔
بشار الاسد نصیری حکومت کی سفاکیت اور فرعونیت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ روس اور بشار الاسد کی فورسز کی وحشیانہ بمباری نے غوطہ کو جہنم زار بنا دیا ۔ اے امت مسلمہ ! اس جہنم کا ایندھن یہ معصوم بچے ، بے گناہ کلمہ گو مرد اور عزت مآب مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں ہیں ، شایدجو امت کے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہی ہیں۔اے امت ! روز قیامت تمہارے پاس کوئی عذر نہیں ہوگا۔ اسی طرح بین الاقوامی چلڈرن ایمر جنسی فنڈ (یونیسیف ) نے غوطہ میں شہید ہونے والے سینکڑوں بچوں کی شہادت پر کہا کہ ( کوئی الفاظ ان بچوں ، ان کے ماں باپ اور پیاروں کو انصاف نہیں دلا سکتے ) ۔
قرآن وسنت سے دوری کی بنا پرصاف محسوس ہو رہا ہے کہ امت مسلمہ کا ہاضمہ خاصا کمزور ہو گیا ہے ۔ جی ہاں اپنی ہی قوم کا سفاک قاتل اور روس و ایرانی حکومت کا اتحادی، بشار الاسد نے غوطہ کے نہتے مسلمانوں کے خلاف یہ ابلیسی رقص کوئی پہلی دفعہ نہیں رچایا ۔ 20اور21اگست 2013ء کی شب عین تہجد کے وقت بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی غوطہ کے رہائشیوں کے خلاف کیمیائی گیس کا استعمال کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے 1400 مسلمان شہید کر دیئے گئے ۔جن میں اکثریت معصوم بچوں کی تھی ۔ تب پوری اسلامی دنیا کا امریکہ پر شدید دباؤ آیاکہ وہ اپنی ہی قوم کے سفاک قاتل بشار الاسد کی اس انتہائی گھناؤنی دہشت گردی کے خلاف ایکشن لے لیکن امریکہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ حالانکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اگر کوئی مظلوم قوم مدد طلب کرے تو یو این او فوری طور پر اس کی مدد کرنے کی پابند ہو گی ۔ لیکن یہاں تومرنے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے تھے ۔
شامی مسلمانوں کی نسل کشی کے حوالے سے امریکہ سمیت پورا یورپ شروع دن سے ہی گھسے پٹے مذمتی بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکا ،جوان کے منافقانہ کردار اور اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ تو دوسری جانب روس شام کے سیاسی حل میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہا ہے ۔ مارچ 2011ء سے شروع ہونے والی بے گناہ مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف روس اب تک 11قرار دادیں ویٹو کر چکا ہے ۔ جس کا صاف مطلب کہ روس، دہشت گردی اور اس کے سرپرستوں کی مکمل حمایت کر رہا ہے ۔ عربوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ دراصل روس
افغانستان میں عرب مسلمانوں کے ہاتھوں پڑنے والی اس ذلت آمیز مار کا بدلہ شامی مسلمانوں سے لے رہا ہے ۔
غوطہ دمشق سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق کی جانب واقع ہے ،اس لیے اسے مشرقی غوطہ بھی کہا جاتا ہے ۔جو گنجان آباد ہونے کے ساتھ ساتھ گھنے جنگلات پر محیط ہے ۔ غوطہ پر 2013ء سے ہی شامی حریت پسندوں کا قبضہ ہے جو طاغوتی طاقتوں کو ہضم نہیں ہو رہا ۔ جیش الاسلام، ہیئت تحریر الشام،خلیق الرحمن اور جبھۃ فتح الشام قابل ذکر مسلح تنظیمیں مزاحمت کر رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسی دن سے اس شہر کو نصیری فورسز سمیت تمام غیر ملکی فورسز نے اپنے محاصرے میں لیا ہوا ہے ۔جو جدید تاریخ کا سب سے بڑا محاصرہ ہے ۔ جہاں پر تقریباً چار لاکھ نہتے شہری محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ امریکی ، روسی ، نصیری اور ایرانی فورسز تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود اس strategic اہمیت کے حامل شہر کو شامی حریت پسندوں سے چھڑوا نہیں سکیں ۔ بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے مطابق غوطہ میں اس وقت امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ،اسرائیل، روس ، ایران اور اردن کے 1500کے قریب فوجی آفیسرز موجود ہیں۔ امریکی صہیونیوں کی خواہش ہے کہ دمشق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرکے شام کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ گریٹر اسرائیل کے مکروہ منصوبے کو بھی پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے ۔ اس وقت اردن ،عراق اور شام کی سرحد کے قریب التنف میں واقع امریکی فوجی اڈے پر امریکہ ،برطانیہ اور اسرائیل کا مشترکہ آپریشن روم ہے ۔جبکہ امریکی وزیرخارجہ ٹیلرسن پہلے ہی شام میںطویل قیام کا عندیہ دے چکا ہے ، کیوں ؟ یہ سب وہاں کیا کر رہے ہیں ؟بار بارغوطہ کو ہی بدترین درندگی کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے ؟ لیکن جب یہ حدیث مبارکہ میری نظروں سے گزری تو طاغوتی قوتوں کی جانب سے غوطہ میں رچائے گئے اس رقص ابلیس کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی ۔ ( مُسند احمد’’ 17470 ‘‘اور ابوداؤد’’ 4298‘‘ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ کہ وہ زمانہ قریب ہے جب ملک شام کے شہر اور علاقے فتح کیے جائیں گے ، تب جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کا ہیڈ کوارٹر’’ غوطہ نامی ‘‘علاقہ ہو گا ۔ )


ای پیپر