سینیٹ الیکشن… ’درِ میکدہ سے سوادِ حرم تک‘
09 مارچ 2018 2018-03-09

پاکستان کے پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو کچھ لوگ مذکر کے طور پر مخاطب کرتے ہیں اور کچھ اسے مونث قرار دیتے ہیں۔ ہمیں آج تک نہیں پتا چل سکا کہ سینیٹ ہوتا ہے یا ہوتی ہے البتہ سینیٹ کی تاریخ پیدائش یعنی 1972ء سے لے کر آج تک اس ایوان نے ملک کے لیے کیا produce کیا ہے اس پر غور کریں تو سینیٹ نہ مذکر ہے نہ مونث۔ مرحوم ذولفقار علی بھٹو نے سوچا کہ تمام بڑے ممالک میں قانون سازی کے دو ایوان ہوتے ہیں لہٰذا ہمارے پاس بھی ہونے چاہئیں جس کے بعد سینیٹ معرض وجود میں آئی ورنہ 1947ء سے 1972ء تک پاکستان اس کے بغیر ہی چل رہا تھا۔ چل تو اب بھی ویسے ہی رہا ہے البتہ اب ہمارے سروں پر سینیٹ کا سایہ طاری ہے۔ قومی معاملات پر سینیٹ کا سکوت ہمیں سکوت مرگ لگتا ہے۔ لیکن سینیٹ ممبران کی مراعات اور اس سے وابستہ عزت و وقار اور Decorum اتنا زیادہ ہے کہ ہر سیاست دان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے ایک دفعہ سینیٹ کا ممبر ضرور بن جائے۔
2016ء کا سال پاکستان میں سیاسی طوفان کا سال تھا جب پانامہ سکینڈل نے جنم لیا۔ جب پوری قوم پانامہ میں گھری ہوئی تھی تو پاکستان کے ایوان بالا نے اپنی مراعات میں 500 گنا اضافے کی منظوری دی جس کے مطابق اس وقت ایک رکن سینیٹ کو 2 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے جو اس سے پہلے 36000 روپے ہوتی تھی۔ ایک لاکھ روپیہ دفتری اخراجات کے لیے ملتا ہے اور 50 ہزار روپے موبائل اور انٹرنیٹ بل کے ضمن میں دیے جاتے ہیں۔ ان کو گاڑی کا پٹرول بھی حکومت کی طرف سے ملتا ہے جس کی شرح 20 روپے فی کلو میٹر ہے۔ ہر سینیٹر کو ایک آفس اسسٹنٹ کی تنخواہ تقریباً 50 ہزار حکومت کی طرف سے ملتی ہے۔ سرکاری سکیورٹی کی سہولت علیحدہ ہے ۔ اسلام آبادمیں مفت فرنشڈ گھر جس کا بجلی کا بل بھی فری ہوتا ہے۔ بیمار ہو جائیں تو دنیا کے جس ملک میں جتنے کروڑ روپے کا علاج کا خرچہ ہو گا وہ حکومت ادا کرے گی بلکہ آنے جانے کا ہوائی ٹکٹ بھی مفت ہو گا اجلاس میں آنے جانے کے لیے بزنس کلاس کا پی آئی اے کا ٹکٹ فری ہے اور جتنے دن اجلاس ہو گا اس کا الاؤنس علیحدہ ہے۔ صرف تنخواہوں اور مالی مراعات کا تخمینہ 25 ارب روپے سالانہ ہے جس میں ایوان کے دیگر اخراجات شامل نہیں ہیں۔ اس سارے حساب سودوزیاں کے بعد آپ ان سے پوچھیں کہ آپ ڈلیور کیا کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے یہی سوال قومی اسمبلی ، وزیر اعظم اور صدر اور گورنروں سے پوچھیں کہ وہ کیا ڈلیور کر رہے ہیں۔
’’بات ہوتی یہاں تک تو سہہ جاتے ہم‘‘ کے مصداق اب سیاست میں بلیک منی کی مداخلت اس حد تک پہنچ چکی
ہے کہ سینیٹ الیکشن کے ساتھ ہی پورے ملک میں شور ہے کہ پورے کا پورا الیکشن خریدا گیا ہے۔ صوبائی ارکانِ پارلیمنٹ نے پیسے لے کر ووٹ یعنی ضمیر بیچا ہے۔ ووٹوں کی خرید و فروخت کے موضوع پر تمام سیاسی پارٹیاں اعتراف کر چکی ہیں کہ اس الیکشن میں پیسہ فاتح ثابت ہوا ہے۔ کوئی صوبائی اسمبلی اور کوئی سیاسی جماعت اس سے بری نہیں ہے۔ شاید پہلی بار ایسا ہوا کہ الیکشن کمیشن نے الزام لگانے والوں کو طلب کر لیا ہے کہ وہ ثبوت لے کر پیش ہوں یا دوسرے لفظوں میں ادائیگی کی رسیدیں دکھائیں۔ بڑا مشہور واقعہ ہے کہ مہران بینک کے یونس حبیب سے پوچھا گیا تھا کہ آپ ثبوت دیں کہ آپ نے اوپر سے حکم آنے پر سیاست دانوں کو دینے کے لیے کیش فراہم کیا تھا تاکہ بے نظیر بھٹوکی حکومت ختم کی جا سکے تو ان کا جواب قانونی حلقوں میں ایک precedent بننا چاہیے جب انہوں نے کہا تھا کہ رشوت اور کرپشن کے لین دین کی رسیدیں نہیں ہوتیں۔
اس الیکشن کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ حکمران جماعت نے پورے ملک میں واویلا مچایا ہوا تھا کہ ان کو سینیٹ سے آؤٹ کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے جس میں وہ فوج اور عدلیہ پر الزام لگاتے تھے۔ پارٹی صدارت سے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ن لیگ کے احتجاج میں مزید شدت آ گئی اور وہ کہنے لگے کہ ہمیں تو پہلے ہی پتا تھا البتہ جب سینیٹ الیکشن کا رزلٹ آیا تو انہوں نے ایک بار پھر بڑھکیں لگانی شروع کر دیں کہ ہم بھاری اکثریت سے جیتے ہیں، پھر ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ آ پ کے خیالی دشمنوں کی تصوراتی سازشیں کہاں گئیں ۔ یہ ایک گمراہ کن پراپیگنڈا تھا جو اب بھی جاری ہے۔
حالیہ سینیٹ الیکشن کے بعد OLX کمپنی نے سوچنا شروع کر دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے سوفٹ وئیر کو کم از کم پاکستانی صارفین کے لیے اپ گریڈ کر کے اس میں موجودہ کیٹیگریز میں Political products کا اضافہ کر دیں تاکہ پاکستانی جمہوریت کی بہتر خدمت کے لیے وفاداریوں کی خرید وفروخت میں آسانیاں ہو سکیں البتہ کچھ پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ ’’ساڈے اگے OLX اجے جمیا وی نئیں‘‘ یعنی ہمارے مقابلے میں تو oLx ابھی پیدا بھی نہیں ہوا۔
خبریں آ رہی ہیں کہ الیکشن کے رزلٹ کے بعد حمزہ شہباز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پنجا ب میں 12 سیٹیں جتوانے کی ساری ڈیوٹی حمزہ کی تھی۔ رائے ونڈ محل میں فیصلہ ہوا تھا کہ حمزہ شہباز کو پنجاب کا اگلا وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا مگر چوہدری سرور نے جس حیرت ناک طریقے سے رائے ونڈ کی یقینی سیٹ میں نقب زنی کی ہے اس پر مریم نواز کو موقع مل گیا ہے کہ وہ حمزہ کی سیاسی ساکھ اور اہلیت کو چیلنج کر سکے۔ یہ محلاتی چپقلش اور تلخیِ ایام ابھی اور بڑھے گی۔ چوہدری سرور کے مخالف زبیر گل برطانوی شہریت ترک کر کے سینیٹر بننے آئے تھے مگر انہیں شکست کھانی پڑی۔ جس پر نواز شریف بہت پریشان ہے کیونکہ چوہدری سرور گھر کا وہ بھیدی ہے جو ن لیگ کے لیے لاہور میں بے پناہ مسائل کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ 2018 ء الیکشن سے پہلے یہ نعرہ لگ چکا ہے کہ لاہور کشمیریوں کا نہیں بلکہ ارائیوں کا ہے۔ اگر یہ نسخہ زور پکڑ گیا تو ن لیگ کے لیے لاہور میں خاصی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔
الیکشن کمیشن نے الزامات کا جس تیزی سے نوٹس لیا ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا‘‘۔ تھانے کے ایس ایچ او کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ اگر اس کے علم میں آئے کہ کوئی شخص یا اشخاص کسی جرم کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں تو قانون کی رو سے وہ یہ نہیں کر سکتا ہے کہ وہ جرم کے ارتکاب ہونے کا انتظار کرے بلکہ وہ اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے مشتبہ عناصر کو پہلے ہی گرفتار کر لیتا ہے سینیٹ الیکشن سے بہت پہلے اس میں ووٹ فروشی کی خبریں بڑے تواتر کے ساتھ آ رہی تھیں۔ اس موقع پر اگر الیکشن کمیشن چاہتا تو وہ الیکشن کے التواء کا اعلان کر کے معاملے کی چھان بین کا آغاز کر سکتا تھا مگر کمیشن اپنے اختیارات کے استعمال میں9 ویں گریڈ کے ملازم ایس ایچ او سے بھی کمزور ثابت ہوا۔ اب سانپ گزر چکا ہے لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ۔
آصف زرداری کی سیاسی جادوگری ایک دفعہ پھر سب پر بھاری ثابت ہوئی۔ میاں نواز شریف نے چیئرمین سینیٹ کے لیے پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کی حمایت کی پیش کش کی تو آصف زرداری نے فوراً اس کو مسترد کر دیا۔ وہ سمجھدار نکلے۔ وہ ن لیگ کے دانہ ودام سے بہ حفاظت گزر گئے۔ جب آپ کا مخالف مشکلات میں گھرا ہو تو اسے بیل آؤٹ کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اسے موقع دے رہے ہیں کہ وہ سنبھل جائے اور آ پ پر دوبارہ پوری قوت سے وار کرے۔ آصف زرداری نے یہ نہیں ہونے دیا۔
سینیٹ الیکشن میں پیسے کی دوڑ اس وقت شروع ہوئی جب قواعد میں ترمیم کر کے show of hands کی بجائے خفیہ رائے شماری کا اصول اپنایا گیا۔ اس سے ہارس ٹریڈنگ کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ بقول شورش کاشمیری
قلم بِک رہے ہیں نوا بِک رہی ہے
چمن بِک رہے ہیں صبا بِک رہی ہے
اِدھر کارواں منزلیں ڈھونڈتے ہیں
اُدھر شہرتِ راہنما بِک رہی ہے
درِ میکدہ سے سوادِ حرم تک
ہر اِک شے بنامِ خدا بِک رہی ہے


ای پیپر