سی پیک ،جنوبی پنجاب میں اب سولہ اکنامک زون

09 مارچ 2018

ایم آر ملک

سی پیک کے تحت جہاں بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کیلئے دس اضافی زون بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے وہاں جنوبی پنجاب میں پسماندہ علاقوں کو اپ گریڈ کرنے کیلئے دس اضافی زون بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جبکہ اس سلسلہ میں سروے بھی شروع کردیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ داور کے مطابق تینوں موٹر ویز کو ملتان اور سکھر کے مقامات پر آپس میں منسلک کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا اور یہ طے پایا ہے کہ مجموعی طور پر ملک بھر میں 90اکنامک زون بنائے جائیں گے جن میں پنجاب میں 31سندھ میں 30پختون خوا میں 18بلوچستان میں 7کشمیر و گلگت بلتستان میں 4اکنامک زون بنائے جائیں گے۔ ان زونز میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زون ،فری ٹریڈ زون ،ٹیکس ہالیڈے ڈیوٹی ،ٹیکس فری مشینری ،سپیئر پارٹس ،کیپیٹل ایکوپمنٹ ایریا شامل کیا جائے گا اخبار مزید لکھتا ہے کہ چین اور پاکستان کے ورکنگ گروپ میں پاکستان کی طرف سے تجویز کیا گیا کہ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے وہ اضلاع جو پسماندگی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے انہیں اپ گریڈ کرنے کیلئے دس دس اضافی زونز بنائے جائیں تاکہ وہاں کے عوام کو معاشی و سماجی طور پر اوپر لایا جائے۔ اس حوالے سے جنوبی پنجاب کے اضلاع لیہ ،بھکر ،میانوالی ،ڈی جی خان ،مظفر گڑھ ،راجن پور ،بہاولنگر ،صادق آباد ،فتح پور ،لودھراں شامل ہیں جبکہ بلوچستان کے اضلاع میں کوہلو ،لورالائی ،ڈیرہ بگٹی ،نوشک ،قلات ،دوالبدین ،خاران ،خضدار ،ڈیرہ مراد جمالی ،ژوب شامل ہیں۔ ترمیمی فیصلے کے مطابق پنجاب کے 31زونز میں سے ہر صورت کم از کم 16جنوبی پنجاب میں بنائے جائیں گے۔ 2016ء میں ورکنگ گروپ میں طے کیا گیا تھا کہ پنجاب کے 31زونز میں سے جنوبی پنجاب میں صرف 6زونز بنائے جائیں گے لیکن ان کی تعداد میں 10زونز کا اضافہ کردیا گیا اور 16 زونز کی منظوری دی گئی۔ بلوچستان میں لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بہتر ہونے پر اب ورکنگ گروپ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں اکنامک زونز کی تعداد بڑھا دی جائے۔ اس بات کا کریڈٹ بھی پاک فوج کو جاتا ہے۔ ان اکنامک زونز کے ساتھ تفریحی پارکس ،ہسپتال ،یونیورسٹیاں ،اور بالخصوص انجینئرنگ یونیورسٹیاں اور دیگر ادارے بھی بنائے جائیں گے۔ ورکنگ گروپ کے مطابق ان اکنامک زونز میں سرمایہ کاروں کو انڈسٹری و کارخانے لگانے کیلئے 5کنال سے 5ایکڑ تک اراضی ، بجلی ،گیس و دیگر بنیادی ضروریات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔ ورکنگ گروپ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے دس اضافی زونز پنجاب اور سندھ کے کوٹہ میں سے 5,5زونز لے کر بنائے جائیں گے۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھنے سے بلوچستان میں مجموعی اکنامک زونز کی تعداد 30تک لے جائی جائے گی ان اکنامک زونز کی وجہ سے ابتدائی طور پر 5سے6لاکھ افراد کو روز گار ملے گا اور علاقے میں معاشی خوشحالی آئے گی۔
جنوبی پنجاب کے لکھاری محمد بختیار نے اپنے تحقیقی مضمون ’’ملتان میٹرو پراجیکٹ ‘‘ میں لکھا ہے کہ چائنا سکیورٹی ریگولیٹری کمیشن CSRC) (ایک منسٹریل لیول کاپبلک انسٹیٹیوشن ہے جوکہ براہ راست سٹیٹ کونسل کے تحت ہے۔ اس ادارے کی ہائیرمینجمنٹ میں ایک چیئرمین ،چار وائس چیئرمین ،ڈسپلنری انسپیکشن کمیشن کا ایک سیکرٹری ہے جس کا درجہ وائس منسٹریل لیول کا ہے یہ ادارہ پاکستان کے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن SECPجیسا یعنی کہ چین کی کارپوریٹ لاء اتھارٹی ہے چین میں کارپوریٹ کمپنیز کے اجراء ،ان کے کاروبار ،اکائونٹس ،سٹاکٹس ،کاروباری قواعد و قوانین ،آڈٹ ،انوسٹیگیشن ،فارن ایکسچینج ،اور متعلقہ کاروباری بین الاقوامی معاملات کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں چینی CSRCنے 16دسمبر2016ء کو پاکستان کے سکیورٹیز ایکسچینج کمیشن کو Technoligy Yabaite co Ltdکے متعلق تحقیقات کیلئے ایک خط لکھا اتھارٹی کا کہنا تھا کہ Yabaiteنے اپنے اثاثے ظاہر کرنے میں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا اس لیے پاکستانی SECPپاکستان اور چین کے مابین طے شدہ ایم او یو کے مطابق اس تحقیق میں ان کی مدد کرے۔
وہ لکھتے ہیں کہ چینی اتھارٹی کے مطابق اس کمپنی نے اپنے کھاتوں میں 22.23فیصد خالص منافع ظاہر کیا اتھارٹی کے مطابق yabaiteنے ملتان میٹرو پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے ’’کیپیٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن نامی ایک لمیٹڈ کمپنی سے کنٹریکٹ کیا، ملتان میٹرو پراجیکٹ کا ابتدائی تخمینہ تقریباً167ملین ڈالر زیعنی ساڑھے 17ارب روپے سے زائد تھا۔ اس پراجیکٹ کا ایک فیز حبیب رفیق لمیٹڈ کو ایوارڈ کیا گیا۔ حبیب رفیق نے یہ پراجیکٹ کیپیٹل انجینئرنگ کو57ملین ڈالر اور کیپیٹل انجینئرنگ نے یہی پراجیکٹ yabaiteنامی چینی کمپنی کو37.5ملین ڈالرز میں سب کنٹریکٹ کردیا۔ خط کے مطابق yabaiteاور manpaower suply service&Al awatl employment نامی کمپنیوں نے 2.32ملین ڈالرز میں لیبر سروسز مہیا کرنے کا کنٹریکٹ سائن کیااگر اس گول چکر کو سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو یوں کہیں کہ پاکستان کے شہر ملتان میں میٹرو بس پراجیکٹ بنانے کیلئے پاکستان کی ایک کمپنی ’’حبیب رفیق لمیٹڈ‘‘نے پاکستان ہی کی دوسری کمپنی ’’کیپیٹل انجینئرنگ ‘‘کو ٹھیکہ دیا اور کیپیٹل انجینئرنگ اس کام میں سے چین کی کمپنی yabaiteکو ٹھیکہ دے دیتی ہے ملتان میں کام کرنے والی یہ کمپنی افرادی قوت مہیا کرنے کیلئے ایک خطیر رقم کے عوض دبئی کی کمپنی الاوائل ایمپلائمنٹ کو ٹھیکہ دیتی ہے مٹیریل سپلائی کا ٹھیکہ ایک پاکستانی کمپنی Sahi supply companyکو دیا۔ اس ٹھیکے کی مالیت 1.59ملین ڈالر تھی جس کی مکمل ادائیگی کی گئی۔ چینی اتھارٹی کے مطابق کیپیٹل انجینئرنگ نے 30دسمبر 2015ء کو ملتان میٹرو کا کنٹریکٹ حاصل کرنے والی yabaiteکو 25مارچ 2016ء کو 19.58ملین ڈالر کی ادائیگی کی یہ چیز بھی اسے مشکوک بناتی ہے کہ یہ ادائیگی براہ راست نہیں ہوئی بلکہ ہانگ کانگ ،دبئی ،امریکہ ،ملائشیا اور دیگر ممالک کی 16مختلف تھرڈ پارٹی کمپنیز کے توسط سے کی گئی۔ 3سے 5فروری اور پھر 28ستمبر سے یکم اکتوبر 2016ء تک گولڈ سٹیٹ سکیورٹیز کے دو نمائندوں نے yabaiteکمپنی کے دو نمائندوں سمیت اس کنٹریکٹ ڈاکومنٹ، اس کے ٹھیکے کے پراسس اور ادائیگی کے طریق کار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں کیپیٹل انجینئرنگ کے ڈائریکٹر فیصل سبحان، پراجیکٹ منیجر ملک احمد اور ساہی سپلائی کمپنی کے جنرل منیجر زاہد بٹ اور employment Manpawer supply servive & Alawaielکے انچارج خرم شہزاد کا نٹرویو کیا۔ اتھارٹی نے اس تمام عمل کا ریکارڈ اور ڈاکومنٹس اس خط کے ساتھ منسلک کرکے SECPسے درخواست کی ہے کہ ان حقائق کی روشنی میں وہ ملتان میٹرو بس کی شفافیت پر تحقیقات کرے۔ چینی اتھارٹی CSRCنے ان تحقیقات کے لئے کاغذات کی فراہمی کے علاوہ بنیادی تحقیقی گائیڈ لائنز بھی دیں اور تصدیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق پہلے نمبر پر ملتان میٹرو بس کے تمام ٹھیکیداروں کے متعلق ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے تحقیقات کی جائیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کیپیٹل کنسٹرکشن اور yabaiteکے مابین کنٹریکٹ کی شفافیت ،اخراجات کی مد اور کل اداشدہ رقم کے تناظر میں تحقیق کی جائے جن تھرڈ پارٹیز کے ذریعے ادائیگی ہوئی ان کی شناخت کی جائے۔
بہت سے سوالات یہاں پیدا ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت فیصل سبحان نامی کسی بھی کنٹریکٹر اور ایسی کسی کمپنی کے وجود سے ہی منکر ہے جبکہ یہ کمپنی ملتان میٹرو جیسا بڑی مالیت والا منصوبہ بنا چکی ہے۔ غنیمت ہے کہ پنجاب حکومت ابھی دیگر افراد اور کمپنیوں کے ناموں پر خاموش ہے ورنہ سابق ریکارڈ کی روشنی میں ترجمان پنجاب حکومت اس خط کوبھی جھٹلانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جن بقیہ لوگوں کا چینی اتھارٹی انٹرویو کر گئی یہ لوگ کرۂ ارض پر موجود ہیں اور نہ ہی ملتان میں میٹرو نام کا کوئی منصوبہ بنا ہے۔ عوام حکومت سے ایسے انکاری ہتھکنڈوں کے بجائے پراجیکٹ کی شفاف تحقیقات اور انکوائری کی اُمید رکھتے تھے لیکن مجبوراًکہنا پڑتا ہے کہ حکومت کی بد انتظامی ،غیر شفافیت اور مسلسل بے حسی کے باعث عوام جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کے آئینی سوموٹو ایکشن لینے کے حق کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ کیا عوام حکمرانوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ اس بیروزگاری کے شکار ملک میں ان سیکنڈ لیبر کے ٹھیکے بھی آخر دبئی کی کمپنیوں کو کیوں دیئے جارہے ہیں ؟کہیں ان کے پیچھے اقامہ گروپ کی کمپنیاں ملوث تو نہیں؟
ڈیرہ غازیخان سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ ’’غازی‘‘ نے اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ جنوبی پنجاب کے ساتھ سینیٹ الیکشن میں بھی تخت لاہور نے ہاتھ کیا کہ جنوبی پنجاب کے بڑے خطے سے محض دو سینیٹر ز اور صرف شہر لاہور سے آٹھ سینیٹرز منتخب ہوئے۔ اس ناانصافی کو کونسا نام دیا جائے؟

مزیدخبریں