جذباتی عوامی نمائندے
09 مارچ 2018 2018-03-09

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس وقت ہنگامہ برپا ہواجب اقلیتی نشست پر بلدیوکمار ایوان میں حلف اٹھانے کے لیے آیا۔تو اس دوران حکومت و اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ برپا کر دیابلکہ بات اس سے بھی آگے بڑھ کرحکومتی رکن ارباب جہاندد نے تو بلدیوکمار کو جوتا دے ماراجبکہ کئی ارکان نے ایجنڈے کی کا پیاں بلدیو کمار پر اچھالنے کے ساتھ حملہ آور ہونے کی بھی کوشش کی ۔ اس موقع پر جے یو آئی کے رکن محمود ذیٹنی نے کہا کہ ہمارے ایک ساتھی کے قاتل کو آج سینیٹ کے ووٹ کے لیے ایوان میں لایا گیااس کے ساتھ مفتی فضل غفور نے کہا کہ سورن سنگھ کے بیٹے نے جو پیغام دیا ہے وہ سن کر کوئی بھی شخص اپنے آنسو نہیں روک سکتاہم کیسے ایسے شخص کو اسمبلی میں چھوڑ سکتے ہیں جس پر سکیورٹی سٹاف نے بلد یو کمار کو اسمبلی سے باہر نکال دیا اور ایوان کے باہر ان کی ہتھکڑی

کھولتے ہوئے سارجنٹ ایٹ آرمز کے حوالے کیا گیا۔دراصل بلدیوکمار پر سورن سنگھ کے قتل کا الزام ہے ۔ سورن سنگھ پاکستان تحریک انصاف کا صوبائی اسمبلی کا اقلیتی ممبر تھاکچھ عرصہ پہلے بونیر میں قتل ہوا تھا۔اقلیتی لسٹ کے مطابق بلدیوکمار کا دوسرا نمبر تھااس پرسورن سنگھ کی فیملی نے یہ الزام لگایا کہ صوبائی اسمبلی کی اقلیتی سیٹ کے حصول کے لیے سورن سنگھ کو قتل کیا گیا۔ بلدیو کمار کو اس سلسلے میں گرفتار بھی کیاگیا تھااور اسمبلی میں حلف کے لیے ہتھکڑیوں میں لایا گیا ۔در اصل بلدیو کمار کو پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت ایوان میں لایا گیا اس سے قطع نظر کہ بلدیوکمار نے قتل کیا ہے کہ نہیں ۔اگر قتل کیا ہے تو بلدیوکمار کو ضرور سزا ملنی چاہیے ۔لیکن جب تک تفشیش مکمل نہیں ہوتی اس وقت تک یہ ملزم تصور ہوگا اور ملزم کو قانون کے مطابق رعایت ملنی چاہیے۔

ایک تو بحیثیت قوم ،بحیثیت معاشرہ،اور بحیثیت فرد ہم جذباتیت کا شکار ہیں ۔اس لیے ہماری خواہشات اور ہماری سوچ پرجذبات مسلط ہو گئے ہیں ۔ ہمارا یہ مزاج بن چکا ہے کہ ہم جو بولتے ہیں اور جو کچھ سوچتے ہیں وہ بالکل درست ہوتا ہے اسی طرح جو فیصلہ ہم ذہن میں بیٹھا لیتے ہیں اس میں ہم غلطی اور لچک کی گنجائش نہیں چھوڑتے۔اس جذباتیت کے نتیجہ میںاصل مجرم یا تو بھاگ جاتا ہے یا پھر عوام کے ہاتھوں چڑھ کر دوچار اور کو اپنے جیسا مجرم بنا لیتا ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو معاشرہ جذباتی پن کا شکار ہو جاتا ہے۔وہاں دلیل ختم ہو جاتا ہے ۔سچ اور حقیقت زنگ آلودہ ہو جاتے ہیںاور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ادارے عوام کی حفاظت اور فلاح بہبود کے لیے بنائے جاتے ہیں اور پارلیمنٹ میں بیٹھے عوامی نمائندے پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں پارلیمنٹ ہی وہ ادارہ ہے جہاں سے قوانین بنا کر انتظامیہ کے زریعے ان پر عمل درآمد ہوتا ہے اور وہ قوانین ہمیشہ جذبات سے بالا تر ہوتے ہیں۔ ہمارا مذہب بھی ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ مجرم کو جرم ثابت ہونے پر سزا دینی چاہیے مگراس کی سزا جرم کے مطابق ہو۔ اور یہ سزا ریاست کی طرف سے تعین ہو۔ نہ کہ جذبات میں مجرم کو سزا دیتے وقت خود کو مجرم بنا دیا جائے۔جب عوامی نمائندے اور قوم کے بڑے جذبات سے کام لیں تو پھر عوام کا تو کوئی قصور نہیں۔اس کے بعد جب ادارے بنائے جاتے ہیں تو اس کا مقصد ملک میں قانون کی حکمرانی ہے اور قانون کی حکمرانی تب ہی ممکن ہے جب ادارے اپنا کام احسن طریقے سے سرانجام دے رہیں ہوں ۔اداروں کے احسن طریقے سے زمہ د اری نبھانے کا دارومدارپارلیمنٹ پر ہوتا ہے اس لیے پارلیمنٹ اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر نے کے ساتھ قابل اور ایماندار لوگوں appoint کرے۔تب مجرم کو خود بخود سزا مل جائے گی۔ اور ادارے کسی کی خواہش کے مطابق فیصلے نہیں کرتے بلکہ حقائق اور ثبوت کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں ۔ دوسرا ہمارے معاشرے میں جذبات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ ہم اداروں کے فیصلے کو ماننا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں در اصل پشارو ہائی کورٹ نے بلدیوکمار کو حلف لینے کا حکم دیا تھا۔چونکہ ہمارے عوامی نمائندے خود کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں اور خود کو عقل کل بھی ۔اس لیے ہائی کورٹ کے حکم کو ہوا میںاڑادیاگیا۔ اس سے قطع نظر کہ بلدیوکمارمجرم ہے کہ نہیں اگر مجرم ہے تو ضرور سزا ملنی چاہیے کیوں کہ جب مجر م کوقانون کے مطابق سزا ملے گی توجرم کا خاتمہ ہوگاسورن سنگھ کو قتل ہوئے کم و بیش ایک سال ہونے کو ہے لیکن ابھی سورن کی فیملی کو انصاف نہیں

مل سکا اس کی اصل وجہ اداروں کی نالائقی ہے۔ جو ابھی تک تفتیش مکمل نہیں کر سکے ۔ یعنی ہمارے اداروں میں اتنی طاقت نہیں کہ کوئی بھی کیس وقت پر حل کرسکیں۔ اداروں کی غفلت کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور ہر کوئی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ہے دراصل نظام کو چلانے کے لیے ادارے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے اداروں کو چاہیے اپنا کام احسن طریقوں سے سر انجام دیں اور عوامی نمائندوںکو چاہیے کہ اپنی ذاتی خواہش کے بجائے اداروں پر اعتماد کریں۔ تا کہ قانون کی حکمرانی قائم ہو۔معاشرے تب ہی پروان چڑتے ہیں ۔جب معاشرے کا ہر فرد قانون کو خود سے بالاتر سمجھے گا ۔جب ہر شخص قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا تو اس سے ماسوائے افراتفری، نفرت ،قتل و غارت کے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔


ای پیپر