جناب! ایک کہانی یہ بھی ہے
09 مارچ 2018

یہ تحریر دو دن پہلے آپ کے پاس ہونی چاہیے تھی لیکن میرے بچپن کے دوست اور ماموں زاد بھائی تنویر بٹ کی اچانک وفات نے تمام شیڈول تہ و بالا کرکے رکھ دیا ۔ بہر حال روز گار حیات کو وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں یہ سلسلہ تھوڑی دیر کیلئے موخر ہو گیا تھا ۔ برادرم رؤف کلاسراکا کالم ’’ کہانی اگلے پچاس برسوں کی !‘‘ انتہائی غور سے پڑھا بلکہ بار بار پڑھا اور پھر یقین کر لیا کہ یہ کلاسرا صاحب نے ہی لکھا ہے لیکن یہ سمجھ نہیں پایا کہ اس تحریر کا مقصد کیا تھا ؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کہانی گزرے وقت کی ہوتی ہے نہ کہ آنے والے زمانے کی ۔ آنے والے دنوں کا یا تو تجزیہ ہوتا ہے یا پھر پیشین گوئی ! لیکن اگر برادرم روف کلاسرا آنے والے دنوں کی کوئی کہانی سنا کر ادب میں نیا اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو میں اُسے سننے کیلئے بھی تیار ہو ںلیکن ماننے کیلئے ہرگز نہیں ۔ صحافی اور سیاسی ورکر میں ایک بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ صحافی تبدیلی کا تعین اپنی عمر کے ساتھ کرتا ہے جبکہ حقیقی سیاسی ورکر ارتقاء کے نظریے پر یقین رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ درخت لگانے اور پھل کھانے والی نسلیں الگ الگ ہوتی ہیں۔
جہاں تک ٹرمپ کے صدر بننے کی بات ہے تووہ جمہوریت پسندوں کا نہیں عالمی سرمایہ داروں کاگماشتہ ہے اور پاکستان کی حالت تو یہ ہے کہ پاکستانی عوام نے آج تک ایک لمحے کیلئے جمہوریت نہیں دیکھی اور جسے ہم لوگ جمہوریت یعنی ڈیموکریسی سمجھتے ہیں وہ دراصل ایجنٹوکریسی ہے ۔ جب ایجنٹوکریسی کا تجزیہ ڈیموکریسی کے اصولوں پر ہو گا تو نتیجہ سوائے مایوسی کے اور کچھ برآمد نہیں ہو گا ۔میرے لیے حیران کن بات تو یہ ہے کہ آپ نے جن لوگوں کی سیاست اور تقاریر کا ذکر کیا ہے اُن میں سوائے اعتزاز احسن کے کسی کو بھی رعایتی نمبر نہیں دیئے جا سکتے ورنہ آپ خود ہی ’’ کہانی گزرے پچاس برسوںکی !‘‘ لکھ کر دیکھ لیں ۔ سب کردار برہنہ آپ کے سامنے رقص کر رہے ہوں گے ۔ صحافی کے دلوں میں جب صحافتی اصولوں کے بجائے سیاسی افراد کا رومانس جنم لے لے تو وہ کوئی بھی حقیقی تجزیہ کرنے کی صلاحیت کھوبیٹھتا ہے ۔رپورٹر جب رپورٹنگ میں اپنی خواہش اور تحقیق کرنے والے دوران ِ تحقیق اپنے پسندیدہ کرداروں کو چھپا لے تو پھر حالات ایسے ہی ہوں گے جیسے آ ج آپ کے سامنے ہیں ۔ پرویز مشرف کی آمریت تو انتہائی ہومیو پیتھک تھی ، مجھے معلوم نہیں کہ ضیاء الحق کے دور میں آپ کہاں تھے اور جتنی جرأت سے آپ نے مشرف دور میں لکھا ہے اور بلاشبہ لکھا ہے اگر ضیاء دور میں ایسا سوچتے بھی تو آج آپ کی اپنی کہانی دہائیوں پرانی ہو چکی ہوتی ۔ جو بات لوگوں کے ذہن میں واقعی آپ کا کالم پڑھنے کے بعد آنی تھی یعنی ’’مشہوری آپ کے دماغ کو چڑھ گئی ہے ‘ ،’’ اب آپ بند ے کو بندہ نہیں سمجھتے ، یقینا سیاستدانوں نے بھی کچھ ایسا کیا ہے کہ ہم نے اُن کی عزت کرنا چھوڑ دی ہے ‘ ‘،’’ جنرل مشرف کے دور میں ہم ان کی عزت کیوں کرتے تھے‘‘ تو یہ آپ کو ضرور سوچنا چاہیے، عزت واقعی بھیک میں نہیں ملتی اور کمائی میں بھی نہیں ملتی ورنہ پاکستان میں سب سے زیادہ قابل عزت و احترام مزدو اورکسان ہوتے جو پاکستان میں سب سے زیادہ کمائی کرتے ہیں اور سب سے زیادہ بے آبرو بھی ہیں۔
کلاسرا صاحب ! جمہوریت ناکام نہیں ہوئی کیونکہ جمہوریت تو آئی ہی نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے پاکستان میں ابھی سرچ نہیں ہوئی لیکن یہاں ریسرچر موجود ہے ۔ سیاست اور صحافت کی آنکھوں کو دوسرے کی آنکھوں کا تنکا نظر آ جاتا ہے لیکن اپنی آنکھوں میں گرے شہتیر دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں ۔ آپ نے انتہائی غلط اور ناقص لکھا کہ ’’ یہ زوال پیپلز پارٹی کے دور میں شروع ہواجب کئی ریاستی ادارے ایک ایک کرکے کرپٹ اور تباہ ہونا شروع ہو گئے ‘‘۔کاش آپ نے یہ تجزیہ بھی ضیاء دور سے شروع کیا ہوتا تو اداروں کی تباہی اور کرپشن کی داستانیں آپ کے سامنے پڑی ہوتیں۔ لیکن حیرت ہے کہ آپ نے ’’ کہانی اگلے پچاس برسوں کی ‘‘ لکھ کر گزشتہ پچاس برسوں کے تمام مجرموں کو معاف فرما دیا ہے ۔آپ نے خود لوگوں پر اعتماد کیا اور جب وہ لوگ آپ کے معیار پر پورے نہ اترے توآپ اُن سے مایوس ہو گئے۔
آپ کے کالم کا آخری پیراگراف میرے لیے انتہائی تکلیف کا باعث بنا جس میں آپ نے جہانگیر ترین اور عبد العلیم خان کے نام بغیر کسی وجہ کے ڈال دیئے ۔ چیئرمین تحریک انصاف کو مشورہ دینا آپ کا حق ہے لیکن کسی کی کردار کشی کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا ۔ جہاں تک جہانگیر خان ترین کی بات ہے تو وہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب سیکرٹری جنرل تھے اور جب سپریم کورٹ نے اُن کے خلاف فیصلہ دیا تو انہوں نے خود ہی اپنے عہدے سے استعفا دے دیا اور ری ویو میں چلے گئے ۔ نیب نے بلاشبہ عبد العلیم خان کو بلایا ہے او ر اُن سے کچھ دستاویزات طلب کی ہیں جو انہوں نے پیش بھی کردی ہیں ۔اُن کا معاملہ نیب خود دیکھ لے گی ۔ کیا پاکستان کے ادارے طلب کریں تو وہاں پیش ہونا توہین ہے ؟ عمران خان پر دہشتگردی کے مقدمات ہیں لیکن آپ نے چیئرمین تحریک انصاف کا ذکر نہیں کیا ۔چیئرمین کو عدالت نے صادق و امین اس لیے قرار دیا کہ وہ عدالت میں پیش ہوتے رہے ۔ اُس وقت آپ کو یہ لکھنا چاہیے تھا کہ یہ کیسا لیڈر ہے جو وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے لیکن آپ نے ایسا نہیں لکھا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ چیئرمین تحریک انصاف ہرمعاملے میں سرخرو ہو ں گے اور پھر عمران خان تو عمران خان ہے جسے پاکستانی نوجوان دیانتداری کی علامت سمجھتے ہیں ۔آپ نے عبد العلیم خان کے بارے اپنا تجزیہ نہیں بلکہ بغض کا اظہار کیا ہے جو کسی صورت آپ جیسے اچھی شہرت رکھنے والے صحافی کو زیب نہیں دیتا۔ کیا عبد العلیم خان کے اوپر کوئی مقدمہ کسی عدالت میں چل رہا ہے ؟ کیا وہ کسی مقدمہ میں پاکستان کی کسی عدالت کو مطلوب ہیں ؟ کیا پاکستان کے کسی ایک شہری نے بھی اُن کے خلاف کہیں کوئی درخواست دے رکھی ہے ؟ کیا اُن کا
نام پاکستان کا قومی خزانہ لوٹنے والوں کی فہرست میں شامل ہے ؟ کیا وہ ہر وقت خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کیلئے تیار نہیں ؟ عبد العلیم خان پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے صدر اورعمران خان کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں سے ایک ہیں ۔ آپ تحریک انصاف کے باہر کے لوگ ہیں اور اندر سے ملنے والی خبر بھی آپ کے پاس ناقص ہوتی ہے کہ آپ نے ایک نجی ٹی وی پر بیٹھ کر ایک بار پھر جہانگیر خان ترین ، عبد العلیم خان اور شعیب صدیقی کے بارے میں کہا کہ انہوں نے چوہدری سرور کے کچھ ووٹوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش بھی کی ہے ۔ میرے نزدیک ایسا بیان بغیر کسی ثبوت کے کسی سیاسی کارکن کو داغ دینا انتہائی غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ میں نے عمر بھر صحافی کے بجائے سیاسی ورکر کہلانے پر فخر محسوس کیا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ میں یہ سب کچھ نہیں کرسکتا جو مجھے آپ اور دوسرے لوگوں کی طرف سے ابھرتے سورج کے ساتھ ایڈیٹوریل پیج پر پڑھنے کو ملتا ہے اور ڈھلتے چاند کے ہمراہ میری سماعتوںپر اتنی گہری خراشیں ڈال دیتا ہے کہ ہفتوں کچھ بھی سننے کو جی نہیں چاہتا ۔


ای پیپر