عیسیٰ خیل سے عیسیٰ خیلوی تک
09 مارچ 2018 2018-03-09

1983ء کے بعد ایسے ایسے ہجر اور ہجرتوں سے واسطہ پڑا کہ میں اس شخص (جس کو پوری دنیا عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے نام سے جانتی ہے) سے رو گردانی نہ کر سکا۔ میری بیالیس سالہ زندگی میں پینتیس سال اس شخص کے گرد گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ میں انہیں اپنا لالہ بھی کہتا ہوں۔ اپنا پیرو مرشد بھی کہتا ہوں حتیٰ کہ اپنا معالج بھی کہتا ہوں۔ سب سے بڑی بات کہ انہوں نے ہمیشہ مجھ سے بڑے بھائی کی طرح سلوک کیا۔ ہمیشہ محبت اور شفقت کا سلوک روا رکھا۔

عطا اللہ عیسیٰ خیلوی 19 اگست 1951ء کو صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق قبائلی پٹھانوں کے نیازی قبیلہ سے ہے۔ آپ کا آبائی گھر عیسیٰ خیل کے محلہ بھمبراں میں تھا۔ (جو آج کل کسی اور کی ملکیت ہے) والدین مالی لحاظ سے متوسط درجے سے بھی نچلے درجے پر تھے۔عیسیٰ خیل کے شمالی بازار کے کونے پر والد کی آٹا مشین تھی۔ جس پر آپ میٹرک کی تعلیم تک باقاعدہ طور پر والد صاحب کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ گانے کا شوق بھی ساتھ ساتھ رہا۔ والد نے گانے سے بہت روکا۔ سختی سے روکا۔ مارکھائی مگر شوق سے پیچھے نہ ہٹے۔ والد صاحب کے خیال کے مطابق گانا بجانا مراثیوں کا کام ہے اور دوسرا والد صاحب عطا کو بہت بڑا افسر بنانا چاہتے تھے۔ آپ نے میٹرک عیسیٰ خیل ، ایف اے میانوالی اور بی اے کی ڈگری پرائیویٹ طور پر حاصل کی۔ تعلیم کے ساتھ آٹا مشین چھوڑ کر عیسیٰ خیل کے بازار میں الصدف جنرل سٹور بنا لیا اور والد صاحب کے ساتھ اسی کام میں لگ گئے۔ دن بھر جنرل سٹور پر کام کرتے اور رات کو دوستوں کے ہمراہ اپنے گانے کا شوق پورا کرتے۔ پھریوں ہوا کہ کئی بار اس موسیقی کی خاطر گھر چھوڑنا پڑا۔ دربدر کے دھکے کھانے پڑے۔ پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے ٹرک کلینر سے لے کر رکشہ ڈرائیوری کرنی پڑی۔ ہوٹلوں میں بطور ویٹر کام کرنا پڑا اوررات فٹ پاتھ پر گزارنا پڑی۔ مگر موسیقی کو خیرباد کہنا گوارا نہیں کیا۔ ان کے سکول دور کے استاد بخاری صاحب اور دوست پروفیسر منور علی ملک صاحب نے ان کو اندر جن جواہر کی نشاندہی کر دی تھی، ان جواہر نے آخر کندن بھی تو ہونا تھا۔ ایک دن فیصل آباد کا ایک شخص چودھری رحمت علی جو نبض شناس موسیقی تھا اور رحمت گرامو فون کمپنی کامالک بھی تھا، اس کے ہاتھ چلتی چلاتی ایک ٹوٹی پھوٹی کیسٹ پہنچی۔ وہ کیسٹ سنتے ہی اس آواز کے دیوانے ہو گئے۔ پوچھتے ، ڈھونڈتے آخر کو عیسیٰ خیل جا پہنچے۔ دبلے پتلے کمزور نحیف عطاء اللہ ساجد سے ملے۔ عرض کرتا چلوں عطاء اللہ پہلے شاہین اور پھر ساجد تخلص رکھتے تھے۔ عطاء نے فیصل آباد جانے کا وعدہ کر لیا مگر نہ گئے۔ رحمت صاحب دوسری دفعہ گئے، پھر وعدہ کیامگر نہ گئے (حالانکہ پٹھان وعدے کے پکے ہوتے ہیں) تیسری دفعہ رحمت صاحب عطاء کو اپنے ساتھ لے کرا گئے۔ یکے بعد دیگرے چار اہم ریکارڈ کرا دیے۔ عطا جو اس وقت گلوگاری کو صرف شوق کی حد تک زندگی اور موت کا مسئلہ بنائے ہوئے تھے، دوستوں کے اصرار پر باقاعدہ طور پر پروفیشنل کے اعتبار سے گلوکاری کے میدان میں آگئے۔ ان کیسٹوں کا بازا ر میں آنا تھا کہ ملک کے کونے کونے میں اس آواز کے ڈنکے بجنے لگے۔ وہ ریڈیو سٹیشن اور ٹیلی ویژن سٹیشن جو عطاء کو گلوکار جاننا تو ایک طرف اسٹیشن کی سیڑھیاں نہیں چڑھنے دیتے تھے انہوں نے عطاء سے رابطے شروع کر ریے۔ بہت سے لوگوں نے صرف عطاء کے کیسٹ سننے کے لیے ٹیپ ریکارڈر خرید لیے عطاء پر شہرت کے بام و در اس طرح سے وا ہوئے کہ عطا نے فجی کے جزائر سے لے کر افریقہ کے ریگستانوں تک پوری دنیا میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ عطاء نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ عطاء نے اب تک چالیس ہزار سے زائد گیت گائے اور اساتذہ کے کلام سے لے کر گمنام شاعر کے کلام کو بھی گایا۔ کچھ عرصہ فلمی دنیا میں گئے مگر جلد ہی اپنے اصل فن کی طرف لوٹ آئے۔ 1992ء میں آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے آپ کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آج بھی آپ کی شہر میں کمی نہیں آئی۔ دراصل آپ کے منفرد انداز اور گیت کو ڈوب کر ادا کرنے کے فن نے آپ کو بہت سے اپنے عصر گلوکاروں سے ایک الگ مقام دیا۔ اگر آج دنیا میں قصبہ عیسیٰ خیل کی پہچان ہے تو صرف عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی وجہ سے ہے۔ آپ دنیا کے جس کونے میں بھی گئے عیسی خیل آپ کے ساتھ گیا۔ ورنہ عیسیٰ خیل کی جغرافیائی حالت تو ایسی ہے کہ عطاء اللہ نہ ہوتے تو یہ محض میانوالی کی ایک پسماندہ تحصیل کے طور پر جانا جاتا۔ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی ملک عزیز کا وہ واحد فنکار ہے جس نے کبھی پڑوسی ملک انڈیا جانے کی خواہش ظاہر نہیں کی ۔ ورنہ ہمارے فنکار صرف ایک بلاوے پر انڈیا

بھاگے جاتے ہیں۔ انڈیا کو جب خود ضرورت پڑی تب اس نے اس عظیم گلوکار سے خود رابطہ کیا۔ اس سپوت نے وہاں جا کر ملک کی عزت میں اضافہ کیا اور وقار کو بلند کیا۔ عجز اور انکساری جیسے جذبات اس شخص میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی شہرت کے باوجود بھی عطاء نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ اتنے نامور ہیں۔ عیسیٰ خیل کی مرکزی جنازہ گاہ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کئی فلاحی کاموں میں پیش پیش رہے۔ سیلاب زدگان کے لیے ننگے پاؤں جھولی پھیلا کر فنڈز اکٹھے کرتے رہے۔ شوکت خانم ٹرسٹ کے لیے اندرون اور بیرون ملک عمران خان کے شانہ بشانہ رہے۔ میں آج ان کے لیے فخر پاکستان کا لقب تجویز کرتا ہوں۔ ایسے عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے اور نہ ہی مادر گیتی روز روز ایسے شخصوں کو جنم دیتی ہے۔ ہمارے اس سپوت پر تاریخ ہمیشہ فخر کرے گی۔


ای پیپر