تعلیمی اداروں کے کلچرل فیسٹیولز
09 مارچ 2018 2018-03-09

کسی بھی ملک یا صوبے کے کلچر کی وضاحت اس علاقے کی تہذیب و ثقافت سے ہوتی ہے۔تہذیب اور ثقافت میں زبان سے لے کر لباس اور رہن سہن تک کے تمام بنیادی عناصر شامل ہوتے ہیں۔یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ کلچر صرف لباس سے ہی نہیں بلکہ زبان اور فکر سے لے کر طرزِ زندگی اور اس کلچر کے مشاہیر کی سوچ اور رویوں تک کے تمام بنیادی عوامل سے ظاہر ہوتا ہے۔اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنے ملک کے مجموعی کلچر سے جڑی ہوئی نہ ہو۔اب یہاں کلچر کی تعریف بھی واضح کرتا چلوں‘علاقائی سرحدوں سے لے کر صوبائی سطح تک‘کلچراپنی الگ الگ شناخت رکھتا ہے۔ہر صوبہ اور علاقہ اپنی زبان اور لباس سے لے کر طرزِ زندگی تک دوسرے صوبے اور علاقے سے الگ ہوتاہے ۔اسی صورتحال کے پیشِ نظر ہمارے تعلیمی اداروں میں کلچرل فیسٹیول رکھے جاتے ہیں تاکہ ہم صوبائی تعصب اور لسانیاتی تقسیم سے آزاد ہو کر ایک قوم کی طرح سوچیں۔کیونکہ ہمارے پاس پوری ایک تاریخ موجود ہے کہ ہم نے کس طرح غلط تقسیم اور غلط فیصلوں سے بلوچستان کو اپنا دشمن بنایا۔ایک عرصہ تک بلوچی بھائی خود کو الگ سمجھتے تھے‘انہیں لگتا تھا کہ پاکستان بالخصوص پنجاب نے ہمارے حقوق غصب کیے‘وہاں قومی ترانے اور قومی پرچم لہرانے پر بھی پابندی تھی۔

آپ پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والی حالیہ بلوچی اور پشتون بھائیوں کی جنگ سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے اندر کتنی نفرتیں بھر چکی ہیں۔ہم ایک ملک کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو درندوں کی طرح نوچنے میں لگے ہیں۔ایک ہی تعلیمی ادارے میں ہوتے ہوئے ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہیں کیونکہ ہمارے ذہنوں میں یہ بھر دیا گیا ہے کہ پنجابی بلوچیوں کے اور بلوچی پشتونوں کے دشمن ہیں،یہ ایک دوسرے کے حقوق غصب کر رہے ہیں بالکل اسی طرح جیسے کراچی کے کچھ شرپسند عناصر کراچی کو الگ کرنے کے خواب دیکھتے تھے۔پنجاب یونیورسٹی اب تعلیمی ادارے سے زیادہ بلوچوں پشتونوں کے درمیان میدانِ جنگ زیادہ لگتا ہے۔بلوچی اپنا’’ کلچر ڈے‘‘ منائیں تو پشتون مارتے ہیں اور پشتون منائیں تو بلوچی قتل پہ اتر آتے ہیں اور پنجابی ان دونوں کے درمیان فضول میں پس رہے ہیں۔اس ساری صورت حال سے نام نہاد مذہبی جماعتوں نے کمال کا فائدہ اٹھایا‘انہوں نے وہی کام مذہب کا لبادہ اوڑھ کر کیا جو باقی صوبے کلچر کی آڑ میں کرتے رہے۔یہاں سوال تو یہ ہی بنتا ہے کہ کہاں کا کلچر اور کہاں کا مذہب۔سب مفادات کی جنگ لڑتے آ رہے ہیں۔

جب بھی کسی تعلیمی ادارے میں’’ کلچر ڈے‘‘ منایا جاتا ہے میں اپنے آپ سے یہ ضرور سوال کرتا ہوں کہ آخر اس دن کا ہمیں کیا فائدہ ہوا۔ہم ایک ہی ادارے میں رہتے ہوئے صوبائی یا لسانیاتی تقسیم ختم کرنا تو دو ر،ہم آپس کی مسلکی تقسیم بھی ختم نہیں کر سکے تو ’’کلچرڈے ‘‘کی کیا اہمیت ہوئی۔کیا ’’کلچر ڈے‘‘ کے تقاضے لباس کی تشہیر کرنے تک محدود ہو کر رہ گئے۔ڈھول پیٹنا اور لڑکیوں کا ڈانس کروانا‘آپس میں گیمز کروا دینا ہی’’ کلچر ڈے‘‘ رہ گیا۔یورپ میں جو کام ڈانس کلاسز سے لیا جاتا ہے وہ کام ہم کلچر فیسٹیول کے نام پر کر رہے ہیں۔مجھے نہیں لگتا اس طرح کے فیسٹیولز سے ہماری نئی نسل کو کوئی فائدہ ہوا ہو یا مستقبل میں ہو سکتا ہے جب تک کہ ہم فکری یا تہذیبی سطح پر ان کی ذہنیت تبدیل نہ کریں۔ہمیں نہ صرف لباس تک بلکہ کلچر میں موجود تمام بنیادی عناصر پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ کسی بھی ایسے تعلیمی ادارے میں چلے جائیں جہاں ہر سال باقاعدگی سے ’’کلچر ڈے‘‘منایا جاتا ہو‘ ان کے بچوں سے بلوچی‘پشتون یا پنجاب کی ہی تہذیب و ثقافت کا سوال پوچھ لیں‘یقین جانیں لباس کے علاوہ انہیں کسی بھی بات کا علم نہیں ہوگا کہ کلچر کن چیزوں کا مجموعہ ہے اور’’ کلچر ڈے‘‘ کا مقصد کیا ہے۔میں درجنوں بچوں کی مثالیں دے سکتا ہوں جنہیں صرف اتنا پتا ہے کہ’’ کلچر ڈے‘‘پہ نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں اور اساتذہ کرام کے ساتھ مل کر بھنگڑا ڈالا جاتا ہے‘اس کے علاوہ ان کا ذہن بالکل کورے کاغذ کی طرح ہے۔ضرورت تو اس امر کی تھی کہ اساتذہ کرام کسی کلچر کی تشہیر کرتے ہوئے لباس کے ساتھ ساتھ اس کلچر کے مشاہیر‘زبان‘تہذیبی فکر اور اس کے روایتی کھانوں سے متعارف کرواتے اور ساتھ ساتھ بچوں کے اندر سے آپس کی نفرتیں مٹانے اور ایک دوجے کے کلچر کے احترام کا درس دیتے مگر یہاں تو معاملہ بالکل ہی مختلف ہے‘’’کلچر ڈے‘‘والے دن بھی بچے آپس میں ایک دوسے کو مارنے پر لگے ہوئے ہیں یعنی جھگڑے تو ختم نہ ہوئے۔ مزید

تعلیمی ادارے اس دن کو گلیمرائز کر رہے ہیں یعنی غریب بچوں کو بھی پرائیویٹ اداروں کے اساتذہ مجبور کرتے ہیں کہ انہیں چاہے بھیک ہی کیوں نہ مانگنی پڑے‘وہ ’’کلچرڈے‘‘ منائیں۔یعنی گھر میں روٹی کھائیں یا نہ کھائیں ’’کلچر ڈے ‘‘پر بھنگڑا ضرور ڈالیں‘نیالباس لازمی پہنیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ کام کوئی ایک یا دو ادارے نہیں کر رہے‘آپ پاکستان میں موجود ننانوے فیصد پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کی فہرست نکال لیںاور ’’کلچر ڈے‘‘پر کیا جانے والے بچوں کے ڈانس‘رقص و سرور کی محافل کیا جائزہ لیں اور ایمانداری سے فیصلہ کریں کہ یہ ’’کلچر ڈے‘‘ منا کر ہم نئی نسل کو کیا درس دے رہے ہیں۔ اب تو نجی اداروں میں اساتذہ کرام بچوں سے زیادہ مضحکہ خیز حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں اور سہارا وہ بھی ’’کلچر ڈے‘‘کا ہی لیتے ہیں۔ بھائی یہ کون سا کلچر ہے جس میں اٹھارہ سالہ طالبہ کو نچایا جا رہا ہے اور میل اور فی میل اساتذہ کرام سیٹیوں اور تالیوں سے اسے داد دے رہے ہیں‘حد ہوتی ہے بے غیرتی اور بے حیائی کی۔


ای پیپر