چیئرمین سینٹ رضا ربانی کے قریبی ذرائع نے زرداری کے بیان کو غلط قرار دیدیا
09 مارچ 2018 (16:49) 2018-03-09

کراچی : سینٹ الیکشن کیا ہو ئے ملکی سیاست کا منظر نامہ ہی تبدیل ہو گیا ۔کل کے دشمن آج ایک ہی صفحہ پر نظر آ رہے ہیں ۔اب چاہے وہ ملکی مفاد میںہو یا ذاتی مفاد ۔ سینٹ چیئرمین شپ کیلئے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے ملک کی بڑی سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے سے بازی لے جانے پر ہیں ،نواز شریف نے رضا ربانی کا نام لے پیپلزپارٹی کو نئی مشکل میں ڈال دیا اور اگر یوں کہا جائے کہ پیپلزپارٹی میں اختلاف کھل کر سامنے آنے لگے ۔ زرداری صاحب نے رضا ربانی پر ایسے الزامات عائد کر دئیے جس کے بعد اب رضا ربانی کی طرف سے بھر پور جواب دیا گیا ہے ۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے قریبی ذرائع نے آصف زرداری کے ان کے بارے میں بیان کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ رضا ربانی کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بطور چئیرمین سینیٹ آئین کی بالا دستی کا تحفظ رضا ربانی کی اولین ترجیح رہی، حکومت وقت کے خلاف سب سے زیادہ رولنگ رضا ربانی نے دیں جن کی تعداد 73 ہے۔ ذرائع نے کہا کہ سینیٹ کی تاریخ میں پہلی باررضا ربانی نے وفاقی وزراء کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کی، بطور چئیرمین سینیٹ رضا ربانی نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کی رکنیت بھی معطل کی اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب نہ کرنے پر چیرمین سینیٹ نےحکومت کی سخت سرزنش کی جب کہ وفاقی حکومت کومشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرنے کے لیے دس دن کی مہلت دی۔

رضا ربانی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ خصوصی کمیٹی کے قیام سے اٹھارہویں ترمیم پہ عمل درآمد کو یقینی بنایا۔ چیئرمین سینیٹ کے ذرائع نے مزید کہا کہ وفاقی وزرا کے ایوان میں نہ آنے پر رضا ربانی بطور چیئرمین سینیٹ احتجاجاً کام چھوڑا۔ قریبی ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کے بیان پر چئیرمین سینیٹ رضا ربانی دل گرفتہ ہوئے لیکن انہوں نے پارٹی قیادت پر بدستور بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ رضا ربانی کو بطور چیئرمین سینیٹ کے امیدوار نامزد نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کے اہم رہنما نالاں ہیں۔


ای پیپر