مسلمان ممالک کے حکمران دشمنوں کے سہولت کار ہیں:خواجہ آصف
09 مارچ 2018 (16:09)

اسلام آباد : خواجہ آصف نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے در پردہ حقائق کا سامنے لاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سمیت تمام مسلم ممالک کو ایک ہونا چاہیے ۔ امت مسلمہ اس وقت بڑے مشکل حالات سے گزر رہی ہے جس کیلئے ضروری ہے کے مسلم ممالک میں اتحاد پیدا کیا جائے ۔ وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کسی اور ملک اور طاقت کے مفادات کا تحفظ نہیں کرے گا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارا دشمن سمندر پار سے آکر شام، افغانستان اور دیگر ممالک سے خون کی ہولی کھیل رہا ہے، مسلم امہ کا شیرازا بکھیرا جارہا ہے اور مسلمان ممالک کے حکمران دشمنوں کے سہولت کاربنے ہوئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور سعودی عرب میں اختلافات ہیں تو اس کے خاتمے کے لیے دعاگو ہیں لیکن ہم نے کسی کی پراکسی بننے سے انکار کردیا ہے، ہم نے یمن کی جنگ میں شرکت نہیں کی ، نہیں چاہتے کہ امت میں انتشارہو۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے ملک کے مفادات کے لیے قربانیوں دیں، دنیا کومعلوم ہے کہ داعش کو کون لے کرآیا، ہم نے روس کے خلاف میڈ ان امریکہ جہاد لڑا، سب کو پتہ ہے کہ داعش کے پیچھے کون ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یمن جنگ میں شرکت نہیں کی ، پاکستان نے اب پراکسی نہ بننے کا فیصلہ کرلیا ہے، وہ آج بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان پراکسی بن کرافغانستان میں ان کے مفادات کا تحفظ کرے اورپاکستان اب کسی اورکے مفادات کا تحفظ نہیں کرے گا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم اس لئے ہدف ہیں کہ دنیا کا ایک عام مسلمان چاہتا ہے کہ پاکستان آکر ہمیں بچائے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ ہم حقانی نیٹ ورک کے سہولت کارہیں، کسی سپر پاورکی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن ہو، جن کے پاس 43 فیصد افغان سرزمین ہے ان کو ہماری کیا ضرورت ہے، ایوان میں امت مسلمہ کی موجودہ صورتحال پر بحث ہونی چاہیے، کل کو ہم بھی نشانہ بن سکتے ہیں اور ہم ان کے نشانے پر ہیں ۔


ای پیپر